بی آر ایس کے ایم پی حلقہ چیوڑلہ رنجیت ریڈی نے کیا گنگا جمنی تہذیب و قومی یکجہتی کا مظاہرہ
اجتماع کے بعد 15 ہزار شرکاء میں پانی کی بوتلیں، بسکٹ اور فروٹ تقسیم، 100 گاڑیوں کا نظم
پرگی کے اجتماع گاہ میں تین دن تک تمام طبی سہولتوں سے لیس موبائل ہسپتال کی فراہمی
حیدرآباد/ وقارآباد : 09۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

موجودہ ماحول اور حالات میں ریاست تلنگانہ کو ایک سیکولر اور مذہبی منافرت سے پاک ریاست کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔حالیہ گنیش جلوس اور دیگر واقعات اس کی مثال ہیں۔تلنگانہ کے تمام اضلاع بالخصوص حیدرآباد میں کئی بڑے کاروبار گجراتی اور راجستھانی افراد چلاتے ہیں، وہیں آئی ٹی کمپنیوں میں دہلی کے بشمول شمالی ہند کے نوجوان ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔بہار اور اتر پردیش کے لوگ بھی مختلف شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔اس لیے حیدر آباد کو ” مِنی انڈیا Mini India ” کہا جاتا ہے۔
ایسے میں وقار آباد ضلع کے نعمت نگر، پرگی میں6 جنوری تا8 جنوری منعقدہ تبلیغی جماعت کے سہء روزہ دینی اجتماع کے دؤران بھی گنگا جمنی تہذیب، قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارہ کے مناظر دیکھے گئے۔
ریاست تلنگانہ کی تاریخ میں زائد از 200 ایکڑ اراضی پر یہ پہلا تاریخی دینی اجتماع تھا جس میں حیدرآباد اور ریاست تلنگانہ کے تقریباً تمام اضلاع کے علاوہ آندھرا پردیش،کرناٹک، مہاراشٹرا اور اتر پردیش کے بشمول دیگر ریاستوں سے 10 لاکھ سے زائد فرزندان توحید نے شرکت کی۔
اس اجتماع کی تیاریاں گزشتہ 6 ماہ سے جاری تھیں۔اجتماع گاہ اور پارکنگ کے مقامات کے لیے مسلم زمینداروں کے علاوہ برادارن وطن کے مختلف طبقات کےکسانوں نے بھی خوشی کے ساتھ اپنی اراضیات دی تھیں۔تین دنوں تک نعمت نگر،پرگی کے اجتماع گاہ میں اور اجتماع کے اختتام کےبعد گاڑیوں اور پیدل قافلوں کی واپسی کےروحانی و پراثر مناظرکے ساتھ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کے مظاہرے بھی دیکھے گئے۔
رکن پارلیمان حلقہ چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی جن کا بی آر ایس پارٹی سےتعلق ہےکی جانب سے اپنے ذاتی صرفہ سےاجتماع گاہ میں تین دنوں تک تمام طبی سہولتوں اور ادویات سے لیس ایک آروگیہ رتھم ہاسپٹل آن ویلس(موبائل طبی ویان) Arogya Ratham Hospital On Wheels کا نظم کیا گیا تھا۔اس طبی موبائل ویان کے انتظامیہ نے آج بتایا کہ تین ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملہ کے ساتھ شرکاء کو طبی سہولتیں بہم پہنچائی گئیں۔

اس موبائل طبی ویان کے ایک ذمہ دار نے بتایاکہ چونکہ اجتماع کے تین دنوں کے دوران شدید سردی تھی تو زائداز 2 ہزار شرکاء سردی ، زکام کھانسی اور دیگر امراض کی شکایت کےساتھ اس طبی کیمپ سے رجوع ہوئےتھے۔جن کی طبی تشخیص کے علاوہ اس موبائل ہاسپٹل میں دستیاب لیاب میں نمونوں کی جانچ بھی کی گئی اور انہیں ویان میں ہی موجود موبائل فارمیسی سے مفت ادویات فراہم کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ ساتھ ہی اجتماع کے ہزاروں شرکاء میں مفت ماسک کی تقسیم بھی عمل میں لائی گئی۔
دوسری جانب اجتماع کے اختتام کے بعد اجتماع گاہ کے قریب حیدرآباد۔بیجاپور نیشنل ہائی وے پر رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے گاڑیوں میں اور پیدل جانےوالے اجتماع کے شرکاء میں خود اپنے ہاتھوں سے 15 ہزار پانی کی بوتلیں،فروٹ اور بسکٹ پیکٹ تقسیم کیے۔
رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے اجتماع گاہ سے پیدل جانےوالے شرکاء کےلیے 100 طوفان اور دیگر گاڑیوں کااپنی جانب سے بندوبست کرتے ہوئے مختلف ریاستوں اور مقامات کے شرکاء اور جماعتوں کو وقارآباد ریلوے اسٹیشن تک پہنچانے میں مدد کی۔رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کی جانب سے گنگا جمنی تہذیب اور قومی یکجہتی کو مزید فروغ دینے والے اقدامات کی سراہنا کی جا رہی ہے۔اس موقع پر کئی نوجوانوں نے ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کے اس کام سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے دیکھے گئے۔

" یہ بھی پڑھیں "

