فلم کشمیر فائلز بہانہ ،مسلمان نشانہ!! فلم دیکھنے والے مسلمانوں کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں ؟

فلم کشمیرفائلز بہانہ،مسلمان نشانہ!! 
فلم دیکھنے والے مسلمانوں کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں؟
سوشل میڈیا پر فلم کی تائید،مخالفت اور دھمکی آمیز ویڈیوز کا سیلاب
ونود کاپری نے "گجرات فائلز” بنانے اور فلم کی نمائش کے لیے وزیراعظم کا تیقن طلب کیا

نئی دہلی/ممبئی: 21۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک )

فلمیں ادب اور فن کسی بھی ملک کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ ہوتے ہیں۔جن کے ذریعہ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ محبت اور انسانی جذبات کو عام کرنا انسانی میراث ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر فلم کا اختتام حق وانصاف کی جیت اور ویلن کے خاتمہ کے ساتھ ہوتاہے!!ایک زمانہ ہوا کرتا تھا کہ فلمیں ناظرین کو ہنساتی بھی تھیں اور رُلا بھی دیتی تھیں۔

بالی ووڈ کے علاوہ علاقائی زبانوں کی فلموں نے ملک کے عوام کو کئی ایسی سماجی،معاشرتی اور سیاسی موضوعات پر بہترین اور سبق آموز فلمیں دی ہیں جس سے تمام فرقوں اور مذاہب کے درمیان قومی یکجہتی مضبوط ہوئی ہے۔بالی ووڈ خود ہمیشہ سے ہی قومی یکجہتی کی زندہ مثال رہی ہے۔جہاں شکیل بدایونی،ساحر لدھیانوی جیسے گیت گاروں نے کئی ایسے بھجن لکھے ہیں جس کی موسیقی نوشاد نے دی ہے اور اس کو محمد رفیع نے گایا ہے اور یہ بھجن آج بھی منادر میں بجائے اور گائے جاتے ہیں۔جو کہ اس ملک کی قومی یکجتہی کی ایک عمدہ اور بہترین مثال ہے۔بالی ووڈ میں مذاہب اور ذات پات کی سیاست ہمیشہ ناکام ہی رہی صرف فن کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

لیکن ان دنوں فلم” دی کشمیرفائلز ” نے ایک نیا رحجان پیدا کردیا ہے کہ جذباتی ناظرین کو جہاں یہ فلم رُلارہی ہے وہیں ان میں سے زیادہ تر ناظرین کا اس فلم کو دیکھ کرمسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کرنا اور دھمکیاں دئیے جانے کا مطلب سمجھ سے باہر ہے!جبکہ اس فلم کی کہانی سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا کوئی لینا دینا بھی نہیں ہےاورمورخین کے مطابق جو کچھ ہوا وہ دہشت گردانہ قابل مذمت حرکت تھی۔

ان دنوں ملک میں فلم”کشمیر فائلز” The Kashmir Files میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔اس فلم کے خلاف الزامات عائد کیے جارہے ہیں کہ یہ فلم اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے بجائے مزید دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔!!

فلم کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری ہیں۔اس فلم کے اداکاروں میں انوپم کھیر،متھن چکرورتی،پنیت اسار،درشن کمار،پلوی جوشی و دیگر شامل ہیں۔اس فلم کی کہانی وویک اگنی ہوتری اور ساوربھ ایم پانڈے نے لکھی ہے۔

فلم کشمیر فائلز 11 مارچ 2022 کو ملک کی سینماگھروں میں ریلیز کی گئی ہے۔1990ء کی دہائی میں اس وقت کی طویل شورش زدہ ریاست کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور کشمیر سے ان کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے واقعات پرمشتمل اس فلم کی ریلیز کے بعد سےسوشل میڈیا کے تقریباً پلیٹ فارمز پر شدید مباحث جاری ہیں۔8 دنوں میں اس فلم نے 116 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کیا ہے،جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

جہاں ایک بہت بڑا گروپ فلم کشمیرفائلز کی تائید کررہا ہے تو دوسرا گروپ اس فلم کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ بتا رہا ہے!!

