بلدیہ تانڈور کی پانچ سالہ معیاد ختم، آخری اجلاس کا انعقاد، رکن اسمبلی منوہر ریڈی کی شرکت، بی آر ایس کے ارکان بلدیہ کا احتجاج

بلدیہ تانڈور کی پانچ سالہ معیاد ختم، آخری اجلاس کا انعقاد
رکن اسمبلی منوہر ریڈی کی شرکت، بی آر ایس پارٹی کے ارکان بلدیہ کا احتجاج

وقارآباد/تانڈور: 26۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ میں 26 جنوری کو 120 بلدیات اور 9 میونسپل کارپوریشنس کی پانچ سالہ معیاد اختتام کو پہنچی ہے۔ان بلدیات کے انتخابات جنوری 2020 میں منعقد ہوئےتھے۔آج 26 جنوری کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ جی او ایم ایس نمبر 15 میں بتایا گیا ہے کہ اپنی معیاد مکمل کرچکیں ان 129 بلدیات اور کارپوریشنس کا نظم و نسق بلدیات کے آئندہ انتخابات کاعمل مکمل ہونے تک اسپیشل آفیسرز کی زیر نگرانی چلایا جائے گا۔جبکہ کریم نگر میونسپل کارپوریشن کی معیاد 28 جنوری کو مکمل ہوگی۔جسکے بعد ریاست میں 120 بلدیات اور 10 میونسپل کارپوریشنس کی پانچ سالہ معیاد ماہ جنوری میں ختم ہو جائے گی۔
اسی طرح بلدیہ تانڈور کی پانچ سالہ معیاد بھی 26 جنوری کو ختم ہوگئی۔اب بلدیہ تانڈور اسپیشل آفیسر (ایڈیشنل کلکٹر) کی نگرانی میں کام کرے گی۔
بلدیہ تانڈور کا آخری ماہانہ اجلاس صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کی زیر صدارت 25 جنوری کو دفتر بلدیہ کے میٹنگ ہال میں منعقد ہوا جس میں بطور مہمان خصوصی رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے شرکت کی۔36 رکنی بلدیہ تانڈور کے اس پانچ گھنٹے طویل آخری اجلاس میں 38 نکاتی ایجنڈہ پر بحث و مباحث ہوئے۔جس میں کمشنر بلدیہ وکرم سمہاریڈی، کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان بلدیہ نے شرکت کی۔

رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے اس اجلاس کے بعد صدرنشین بلدیہ کیساتھ پریس کانفرنس سے منعقد کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ تانڈور کی پانچ سالہ معیاد کے دوران شہر اور بلدی حلقوں کی ترقی صرف آخری ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ تانڈور کی مثالی ترقی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران بی آر ایس دور حکومت میں بلدیہ تانڈور کے ذریعہ 10 کروڑ کے ترقیاتی کام بھی انجام نہیں دئیے گئے اور کنٹراکٹرس کو 30 تا 40 کروڑ روپئے کے بلس ادا نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد تانڈور میں گذشتہ ایک سال کے دوران زائد از 25 کروڑ روپئے کے مختلف ترقیاتی کام انجام دئیے گئے جس میں سے 20 کروڑ روپئے کا فنڈ بلدیہ تانڈور کا ہی ہے۔

رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد روڈ اور دیگر مقامات پر ہر سال بارش کے موسم میں سیلابی صورتحال اور سڑکوں پر پانی کے ذخیرہ جیسی پریشانیوں کو ختم کرنے کی غرض سے چلکا واگو پر غیر مجاز قبضے برخاست کرتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے 16 کروڑ روپئے مختص کیے گئے اور مزید 25 کروڑ روپئے کے ٹنڈرطلب کرتے ہوئے کاموں کی تکمیل کی جائے گی۔رکن اسمبلی نے کہاکہ دس کروڑ کے صرفہ سے گولا چیرو کے پانی کی صفائی انجام دی جارہی ہے۔اسی طرح امرت 0-2 اسکیم کے تحت منظورہ 27 کروڑ روپیوں کے فنڈ سے تانڈور میں موجود جدید کالونیوں میں واٹر ٹینکس کی تعمیر کے علاوہ ترقیاتی کام انجام دئیے جائیں گے۔
رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے کہا کہ موسم گرما میں تانڈور کےعوام کو پانی کی قلت سے محفوظ رکھنے کے لیے کاگنا ندی میں موجود پمپ ہاوز کی مرمت کا منصوبہ بنایا گیا ہے، برقی موٹرز کی مرمت اور پائپ لائن کے لیے 35 کروڑ روپئے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔اسی طرح بلدیہ تانڈور کے 75 سال کی تکمیل پر تانڈور میں ڈرینج سسٹم بنانے کے لیے بھی منصوبہ تیار کرلیا گیاہے جس پر 500 کروڑ روپئے صرف ہونگے اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے تعاون سے اس کو مکمل کیا جائے گا۔رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے اس عزم کا اظہار کیاکہ مستقبل میں تانڈور کو مثالی ترقی دی جائے گی۔قبل ازیں دفتر بلدیہ پہنچنے پر صدرنشین، ارکان بلدیہ اور عہدیداران بلدیہ نے رکن اسمبلی کا استقبال کیا۔

صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ انکے پانچ سالہ دور میں تمام کے تعاون سے تانڈور کی ترقی کو یقینی بنایا گیا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کوویڈ وبا، اسمبلی و پارلیمانی انتخابات اور پارٹی میں رسہ کشی کے باعث بلدیہ کے معیاد کے چار سال کے دوران ترقی ٹھپ ہوگئی تھی تاہم رکن اسمبلی منوہر ریڈی کے تعاون سے گذشتہ ایک سال کے دوران پارٹیوں سے قطع نظر تمام بلدی حلقہ جات میں مختلف ترقیاتی کام انجام دئیے گئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہر قسم کے تعاون کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بلدیہ نے صرف سیاسی مخالفت ہی کی حتی کہ بلدیہ کے اس آخری اجلاس میں بھی سیاسی کھیل کھیلتے ہوئے احتجاج کیا گیا۔
دوسری جانب بلدیہ تانڈور کے اس آخری اجلاس کے اختتام کے بعد بی آر ایس پارٹی سے تعلق رکھنے والےنائب صدرنشین بلدیہ دیپا نرسملو، فلور لیڈر شوبھا رانی اور ارکان بلدیہ مختار احمد ناز،سرینواس ریڈی،محمد آصف،محمد اسلم، راگھویندر،سنگیتا ٹھاکر، لتا گوڑ،ایرم وسنتا اور دیگر نے میٹنگ ہال کے باب الداخلہ پر بیٹھ کر احتجاج منظم کیا۔

ان کا الزام تھا کہ بلدیہ کے آخری اجلاس میں بھی انہیں بات کرنے اور عوام کو درپیش مسائل سے واقف کروانے کا موقع نہیں دیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل نے اپنے شروعاتی چار سال کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے ذریعہ بلدی نظم و نسق چلایا ہے۔اور ہٹ دھرمی و من مانی کیساتھ انہوں نے بلدیہ میں اپنے عہدہ کے معیاد کی تکمیل کی ہے۔جبکہ بی جے پی اور ٹی جے ایس کے ارکان بلدیہ کیساتھ مل کر یکطرفہ طریقہ سے بلدیہ تانڈور کاآخری اجلاس منعقد کیا گیا۔