تمام گھریلو صارفین کے لیے پکوان گیس سیلنڈر کی قیمتوں میں 200 روپے کی کمی
مرکز ی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ، وزیراعظم کا خواتین کو رکھشا بندھن اور اونم کا تحفہ
نئی دہلی : 29۔اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
مرکز ی حکومت نے آج منگل کے دن منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں تمام گھریلو پکوان گیس صارفین کےلیے پکوان گیس سیلنڈرکی قیمتوں میں فی کس 200 روپے کی کمی کا فیصلہ کرتےہوئے مہنگائی سے پریشان عوام کو راحت دینے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی کابینہ نے اجولا اسکیم کےتحت اضافی سبسڈی کومنظوری دے دی ہے۔اضافی سبسڈی 200 روپے ہے اب پردھان منتری اجولا یوجنا PMUY# کے استفادہ کنندگان کے لیے ہکوان گیس سیلنڈر پر 400 روپئے کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس وقت نئی دہلی میں 14.2 کلوگرام کے حامل پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت 1,103 روپے ہے۔کل چہارشنبہ 30 اگست سےاس کی قیمت 903 روپئے ہو جائے گی۔اسی طرح، 200 روپئے فی سلنڈر سبسڈی کو جاری رکھنے پرغور کرنے کے بعد اجولا سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے قیمت 703 روپئے فی سیلنڈر ہوگی۔جبکہ حیدرآباد میں موجودہ قیمت 1,155 روپئے سے گھٹ کر 955 روپئے ہوجائے گی۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ وزیراعظم نریندرمودی نے گھریلو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 200 روپے کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام پکوان گیس صارفین کے لیے یہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کی خواتین کے لیے رکھشا بندھن اور اونم کےموقع پر یہ ایک تحفہ ہے۔
مرکزی وزیر انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ انوراگ ٹھاکر نےکہاکہ 2014 میں جب ہم پہلی بار اقتدارمیں آئےتھے،اس وقت صرف 14.5 کروڑ شہریوں کے پاس گھریلو ہکوان گیس کنکشن تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج یہ تعداد بڑھ کر 33 کروڑ ہو گئی ہے جس میں 9.6 کروڑ اجولا سکیم کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کہاجارہاہےکہ جاریہ سال کے اواخر میں چونکہ ملک کی چار ریاستوں مدھیہ پردیش،تلنگانہ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اسمبلی انتخابات ہونےوالے ہیں تومہنگائی سے پریشان رائے دہندوں کو راغب کرنے کی غرض سے یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔!!
آج مرکزی حکومت کی جانب سے پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 200 روپئے کی کمی کےاعلان کےبعد ملک کےمختلف شہروں میں گھریلو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمتیں اس طرح ہوں گی۔جس کا اطلاق کل چہارشنبہ 30 اگست سے ہوگا۔
نئی دہلی میں : 903 روپئے
حیدرآباد میں : 955 روپئے
بھوپال : 908 روپئے 50 پیسے
ممبئی میں : 902 روپئے 50 پیسے
بنگلورو میں : 905 روپئے 50 پیسے
کولکاتا میں : 929 روپئے
پٹنہ میں : 1,002 روپئے
چنئی میں : 918 روپئے
لکھنؤ میں : 940 روپئے
گرگاؤں میں : 911 روپئے
نوئیڈہ میں : 900 روپئے
جئے پور میں: 906 روپئے
بھوبنیشور میں : 929 روپئے
یاد رہے کہ امرت کال کے بعد جاریہ مہا کال سے فیضیاب ہونے والے، تمام اشیائے ضروریہ سے لے کر پٹرول اور ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں، بیروزگاری، ملازمتوں سےمحرومی،آمدنی میں کمی،اخراجات میں اضافہ اور دیگرمسائل سے پہلےہی سے پریشان مڈل کلاس اور غریب طبقہ کو جاریہ سال یکم مارچ کو ملک کی آئیل کمپنیوں نے ایک اورجھٹکادیتےہوئے 14.2 کلوکےحامل گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں فی سیلنڈر 50 روپئے کا اضافہ کیا تھا۔اضافہ شدہ قیمت کا یکم مارچ سے ہی پورے ملک میں اطلاق ہوگیا تھا۔قبل ازیں گذشتہ سال 6 جولائی کو گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگاکہ گذشتہ 6 سال کےدؤران گیس کی قیمتوں میں 59 مرتبہ اضافہ اور کمی کی گئی ہے۔مرکزی محکمہ پٹرولیم کے گذشتہ سال ماہ ستمبرکے اعداد وشمار کے مطابق یکم اپریل 2017 سے 6 جولائی 2022ء تک 58 مرتبہ گیس کی قیمتوں میں کمی بیشی کی گئی ہے۔جس کے دوران گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 45 فیصد اضافہ ہواہے۔اپریل 2017 میں پکوان گیس فی سیلنڈر 723 روپئے تھی تو جولائی 2022 تک یہ قیمت بڑھ کر 1,053 روپئے تک پہنچ گئی تھی۔
وزارت پٹرولیم کے ڈیٹا کے مطابق یکم جولائی 2021ء سے 6 جولائی 2022ء تک ایک سال کےدؤران پکوان گیس کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔جولائی 2021 میں جہاں گھریلو پکوان گیس کی قیمت فی سیلنڈر 834 روپئےتھی جو جولائی 2022ء تک اسی گیس سیلنڈر کی قیمت 1.053 روپئے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب ریاستی ٹیکسوں اور ٹرانسپورٹ کے ذریعہ منتقلی کے باعث ملک کےمختلف شہروں میں پکوان گیس سیلنڈرس کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے۔

" یہ بھی پڑھیں ”