دوسری جانب فلم کشمیرفائلز دیکھنے کے بعد سینما تھیٹروں میں ہی ناظرین کے گروپس کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اہانت آمیز الفاظ کے استعمال اور دھمکیوں پرمشتمل ویڈیوز باقاعدہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کا زہر کس قدر سرائیت کرچکا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ کشمیرفائلز کی نمائش کے دؤران سینماتھیٹروں کے اندر اور باہر جئے شری رام،بھارت ماتا کی جئے اور بی جے پی زندہ باد کے نعرے لگائے جارہے ہیں؟ایک ایسا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں فلم کے اختتام کے بعد ایک نوجوان باقاعدہ فلم دیکھنے والوں کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ مسلم لڑکیوں سے شادیاں کرکے ہم اس کا بدلہ لیتے ہوئے اپنی آبادی بڑھا سکتے ہیں!!

چند ایسے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں فلم کشمیرفائلز دیکھنے کے بعد سینما تھیٹروں میں ہی کھلے طور پرمسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہوئے ناظرین کو اکسایا جارہا ہے!! تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کی ایک سینما تھیٹر کا بھی ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں خان اداکاروں کے ساتھ ساتھ ممتا بنرجی، مایا وتی کے علاوہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کے خلاف بھی غیرمہذب الفاظ استعمال کیے گئے ہیں!

 

وہیں اترپردیش کے بجنور کی ایک سینما تھیٹر میں کشمیر فائلز کئ نمائنش کے اختتام کے بعد سینما دیکھنے والوں کی جانب سے”جب مُلّے کاٹے جائیں گے۔رام رام چلائیں گے”جیسے انتتہائی اشتعال انگیز نعروں کے ساتھ بی جے پی زندہ باد،بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم کے نعرے بھی لگائے جارہے ہیں اور یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔

ٹوئٹر پرمشہور فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews# کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر MohammedZubair@ نے 16 مارچ کو اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے فلم کشمیر فائلز کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری اور اداکار انوپم کھیر کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” ہیلو، مبارک ہو!۔نفرت پھیلانے والے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ہریدوار میں کہی گئی باتیں آپ کی فلم KashmirFiles# دیکھنے کے بعد ‘پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذریعہ تھیٹر کے اندر دُہرائی جارہی ہیں”۔

مسلمانوں اور انصاف پسند شہریوں کو مضطرب کردینے والے ان ویڈیوز کو دیکھ کرسوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جب کشمیر میں دہشت گردی اور علحدگی پسند طاقتوں ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی بھی تائید نہیں کی۔ اور کشمیر معاملہ میں کسی بھی معاملہ میں آج تک کسی بھی ہندوستانی مسلمان نےکبھی کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بیان بازی کی گئی تو پھرہندوستانی مسلمانوں کو ایسی دھمکیاں کیوں دی جارہی ہیں اور ان دھمکیوں کے خلاف حکومت اور پولیس خاموش کیوں ہے؟

سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ 19 جنوری 1990 کو اور اس سے قبل یا بعد کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے!اور اس فلم کے ذریعہ پہلے ہی سے فرقہ وارانہ طور پر متاثر ہندوستان کے ماحول کو مزید بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے؟۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 19 جنوری 1990ء کو کشمیر کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکرس سے اعلانات کئے گئے تھے کہ”کشمیری پنڈت کافر ہیں“وہ یا تو اسلام کے دائرہ میں داخل ہوجائیں یا پھر ”پنڈٹ مردود“علاقہ سے نکل جائیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ وہ دہشت گرد تھے جو پڑوسی ملک سے داخل ہوئے تھے!! یقینی طور پر انسانی تاریخ کا یہ ایک افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے۔
تاہم مساجد کے لاؤڈاسپیکر سے اس طرح کا اعلان کرنے والوں کے ساتھ اس وقت کے گورنرکشمیر جگموہن بھی ذمہ دار مانے جائیں۔جنہوں نے کشمیری پنڈتوں کی فوری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے بجائے پنڈتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہوجانے کا مشورہ دیا تھا۔ہونا تو یہ چاہئے تھے کہ ان عناصر کی نشاندہی کی جاتی ان کے خلاف فوج اور پولیس کے ذریعہ سخت کارروائی کو یقینی بنایا جاتا۔
گورنر جگموہن کے اس اعلان کے بعد سینکڑوں کشمیری پنڈت جموں کے ریلیف کیمپس،دہلی،ممبئی،کولکتہ،ہماچل پردیش کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے جو کہ انتہائی کربناک واقعات تھے کہ یہ لوگ اپنی زمینیں اور جائدادیں چھوڑکر خود اپنے ملک میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔بعدازاں انہیں مرکزی حکومتوں نے تمام سہولتیں، کالونیز، ملازمت اور وظیفہ فراہم کیا۔لیکن اس کے بعد بھی جو نقل مکانی کا کرب تھا وہ واقعی دردناک ہی کہا جاسکتا ہے جسے انسانی پہلو سے ہرگز سہی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہاں یہ تذکرہ لازمی ہے کہ اس وقت یعنی 1989 تا 1990 میں مرکز میں مختلف سیاسی جماعتوں پرمشتمل”نیشنل فرنٹ” کی حکومت تھی جو مختلف علاقائی جماعتوں کے اتحادی جنتادل کے 143،بی جے پی کے 85 اور دیگر علاقائی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کی تائید سےتشکیل دی گئی تھی۔اور اس وقت”وشواناتھ پرتاپ سنگھ(وی پی سنگھ) اس ملک کے وزیراعظم تھے۔
وی پی سنگھ کی اس حکومت کو اٹل بہاری واجپائی،سابق مرکزی وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے اہم بی جے پی قائدین پرمشتمل بی جے پی نے باہر سے حمایت حاصل کی تھی اور بی جے پی حکومت میں شامل نہیں ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اس وقت کیوں بی جے پی کے ان بڑے قائدین نے کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف وی پی سنگھ حکومت کی تائید واپس نہیں لی؟اور کیوں کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے قتل پر خاموشی اختیار کی؟ وہ چاہتے تو اپنی بیساکھی کھینچ کر وی پی سنگھ حکومت کو گراسکتے تھے!!
یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو ظلم ہورہا تھا اور انہیں کشمیر چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں ان کا قتل ہورہا تھا تو ایسے میں گورنر جگموہن جو کہ مکمل طور پر ناکام اور نااہل ثابت ہوئے تھے تو اس وقت کی بی جے پی کی تائیدی مرکزی حکومت اور وزیراعظم وی پی سنگھ نے فوری جگموہن کو عہدہ سے کیوں برخاست نہیں کیا؟اور کیوں ان کشمیری عسکریت پسندوں اور پاکستانی دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن کا حکم نہیں دیا گیا؟جبکہ اس معاملہ میں کشمیر کے گورنر جگموہن کا ریکارڈ ہمیشہ سے متنازعہ،مشکوک اور قابل مذمت رہا ہے۔
اسی طرح بی جے پی سے یہ سوال بھی کیے جارہے ہیں کہ 1998 تا 2004 اس ملک میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت قائم تھی جس میں لال کرشن اڈوانی نائب وزیراعظم اور مرکزی وزیرداخلہ تھے۔پھر 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ کشمیری پنڈتوں کی کشمیر میں دوبارہ بازآبادکاری عمل میں لائی جائے گی اور ساتھ ہی انہیں ان کے تمام حقوق واپس دلائے جائیں گے!
وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت اس ملک کے عوام کے سامنے یہ واضح کردیں کہ اس 8 سالہ جاریہ بی جے پی دؤر اقتدار میں کتنے کشمیری پنڈتوں کو واپس کشمیر میں بسایا گیا؟اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کتنی رقم صرف کی گئی جس کے وہ حقدار ہیں!
اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے دؤر اقتدار میں 6،000 پنڈتوں کو کشمیر میں دوبارہ بسایا گیا ہےجس کی کشمیری پنڈت نفی کرتے ہیں!!
سوشل میڈیا پر نقل مکانی کرنے والے کئی کشمیری پنڈتوں کے ایسے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے ہیں جس میں وہ بتارہے ہیں کہ مقامی مسلمان اس میں ملوث نہیں تھے اور جب کبھی ضرورت پڑی مقامی مسلمانوں نے ان کشمیری پنڈتوں کے لیے ایک ڈھال کا کام کررہے تھے۔وہیں ایک کشمیری پنڈت کا ایسا ویڈیو بھی وائرل ہے کہ اس وقت خود ان کے دوست اور پڑوسی نے انہیں دھمکایا کہ بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ فوری کشمیر چھوڑدیں اور اسی نے کار کے ذریعہ انہیں وہاں سے منتقل کیا!!
مشہور تاریخ داں و کشمیر نامہ،کشمیر اور کشمیری پنڈت اور اس نے گاندھی کو کیوں مارا جیسی کئی کتابوں کے مورخ مسٹر اشوک کمار پانڈے AshokKumarPandey@ نے کشمیرفائلز فلم دیکھنے کے بعد 49 منٹ کا ایک تفصیلی ویڈیو بنایا ہے جو کہ یوٹیوب پر موجود ہے۔جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیرفائلز میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی نقل مکانی کے متعلق صرف ایک پہلو دکھایا گیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کے ذمہ دار کشمیری مسلمان ہیں۔جوکہ غلط ہے جبکہ کشمیری مسلمان ہمیشہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کا ساتھ دیا!!

