شادی کے غیر ضروری اخراجات میں کمی، 300 مستحق طلبہ کے لیے تعلیمی امداد، عبدالمقیت چندا کا مثالی اقدام

شادی کے غیر ضروری اخراجات میں کمی،  300 مستحق طلبہ کے لیے تعلیمی امداد
عبدالمقیت چنداکا مثالی اقدام ،گفٹ اے اسمائل مہم کا آغاز، سماجی حلقوں نے کی سراہنا

حیدرآباد : 08۔جولائی (سحرنیوزبیورو)

صنعت کار اور معروف سماجی کارکن عبدالمقیت چندانے اپنے صاحبزا دہ کی شادی کو سماجی خدمت کا ذریعہ بنا کر ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے شادی اور استقبالیہ کی تقریبات ایک ہی دن منعقد کرتے ہوئے غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی، جبکہ بچائی گئی رقم مستحق اور یتیم طلبہ کی تعلیمی امداد کے لیے وقف کر دی۔

اس مثالی شادی کی تفصیلات کے مطابق عبدالمقیت چندا کے فرزند مجاہدچندا کا نکاح جامع مسجد شاہی باغ عامہ،میں انتہائی سادگی کے ساتھ انجام پایا۔نکاح  کو سنت کے مطابق کرنے کے لیے جہیز کے لین دین،باجہ اور بیجا اسراف کی رسومات سے مکمل پرہیز کیا گیا۔سادگی سے نکاح کی خاص بات یہ تھی کہ مسجد میں نکاح کے فوری بعد ، یتیم، یسیر، اور غریب اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مستحقین طلباء و طالبات کو،، گفٹ ای اسمایل ،، کے تحت چیکس کی تقسیم جو کہ تقریباً 50 لاکھ روپے پر مشتمل ہے عمل میں لائی گئی جو کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ شادی کے موقع پر بےجارسومات، نمود و نمائش کو گریز کرتے ہوئے عبدا لمقیت چندانے غیر معمولی قدم اٹھاتے غریب طالب علموں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ قابل ستائش کارنامہ ہے۔

اُسی رات ولیمہ تقریب کا اہتمام میفائر فنکشن ہال، شمس آباد میں کیا گیا جس میں عزیز و اقارب،رشتہ داروں‘دوست احباب کے علاوہ سیاسی سماجی مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران بشمول ایس مدھو سودھن چاری، لیڈر آف اپوزیشن لیجسلیٹو کونسل،سابق وزراء مسٹر ہریش راؤ،جناب محمد محمود علی، جناب جعفر حسین معراج رکن اسمبلی، جناب عظمت اللہ حسینی ، چیئرمین وقف بورڈ، جناب طارق انصاری چیئرمین ميناریٹی کمیشن ، محمد امتیاز اسحاق، سابق چیئر مین،

مولانا حامد محمد خان، مولانا عبدالقدیر چیئر شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن، جناب افتخار شریف( شکاگو، امریکہ) مسٹر پرکاش گوڑ،رکن اسمبلی ، سابق چیئر مین وقف بورڈ،محمد سلیم، محمد خواجہ قیوم انور(ٹی نیوز اردو)، مسٹر کے پربھا کر رکن قانون ساز کونسل ، فاروق حسین، رکن قانونِ ساز کونسل،امجد اللہ خان خالد ترجمان ایم بی ٹی، ائیرولا سرینوا اس ، سابقہ چیئر مین، آر چندر شیکھر ریڈی سابق رکن پارلیمنٹ ،کارتک ریڈی بی آر ایس قائد، جناب خالد یوسف، جناب ابراہیم سردار کے علاوہ مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

عبدالمقیت چندا نے بتایا کہ ہم سب کو بے جا رسومات سے بچنا چائیے اور نکاح کو آسان کرنا چائیے۔ ایک سادہ نکاح (بغیر اسراف کے) سنت ہے اور انتہائی بابرکت ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج جہیز کی لعنت کی وجہہ سے ہزاروں لڑکیاں گھروں میں شادی کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ہمارے نوجوان اگر سنت کے مطابق بغیر کوئی لین دین(جہیز) کے شادیاں کرتے ہے تو کوئی بھی والدین کو اپنی لڑکی بوجھ نہیں رہتی اور لڑکیوں کی شادیاں آسانی کے ساتھ انجام پاتی ۔

اللہ تعالی تمام لڑکیوں کی شادیوں میں آسانی پیدا کریں۔اُنہوں نے اہل ثروت اصحاب سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ نمود و نمائش سے پرہیز کرتے ہوئے جو بھی رقم بچی ہے اس رقم کے ذریعے غریب طلباء و طالبات کیلئے مختص کرتے ہوئے قوم ملت کے لیے کام کریں ۔

اس منفرد اقدام کے تحت شادی کے موقع پر صبح منعقدہ تقریب نکاح میں 150 طلبہ جبکہ شام کے استقبالیہ میں مزید 150 طلبہ میں اسکالر شپ کے چیکس تقسیم کیے گئے۔ ان طلبہ میں یتیم، معاشی طور پر کمزور اور تعلیمی میدان میں 70  فیصد یا اس سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ شامل ہیں۔

عبدالمقیت چندا نے صرف اسکالرشپس تک ہی اپنی خدمت محدود نہیں رکھیں بلکہ مختلف تعلیمی اداروں کے تعاون سے ضرورت مند طلبہ کی ٹیوشن فیس کا 50 فیصد بھی ادا کروایا تاکہ وہ مالی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

شادی کے اخراجات سے بچائی گئی رقم "سر سید مائناریٹیز ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی "کوبطور عطیہ دی گئی، جس کے ذریعہ زائداز 300 مستحق طلبہ کو مالی امداد فراہم کی گئی۔ اس امداد سے اسکولوں، کالجوں، گروکل اداروں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ مستفید ہوئے۔

عبدالمقیت چندا نے اس موقع پر کہا کہ آج کے دؤر میں شادیوں پر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے، جبکہ غریب اور متوسط طبقے کے بہت سے خاندان شادیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سود پر قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ قرض بعد میں ان کے لیے طویل عرصے تک معاشی مشکلات اور پریشانیوں کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شادیوں کو سادگی سے انجام دیا جائے اور غیر ضروری اخراجات کو تعلیم، فلاحی سرگرمیوں اور سماجی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے تو نہ صرف ضرورت مند افراد کی مدد ممکن ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔

تعلیم کو سماجی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے عبدالمقیت چندانے بچائی گئی رقم سر سید مائناریٹیز ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ذریعے مستحق طلبہ میں تقسیم کروائی۔ اسی جذبے کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے "گفٹ اے سمائل” مہم کا بھی آغاز کیا، جس کا مقصد لوگوں کو شادیوں میں فضول خرچی سے گریز کرتے ہوئے تعلیم اور سماجی خدمت کی طرف راغب کرنا ہے۔

سماجی حلقوں نے عبدالمقیت چندا کے اس اقدام کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اگر معاشرہ کے صاحبِ حیثیت افراد اسی طرزِ فکر کو اپنائیں تو نہ صرف شادیوں میں سادگی کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں مستحق طلبہ کو تعلیم کے بہتر مواقع بھی فراہم کیے جا سکیں گے، جس سے ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ممکن ہوگی۔

 

یہ بھی پڑھیں ” 

اپولو فارمیسی میں ملازمتوں کے لیے درخواستیں مطلوب، 10 جولائی کو وقارآباد میں جاب میلہ، بیروزگار نوجوان استفادہ کریں