انڈین فلم فیسٹیول جیوری ہیڈ نے تنقید کرتے ہوئے ” کشمیر فائلز ” کو بیہودہ اور پروپگنڈہ پر مبنی فلم قرار دیا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا!!
انڈین فلم فیسٹیول جیوری ہیڈ و اسرائیلی فلم ساز ناداو لاپڈ نے
 کشمیر فائلز پر تنقید کرتے ہوئے بیہودہ اور پروپگنڈہ پر مبنی فلم قرار دیا  

 

نئی دہلی : 29۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ریاست گوا میں 53 ویں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی جیوری نےمتنازعہ فلم ” دی کشمیر فائلز ” کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایاہے۔جس کے متعلق رائٹر اور ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کا دعویٰ ہےکہ فلم دی کشمیر فائلز 1990ء میں وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کےقتل اور ان کےاخراج کے گرد گھومتی ہے۔

کشمیر فائلز کو ایک پروپیگنڈہ اور بیہودہ فلم قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا IFFI# کی جیوری کی سربراہی کرنے والے اسرائیلی فلم ساز ناداو لاپڈ نے کہا کہ فیسٹیول میں اس فلم کی نمائش دیکھ کر سب پریشان اور حیران تھے۔

اسرائیلی فلم ساز ناداو لاپڈ نے کہاکہ یہ ہمیں ایک پروپیگنڈہ فلم کی طرح لگ رہی تھی جو اس طرح کے باوقار فلمی میلے کے فنکارانہ اور مسابقتی حصے کے لیے نامناسب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "میں یہاں اسٹیج پر آپ کےساتھ ان احساسات کو کھلے عام ظاہر کرنےمیں پوری طرح سے آرام محسوس کرتا ہوں۔چونکہ تہوار منانے کی روح ایک تنقیدی بحث کو بھی قبول کرنا ہے جو فن اور زندگی کے لیے ضروری ہے۔

انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا IFFI# کی جیوری کی سربراہی کرنے والے اسرائیلی فلم ساز ناداو لاپڈ کے خطاب کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوا ہے۔اور اس پر مختلف میمز Memes# بھی بنائے گئے ہیں۔

وویک اگنی ہوتری کی ہدایت کاری میں بننے والی انوپم کھیر،متھن چکرورتی اور پلوی جوشی کی فلم کشمیر فائلز گزشتہ ہفتہ میلے کے” پینورما ” سیکشن میں دکھائی گئی تھی۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ وویک اگنی ہوتری کی جانب سے بنائی فلم کشمیر فائلز تنازعات کا شکار ہوگئی تھی اور خود کشمیری پنڈتوں نے بھی اس فلم کے خلاف محاذ کھولا تھا۔جبکہ اس فلم کو بی جے پی نے بہت سراہا اور بی جے پی کی حکومت والی بیشتر ریاستوں میں اسے ٹیکس فری قرار دیا گیا اور باکس آفس پر یہ فلم بہت زیادہ ہٹ رہی ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی فلم کی تعریف کی تھی۔اور کئی شہروں اور ٹاؤنس میں مفت ٹکٹیں تقسیم کرتے ہوئے لوگوں کو یہ فلم دکھائی گئی تھی۔

11 مارچ 2022ء  کو ریلیز کی گئی فلم کشمیر فائلز کا 250 کروڑ روپئے سے زائد کا باکس آفس کلکشن ہواتھا۔تاہم اس فلم کے رائٹر اور ہدایت کار وویک اگنی ہوتری پر آج تک یہ الزام عائد کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے نام پر اور نفرت کے ذریعہ کمائی گئی اتنی بڑی رقم میں سے ایک روپیہ تک کشمیری پنڈتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بطور عطیہ نہیں دیا۔!؟

وہیں اس فلم کے ذریعہ منظم منصوبہ کے تحت مذہبی منافرت کوخوب ہوا دی گئی تھی۔سینماتھیٹرز میں فلم دیکھنے والے نفرتی ذہنوں اور گودی میڈیا کے اسٹوڈیوز میں بیٹھنے والےنفرت کے سوداگروں نے اس وقت مسلمانوں کےخلاف خوب زہر اگلا تھا،دھمکیاں دی گئی تھیں اورمختلف عہدبھی کروائے گئے تھے۔اس فلم پر الزام ہے کہ اس میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئےکشمیری مسلمانوں اورکشمیریت کی شبیہ کو دنیا بھر میں بدنام کیا گیا۔!!

فلم کشمیر فائلز سےمتعلق اس کی ریلیز کے موقع پر تحریر شدہ خصوصی فیچر،سوشل میڈیا پوسٹس/ ویڈیوز اس لنک پر :-

فلم کشمیر فائلز بہانہ ،مسلمان نشانہ!! فلم دیکھنے والے مسلمانوں کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں ؟

 

اپ ڈیٹ :- فلم کشمیر فائلز پر تنقید کے بعد اس فلم کے رائٹر اور ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری نے آج صبح ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”سچائی سب سے خطرناک چیز ہے۔یہ لوگوں کو جھوٹا بنا سکتی ہے۔”