تاریخ داں اشوک کمار پانڈے کا 49 منٹ طویل مکمل حقائق پرمشتمل ویڈیو اس یوٹیوب لنک پر موجود ہے"

 

یہ تذکرہ بھی لازمی ہے کہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وویک اگنی ہوتری نے فلم کشمیر فائلز میں 4،000کشمیری پنڈتوں اور کشمیری ہندؤں کے قتل کی کہانی پیش کی ہے۔جبکہ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں 1989-1990 میں 219 کشمیری پنڈتوں کو قتل کیا گیا تھا۔

جبکہ کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی یہ تعداد 650 بتاتی ہے،1991ء میں آر ایس ایس پبلیکیشن نے مہلوک کشمیری پنڈتوں کی تعداد 600 بتائی تھی۔!!وہیں سوشل میڈیا پر وائرل اطلاعات کے مطابق 69 کشمیری پنڈتوں کے قتل کی اطلاعات ہیں؟۔تعداد چاہے جتنی بھی ہو لیکن انسانی پہلو سے یہ واقعی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔

"کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی،سرینگر”نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ہرکشمیری مسلمان دہشت گرد نہیں ہے،ہر کشمیری پنڈت فرقہ پرست نہیں ہے۔ہم دونوں کاایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں،پیار کرتے ہیں اور اپنا درد بانٹتے ہیں۔جس سے ہر کشمیری گزشتہ 32 سالوں سے گزرا ہے”۔ 

جبکہ”کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی،سرینگر”نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”کشمیرفائلز”کشمیر میں موجود کشمیری پنڈتوں کوغیرمحفوظ بنارہی ہے”۔

 

ملک بھر میں اور سوشل میڈیا پر فلم کشمیرفائلز کی جہاں مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیے جارہے ہیں کہ یہ فلم ایک خاص ایجنڈہ کے تحت بنائی گئی ہے اور اس سے ملک میں فرقہ پرستی عام ہوگی اور ہندو۔مسلم نفرت مزید گہری ہوگی۔

فلم کشمیر فائلز کو بیشتر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں بشمول اتر پردیش،تریپورہ،گوا،ہریانہ،گجرات اور اتراکھنڈ میں”ٹیکس فری” قرار دیا گیا ہے۔چند بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں بشمول محکمہ پولیس تمام سرکاری محکمہ جات کے ملازمین کو کشمیرفائلز فلم دیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں نصف دن کی چھٹی دی جارہی ہے۔جس میں آسام اور مدھیہ پردیش شامل ہیں۔

