پنکج اُدھاس نہیں رہے

سُونی ہوگئیں شہر کی گلیاں …..!!
 پنکج ادھاس نہیں رہے 

ممبئی : 26۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

نامور غزل گلوکار پنکج ادہاس کا آج انتقال ہوگیا۔ان کی ان کی دختر نایاب نے بتایاکہ معروف غزل گلوکار پنکج ادھاس طویل علالت کے بعد پیر کوممبئی میں انتقال کرگئے۔وہ 72 سال کےتھے۔نایاب نے اپنے والد پنکج ادھاس کے انتقال کی افسوسناک اطلاع انسٹاگرام کےڈریعہ دی ہے۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ پنکج ادھاس جنہوں نے فلم "نام”، "ساجن” اور ” مہرا "سمیت کئی ہندی فلموں میں پلے بیک گلوکار کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی تھی کا انتقال صبح 11 بجے کے قریب بریچ کینڈی ہسپتال میں ہوا۔

 

پنکج ادھاس 17 مئی 1951 کو جیٹ پور (گجرات) میں پیدا ہوئے۔انہوں نے بحیثیت غزل گلوکار اپنی منفرد شناخت بنائی تھی۔یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ پنکج ادھاس نے دنیا بھر میں اردو غزل کو گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔1980 اور 1990 کے دؤر میں ان کی غزلوں نے دھوم مچائی تھی غزل گائیکی کو پنکج ادھاس نے نہ صرف مقبول عام بنایا بلکہ بلندیوں کی شاندار منزلوں تک بھی پہونچایا۔

پنکج ادھاس نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1980 میں آہٹ نامی ایک غزلوں کے البم کی ریلیز سے کیا اور اس کے بعد 1981 میں مکرر،1982 میں ترنم، 1983 میں محفل، 1984 میں پنکج ادھاس لائیو، 1984 میں رائل البرٹ ہال میں لائیو، 1985 میں نایاب اور 1986 میں آفرین جیسےغزلوں کے البم کے لیے اپنی مسحور کن آواز دی۔

پنکج اُدھاس کو موسیقی کی دنیا میں ایک علحدہ پہچان حاصل ہوئی دنیا کے ان ممالک جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے میں انہوں نے وہاں اپنے اسٹیج شوز ( لائیوکنسرٹ) پیش کیے۔ان کی خدمات کو بہت سراہا بھی گیا،انہیں کئی ایوارڈ حاصل ہوئے۔2006ء میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز پدما شری سے نوازا گیا۔

اس دور میں پنکج ادھاس کی جادوئی آواز نے اردو اور غزلوں کےشیدائیوں میں دھوم مچادی تھی۔اس طرح پنکج ادھاس کی غزلیں ہر جگہ گونجنے لگی تھیں۔بالخصوص اس وقت کا نوجوان طبقہ پنکج ادھاس کی آواز اور ان کی گائی ہوئیں غزلوں کا دیوانہ ہوا کرتا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں ان کے البموں کے کیسٹ اور گرا موفون ریکارڈز فروخت ہوا کرتے تھے۔

ایک غزل گلوکار کے طور پر ان کی کامیابی کے بعد انہیں مشہور ہدایت کار وفلمساز مہیش بھٹ جو کہ اردو کے شیدائی ہیں کی ایک فلم ” نام ” جس کے پروڈیوسر اداکار راجندر کمار اور اداکار نوتن، سنجے دت، کمار گورو، پریش راویل،امریتا سنگھ،پونم ڈھلون تھے پیش ہونے اور اس فلم میں ایک اسٹیج شو کے طور پر ایک نغمہ گانے کی دعوت دی۔پنکج اُدھاس نے 1986 میں بنائی گئی فلم نام کے نغمہ

چٹھی آئی ہے ، وطن سے چٹھی آئی
بڑے دنوں کے بعد، ہم بے وطنوں کو یاد
وطن کی مٹی آئی ہے

سے شہرت کی بلندیوں کو چھولیا تھا۔اس نغمہ کو نامور گیت کار آنند بخشی نے لکھا تھا،جبکہ اس نغمہ کو موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال نے مسحور کن موسیقی سے سجایا تھا۔ جس کسی نے اس نغمہ کو فلم میں دیکھا ہو یا سنا ہو بناء آنسو بہائے نہیں رہ پاتا تھا۔اس وقت اس فلم کی نمائش کے دؤران سینما ہالس میں ہر کسی کی آنکھیں بھیگ جایا کرتی تھیں اور رونے کی سسسکیاں سنائی دیتی تھیں۔

