ساحل کی ریت میں پھنسے 272 کلو وزنی تانبیل کو دوبارہ سمندر میں بھیج دیا گیا
قتل و غارت گری کے دور میں انسانیت نوازی کا سبق،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
امریکہ؍میساچیوسیٹ: 15۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ہم ایک آج ایسے سماج اور ماحول کا حصہ ہیں جہاں دن دہاڑےمعمولی معمولی باتوں پر سڑکوں پر قتل اور دیگر جرائم عام بات بن کر رہ گئے ہیں!!
وہیں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف سڑکوں کے ساتھ ساتھ گودی میڈیا کی کھڑکیاں روز زہر پھیلانے میں مصروف ہیں، عوام کو تشدد پر اکسانا اور ہجومی تشدد روز کا معمول بن کر رہ گئے ہیں!!۔
افسوس تو اس بات پر ہوتاہے کہ اس کا حکومتوں پر کوئی اثر نہیں پڑرہا ہے اور نہ سماج ہی اس کے خلاف کمربستہ ہونے کے لیے تیار ہے!

اور اس زہریلے،نفرت انگیز ،خون خرابہ والے ماحول کے بھیانک اثرات زیر پرورش اور آنے والی نسلوں پر مرتب ہونے کا اندیشہ ہے!!
اس سماج اور معاشرہ کے لیے اس سے زیادہ حیرت انگیز اور قابل تشویش بات کیا ہوگی کہ سڑکوں پر ہونے والے قتل اور تشدد کے خاموشی کے ساتھ ناظرین بنتے ہوئے ان واقعات کی باقاعدہ ویڈیوس بناکر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا جاتا ہے، ان ویڈیوس کوشیئر اور فارورڈ بھی کیا جاتا ہے اور دیکھا بھی جاتا ہے!!۔
شاید فنا نظامی کانپوری نے اسی سماج اور معاشرہ کے لیے کبھی کہا تھا کہ دنیاپہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن انسان کی تلاش میں انسان جائے گا
ایسے سماج اور معاشرہ کے لیے یہ واقعہ ایک پیغام ہے کہ کس طرح سمندر کے ساحل پر ریت میں پھنسی ہوئی ایک 272 کلو وزنی تانبیل کو بحفاظت سمندر میں واپس روانہ کرنے میں تین ایجنسیاں اور ساتھ ہی عوام کامیاب ہوگئے۔
اور اس کے ذریعہ دنیا کو ایک پیغام بھی دیا کہ اس زمین پر رہنے اور بسنے والی ہر جاندار چیز کو زندہ رہنے کا مساوی حق حاصل ہے اور ان کی کسی بھی طریقہ سے مدد کرنا انسانیت کی معراج بھی ہے۔
ریت میں پھنسی ہوئی اس تانبیل پر نہ کسی نے گولیاں چلائیں اور نہ ہی کسی ہجوم نے نعروں کے ساتھ اس پر پتھر ،گھونسے، لاتیں یا لاٹھیاں برسائیں! اور نہ ہی اس بے بس وبے زبان پر کسی فوٹوگرافرنے کوئی رقص ہی کیا!
سسکتی،بلکتی انسانیت اور بے حس سماج و معاشرہ کے لیے یہ سبق آموز واقعہ امریکی ریاست میسا چیوسیٹ کے ساحل سمندر پر منظر عام پر آیا ہے۔
دراصل ایک وزنی تانبیل کسی طرح لہروں کے ساتھ بہہ کر سمندر کے کنارے آگئی تھی اور وہ اپنے 272 کلوگرام وزن کے باعث ریت میں دھنس گئی۔
اس کی اطلاع کے فوری بعد اس تانبیل کو ریت سے نکال کر دوبارہ سمندر میں روانہ کرنے کے لیے ایک خصوصی بنڈی تیار کی گئی،اسٹریچر تیار کیا گیا اور مچھلیوں کا استعمال کرتے ہوئے لیدر بیاگ کی شکل والی اس تانبیل کو نیئو انگلینڈ اقواریم Aquarium کے ماہرین کی مدد سے دوبارہ سمندر کے گہرے پانی میں روانہ کردیا گیا۔

ان ماہرین نے بتایا کہ ہیر نگ کے سمندر کے کنارے یہ تانبیل ریت میں پھنس گئی تھی۔اس تانبیل کوسمندر کے ساحل سے سمندر میں روانہ کیے جانے تک کا ایک خوبصورت ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔
ساحل سمندر کے کنارے ریت میں پانچ فیٹ کی حامل اور 272 کلووزنی اس تانبیل کے پھنس جانے کی اطلاع جانوروں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم کو دی گئی تو فوری ان کی جانب سے اس تانبیل کو جانوروں کے ڈاکٹرس کے پاس لے جایا گیا بعد معائنہ ڈاکٹرس نے بتایا کہ تانبیل مکمل صحت مند ہے۔
بعدازاں طئے کیا گیا کہ اس تانبیل کو دوبارہ سمندر میں روانہ کیا جائے اس کے لیے وہاں کے متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد اس تانبیل کو دوبارہ سمندر میں روانہ کرنے کے لیے تین مختلف ایجنسیوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔
ساتھ ہی اس تانبیل پر نظر رکھنے کی غرض سے اس میں سیٹلائٹ سے منسلک ایکوسٹک ٹریکنگ ٓآلہ نصب کیا گیا۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ساحل سمندر سے سمندر میں داخل ہورہی تانبیل کو دیکھ کر وہاں موجود مجمع کیسے خوشی کا اظہار کررہا ہے۔
بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے سماج میں کسی بھکاری کا مذہب پوچھ کر اس کو مارپیٹ کرنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے خوش ہوا جاتا ہے!!
یا پھر عوام کے ہجوم میں سڑک پر ہورہے قتل کی مختلف زاویوں سے ویڈیوس لے کر اس کو پہلے ہی مختلف مسائل اور پریشانیوں کے شکار لوگوں کے واٹس ایپ پر روانہ کیا جاتا ہے!!