ایسے میں وزیراعظم نریندرمودی نے گزشتہ دنوں چار ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد بی جے پی کے ارکان پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کے دؤران فلم ‘دی کشمیر فائلز’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم نے پورے ماحولیاتی نظام کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔جو کہ آزادی اظہار رائے کے مشعل بردار ہونے کادعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ سچ نہیں بتانا چاہتے۔

وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ یہ کسی فلم کا مسئلہ نہیں ہے،بلکہ سچائی کو ملک کے سامنے لانے اور تاریخ کو اس کےصحیح تناظر میں پیش کرنے کا مسئلہ ہے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ”جماعتوں”نے اسے طویل عرصے سے”دبایا” تھا۔جماعتوں کا مطلب کیا ہے یہ وزیراعظم ہی جانتے ہیں!! وزیراعظم نے اپنے اس خطاب میں فلموں کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی کو دنیا نے اس وقت جانا جب فلم گاندھی بنائی گئی!! 

جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فلم کشمیر فائلز کو سچائی کی جرات مندانہ نمائندگی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلم نے دنیا کے سامنے کشمیری پنڈتوں کی قربانی،ناقابل برداشت درد اور جدوجہد کو اجاگر کیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے فلم کشمیرفائلز کی ریلیز کے بعد اس کے ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری،اداکار انوپم کھیر اور پلوی جوشی نے ملاقات  کی۔

جموں میں مقیم کشمیری پنڈتوں نے فلم کشمیرفائلز پر بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ”یہ فلم 2024 کے انتخابات کا اسٹنٹ ہے،اس قسم کی فلمیں فاصلے پیدا کریں گی”۔(ویڈیو : بشکریہ بی بی سی)

دوسری جانب فلم کشمیرفائلز کی پیشکش اور اس کی تشہیر میں مصروف مرکزی حکومت،وزرائے اعلیٰ،مرکزی وزرا، بی جے پی قائدین اور ان کے حامیوں سے سوشل میڈیا پر سوال کیا جارہا ہے کہ کشمیر میں 32 سال قبل پیش آئے کشمیری پنڈتوں کے قتل کو”نسل کشی” کےطور پر پیش کرتے ہوئے مذہبی نفرت کو ہوا کیوں دی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ 2002ء میں گجرات کے گودھرا میں چند انسان دشمن طاقتوں کی جانب سے جلائی گئی ٹرین کی بوگی جس میں ایودھیا سے واپس ہورہے 57 کارسیوک ہلاک ہوئے تھے کے بعد گجرات میں 2000 سے زائد مسلمانوں کی نسل کشی ہوئی تھی اور نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو کیا کوئی اس مسلم نسل کشی پرفلم "گجرات فائلز” بنانے کی ہمت کرسکتا ہے؟۔

ساتھ ہی سوشل میڈیا پر 2002 کے گجرات کے خونی فسادات اور نسل کشی پرمشتمل 2005 میں بنائی گئی فلم”پرزانیہ Parzania#” کے پوسٹرس وائرل کرتے ہوئے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ وزیراعظم مودی اظہار رائے کی آزادی کی بات کررہے ہیں لیکن انہوں نے خود بحیثیت چیف منسٹر گجرات میں”فلم پرزانیہ” کی نمائش پر امتناع عائد کیا تھا!!

فلم پرزانیہ کے ڈائرکٹر راہول ڈھولکیہ اور ڈیویڈ این دونیہوئے تھے۔جس میں نصیرالدین شاہ اور ساریکا نے اہم کردار ادا کیے تھے۔اور یہ فلم گجرات فسادات کے دؤران متاثرہ ایک پارسی خاندان پر فلمائی گئی تھی۔یہ مکمل دیڑھ گھنٹے کی فلم یوٹیوب پر موجود ہے۔