اس نغمہ میں ذریعہ معاش کےلیے اپنا وطن،اپنے والدین اور رشتہ داروں کوچھوڑ کر سات سمندر پار جانے والوں کا درد اور ان کے اپنوں کی بے بسی و لاچاری کے علاوہ رشتوں کے درد کے احساسات کی سچی تصویر قلمبند کی گئی تھی۔اس دؤر میں نہ انٹرنیٹ تھا، نہ موبائل فونس ہوا کرتے تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا تھا۔اس دؤر میں رابطہ کا ذریعہ صرف خطوط ہوا کرتے تھے۔ فلم نام کے اس نغمہ کو آج بھی سنا جاتا ہے اور نرم دل، حساس انسان کے علاوہ ان حالات سے گزرنے والے افراد رو پڑتے ہیں۔

”  چٹھی آئی ہے ، وطن سے چٹھی آئی ہے  "

مکمل نغمہ یہاں پیش ہے :

چٹھی آئی ہے آئی ہے، چٹھی آئی ہے
چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے
بڑے دنوں کے بعد، ہم بےوطنوں کو یاد
وطن کی مٹی آئی ہے

اوپر میرا نام لکھا ہے، اندر یہ پیغام لکھا ہے
او پردیس کو جانے والے، لوٹ کے پھر نہ آنے والے
سات سمندر پار گیا تو، ہم کو زندہ مار گیا تو
خون کے رشتے توڑ گیا تو، آنکھ میں آنسو چھوڑ گیا تو
کم کھاتے ہیں، کم سوتے ہیں، بہت زیادہ ہم روتے ہیں
چٹھی آئی ہے

سونی ہو گئیں شہر کی گلیاں، کانٹے بن گئیں باغ کی کلیاں
کہتے ہیں ساون کے جھولے، بھول گیا تو ہم نہیں بھولے
تیرے بن جب آئی دیوالی، دیپ نہیں دل جلے ہے خالی
تیرے بن جب آئی ہولی، پچکاری سے چھوٹی گولی
پیپل سونا، پنگھٹ سونا، گھر شمشان کا بنا نمونہ
فصل کٹی، آئی بیساکھی، تیرا آنا رہ گیا باقی
چٹھی آئی ہے

پہلے جب تو خط لکھتا تھا، کاغذ میں چہرہ دکھتا تھا
بند ہوا یہ میل بھی اب تو، ختم ہوا یہ کھیل بھی اب تو
ڈولی میں جب بیٹھی بہنا، راستہ دیکھ رہے تھے نینا
میں تو باپ ہوں، میرا کیا ہے، تیری ماں کا حال برا ہے
تیری بیوی کرتی ہے سیوا، صورت سے لگتی ہے بیوہ

تو نے پیسہ بہت کمایا، اس پیسے نے دیس چھڑایا
دیس پرایا چھوڑ کے آ جا، پنچھی پنجرہ توڑ کے آ جا
آجا عمر بہت ہے چھوٹی، اپنے گھر میں بھی ہے روٹی
چٹھی آئی ہے

( نغمہ : بشکریہ : تعمیر نیوز )

پنکج اُدھاس نے اردو شاعری بالخصوص اردو غزل،اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں غیر معمولی کردار نبھایا ہے۔اردو غزل سے عام لوگوں کو جوڑنے کا ہنر  پنکج ادھاس کو خوب آتا تھا۔ انہوں نے اپنی منفرد گائیکی کے ذریعے غزل کو گھر گھر پہنچانے میں کا کام کیا ہے۔اس حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاے گا۔

چٹھی آئی ہے، بے وطنوں کا ترانہ

پاکستان کے انڈیپینڈنٹ ( INDEPENDENT اردو ) میں 5 اکتوبر 2023 کو شائع شدہ مضمون میں سفیان خان نے لکھا ہے کہ
فلم ” نام ” کی نمائش سےپہلے اس کےگیت ریلیز کیےگئے تو ’چٹھی آئی ہے‘ کو غیر معمولی شہرت ملی۔یہ وہ دور تھا جب دیارغیر میں رہنے والے افراد کے لیے اپنوں سے رابطے کی سب سے بڑی راحت چھٹی یا خط ہی ہوتا تھا۔