اسی دؤران نیشنل ایوارڈ یافتہ فلمساز و صحافی”ونود کاپری” Vinod Kapri@نے 15 مارچ کو ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندرمودی کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” GujaratFiles#کے نام سے میں حقائق کی بنیاد پر،آرٹ کی بنیاد پرفلم بنانے کے لیے تیارہوں اوراس میں آپ کے کردار کا بھی تفصیل کے ساتھ "سچائی” کے ساتھ ذکر کیا جائے گا۔کیا آپ آج قوم کے سامنے مجھے یقین دلائیں گے کہ آپ فلم کی ریلیز نہیں روکیں گے؟۔

بعدازاں اپنے ایک اور ٹوئٹ میں فلمساز ونود کاپری نے لکھا ہے کہ”میرے اس ٹویٹ کے بعد میں نےکچھ پروڈیوسروں سے بات بھی کی۔وہ GujaratFiles# تیار کرنےکے لیے تیار ہے۔انہیں صرف اس یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ وزیراعظم جس آزادی کی بات کرتے ہیں۔جو اب کر رہے ہیں انہیں اس فلم کے لیے بھی وہی تیقن دینا چاہیے”۔

کشمیری پنڈتوں کا الزام ہے کہ سیاسی جماعت کوئی بھی ہو صرف ان کا استحصال ہی کیا ہے۔انہیں وادی کشمیر میں دوبارہ بسانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ان کی اس طرح مدد کی گئی جس کے وہ حقدار تھے۔جبکہ نامور مورخ رام پنیانی نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دؤر حکومت میں کشمیری پنڈتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 1,618 کروڑ روپئے صرف کیے گئے انہیں مختلف سہولتیں فراہم کی گئیں اور ساتھ ہی انہیں مکان بنانے کے لیے فی کس 7،50،000 روپئے کی مدد بھی شامل ہے!!

” فلم دی کشمیرفائلز اور کشمیری پنڈتوں کے متعلق بی جے پی حکومت کے دعویٰ پر ایک کشمیری پنڈت کا اظہار خیال (ویڈیو 2 منٹ) "

ایک طرف جہاں کشمیرفائلز کو لے کر بالخصوص بی جے پی کی جانب سے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی تمام سطحوں پر پذیرائی کی جارہی ہے وہیں دوسری طرف چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ اور کانگریس لیڈر بھوپیش بگھیل،جنہوں نے کئی ریاستی وزراء اور ایم ایل ایز کے ساتھ "کشمیر فائلز ” دیکھی ہے نے کہا کہ فلم” آدھا سچ” دکھاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سوائے تشدد کے دکھانے کے علاوہ کوئی حقیقی پیغام نہیں ہے۔!وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے فلم دیکھنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ کشمیر میں نہ صرف ہندو بلکہ بدھ مت کے ماننے والوں،مسلمانوں اور سکھوں کو بھی دہشت گردوں نے قتل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی کشمیر سے نقل مکانی اس وقت ہوئی جب وی پی سنگھ وزیراعظم تھے اور ان کی حکومت کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی اس وقت اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی جیسے لیڈروں کی قیادت تھی۔

"وزیراعلیٰ چھتیس گڑھ بھوپیش بگھیل کا تین منٹ کا ویڈیو یہاں موجود ہے”

https://www.facebook.com/watch/?ref=saved&v=745964393038029

فلم کشمیرفائلز کے رائٹر،ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری جوکہ ایک ناکام فلمساز مانے جاتے تھے اب اس فلم نے انہیں راتوں رات سرخیوں میں پہنچادیا ہے۔کشمیر فائلز کے پروڈیوسرس کمپنیاں زی اسٹوڈیوز اور اگروال آرٹس ہیں۔کشمیر فائلز 15 کروڑ کے بجٹ سے بنائی گئی ہے جس نے 11 مارچ کو اپنی ریلیز کے بعد سے 19 مارچ تک جملہ 116 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کیا ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے۔فلم دی کشمیر فائلز کو پہلے دن 600 اسکرینس پر ہی ریلیز کیا گیا تھا تاہم اس کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 2،000 اسکرینس پر پیش کیا جارہا ہے۔

فلم ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری جنہوں نے دہشت گردی کی وجہ سے وادی کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج پر مبنی اپنی فلم کشمیر فائلز سے ملک بھر میں ایک طوفان برپا کیا ہے کو حکومت نے 18 مارچ کو CRPF کمانڈو کور کے ساتھ ‘Y’ زمرہ کی سیکورٹی فراہم کی ہے۔

سوشل میڈیا پر اب یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ کشمیرفائلز کی اس قدر مقبولیت اور حوصلہ افزائی کے بعد کیا 1983 میں آسام میں 1800 مسلمانوں کے قتل عام،1984 میں دہلی میں 3000 سکھوں کے قتل عام،2002 میں گجرات میں2000مسلمانوں کےقتل عام، پلوامہ دہشت گرد حملہ پر،مظفرنگر،دہلی فسادات،لکھیم پوری میں کسانوں کو جیپ سے رؤند دئیے جانے کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں انسانیت دشمن واقعات و فسادات کے مہلوکین پر بھی فلمیں بنائی جائیں گی؟۔تو یقیناً اس کا جواب نہ میں ہی ہوگا! نہ ان واقعات پر فلمیں بنائی جائیں گی،نہ زخموں کو کریدا جائے گا اور کسی نے ان پر فلم بنانے کی ہمت بھی کی تو ایسی فلموں کی نمائش ناممکن ہی مانی جائے!! 

معروف اداکار نانا پاٹیکر نے فلم کشمیر فائلز کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ”غیر ضروری ہنگامہ کھڑا کرنا درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کا ملک ہے۔اور معاشرے میں تقسیم اور تفریق درست نہیں ہے۔اس کے علاوہ امن کا پیغام دیتے ہوئے نانا پاٹیکر نے کہا کہ ہمارا ملک ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کا ملک ہے۔ان دونوں کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہےاور انہیں ایک ساتھ رہنا چاہئے۔ان کے درمیان ایسی تقسیم درست نہیں ہے۔اس دوران نانا پاٹیکر نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ انہوں نے یہ فلم ابھی تک نہیں دیکھی ہے لیکن وہ اس معاملے میں زیادہ کچھ کہنا پسند نہیں کریں گے۔

سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش و سینئر کانگریسی قائد ڈگ وجئے سنگھ نے فلم کشمیرفائلز کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی نقل مکانی کی باتیں کرنے والے بھول رہے ہیں کہ اس وقت بی جے پی کی ہی حکومت تھی۔انہوں نے کہا کہ گجرات کے گودھرا میں ٹرین کی بوگی جلاکر 58 ہندوؤں کو نذرآتش کیے جانے کے وقت بھی بی جے پی کی حکومت تھی۔جس وقت پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا اس وقت بھی بی جے پی ہی اقتدار پر تھی۔کارگل پر حملہ کے وقت بھی بی جے پی کی حکومت تھی۔ اور پلوامہ حملہ کے وقت بھی بی جے پی ہی اقتدار پرتھی۔ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کی خصوصیت یہی ہے کہ کسی بھی ناکامی پر معافی طلب نہیں کرتی لیکن ان کے نام پر ووٹ ضرور مانگتی ہے!!  

یاد رکھیں تاریخ گواہ ہے کہ نفرت،جھوٹ،ظلم اور سازشوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔دنیا کی تاریخ ظالموں اور مکاروں کے ظلم اور پھر ان کے عبرت ناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماضی کے زخموں کو مرہم لگاکر مندمل کیا جاتا ہے۔اسے دوبارہ کھروچ کر ناسور نہیں بنایا جاتا! ماضی کی تلخ یادوں کو فراموش کرتے ہوئے ہی زندگیوں کو آسان اور خوشگوار بنایا جاسکتا ہے۔ورنہ یہ ناسور زندگی بھر رِستے ہی رہتے ہیں!!

ممتاز شاعر ساحر لدھیانوی نے کبھی کہا تھا کہ ؎

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو
محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو

خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ: اس تفصیلی رپورٹ کی تیاری میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے مدد لی گئی ہے۔