دورحاضر کی طرح اس وقت جدید ترین سہولیات تو نہیں تھیں۔ اسی لیے خط میں اپنوں کی ہی نہیں آس پاس کے احباب اور رشتے داروں کی بھی خبرمل جاتی۔ ” چٹھی آئی‘ میں مختلف کیفیات کچھ ایسی بیان کی گئیں کہ ہر بےوطن کو یہ اپنےدل اور حالات کی ترجمانی محسوس ہوا۔گیت کی مقبولیت میں یہی بنیادی جز تھا جس نے اسے بے وطنوں کو ترانہ بنا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ فلم ” نام "کے دیگر گانوں جیسے” اور اس دل میں کیا رکھا ہے” اور ” تو کل چلا جائے گا تو میں کیا کروں گا” بھی کامیابی کے ہر پائیدان میں نمایاں رہے لیکن پنکج اداس کی دکھ اور درد بھری آواز نے جیسے” چٹھی آئی ہے” کو بے مثال کردیاجس کا سحر آج تک قائم ہے۔

ایک گیت کے سہارے پنکج اداس کی مقبولیت

12ستمبر 1986 کو جب ” نام "سینیما گھروں کی زینت بنی تو اس نے کاروبار بھی بہترین کیا۔وہ گیت جسے پنکج اداس گانا نہیں چاہتے تھے، اسی نے ان کے کیریئر کی نئی راہیں متعین کر دیں۔آج بھی پنکج اداس کا ذکر اس گیت کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔

پنکج اداس نے کم و بیش سوا سات منٹ کے دورانیے کے اس گیت کو بغیر کسی ری ٹیک کے ریکارڈ کرانا شروع کیا۔ جب گیت ختم ہوا تو انہیں لگا کہ موسیقار ضرور کہیں گے کہ وہ ایک ٹیک اور کرلیں لیکن ان پر خوشگوارحیرت عیاں ہوئی جب موسیقارلکشمی کانت اپنے مکسنگ روم سے نکل کر آئے اور فخریہ انداز میں کہا، ” پنکج جی آپ نے کمال کر دیا! ” ( بشکریہ : انڈیپینڈنٹ )

فلم نام کے اس گیت کے مختلف انکشافات پر مشتمل مکمل مضمون اس ویب سائٹ پر پڑھا جاسکتا ہے ؛
https://www.independenturdu.com/node/149171

پنکج ادھاس کی چند مشہور غزلیں جن میں سے زیادہ تر ممتاز راشد، قتیل شفائی اور ظفر گورکھپوری نے لکھیں
ان کے ویڈیوز یہاں پیش ہیں : ⬇️

٭٭٭٭٭٭٭٭

اے غم زندگی کچھ تو دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ایک طرف میکدہ

 

مِرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے

 

دکھ سُکھ تھا ایک سب کا
اپنا ہو ، یا بیگانہ
ایک وہ بھی تھا زمانہ
ایک یہ بھی ہے زمانہ

 

جس دن سے جدا وہ ہم سے ہوئے اس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا
ہے چاند کا منہ اترا اترا، تاروں نے چمکنا چھوڑ دیا

 

” جئیں تو جئیں کیسے ، بِن آپ کے ۔ !! ( فلم ساجن )

https://www.youtube.com/watch?v=rIFPdI1FQow

 

چاند ی جیسا رنگ ہے تیرا، سونے جیسے بال
ایک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگھال

نکلو نہ بے نقاب زمانہ خراب ہے
کیا ہونگے ہم خراب، زمانہ خراب ہے

 

شراب چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے
یہ میرے یار کے جیسی ہے نہ چھوڑی جائے

 

موہے آئی نہ جگ سے لاج ،میں اتنا زور سے ناچی آج
کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے 

 

ہوئی مہنگی بہت ہی شراب کہ ، تھوڑی تھوڑی پیا کرو
پیو لیکن رکھو حساب ،کہ تھوڑی ،تھوڑی پیا کرو