ہائی وے پر سڑک عبور کرتا جنگل کا راجہ ایک شیر
ٹریفک پولیس نے دونوں جانب ٹریفک روک دی
اترپردیش میں سیلابی پانی سے ایک شیر نے خود کو بچالیا
حیدرآباد: 24۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
شیر کو جنگل کا راجہ کہا جاتا ہے۔وہیں اس آدم خور سے انسان بھی خوف کھاتے ہیں۔تاہم موجودہ حالات میں چندانسان نمابھیڑیوں نے مذہب اور سیاست کی بساط پر درندگی کی سارے حدیں پھلانگتے ہوئے ان درندوں کوبھی مات دے دی ہے!اسی لیے تو کسی شاعر کو کہنا پڑا تھاکہ؎
درندے اب نہیں رہتے جنگلوں میں میں نے انسان کو نگلتے انسان دیکھاہے
ایسے میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ایک ٹریفک پولیس عہدیدارایک جنگلی شیر کو سڑک عبورکرنے کے دؤران ہائی وے سگنل پر مسافروں کو روک رہا ہے۔
ٹوئٹر پر انڈین فاریسٹ آفیسر (IFS) پروین کاسوان Parveen Kaswan IFS@ کی جانب سے شیئر کیےگئے اس ویڈیو کےساتھ انہوں نےلکھا ہے کہ "صرف شیر کے لیے گرین سگنل۔یہ خوبصورت لوگ،نامعلوم مقام”۔
وائرل شدہ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ ٹریفک پولیس عہدیدار سڑک کی دونوں جانب کاروں اورموٹرسائیکلوں کو روکتے ہوئے گاڑی سواروں کو پرسکون رہنےکے اشارےکررہے ہیں۔اس دؤران ایک شیر جنگل کی ایک جانب سے درختوں کے پیچھے سے نکلتا ہوانظر آتا ہے اورآرام کے ساتھ پرسکون انداز میں چلتے ہوئے سڑک پار کرکے جنگل کی دوسری جانب داخل ہوجاتا ہے۔
شاذ و نادر سڑکوں پر اس طرح کا نظارہ دکھائی دیتا ہے۔جسے دیکھنے والے موٹر سائیکل اور کاروں میں پر سوار افراد نے فوری طور پر اس کا فائدہ اٹھایا اور اس منظر کو اپنے موبائل کیمروں میں محفوظ کرلیا۔اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شیر آہستہ آہستہ اور خاموشی سے سڑک پار کررہا ہے۔جبکہ ڈرائیور صبر اور خاموشی کے ساتھ اس کے جنگل میں واپس جانے کا انتظار کررہے ہیں۔
انڈین فاریسٹ آفیسر پروین کاسوان کی جانب سے شیئر کیے گئے اس ویڈیوکو ان دو دنوں کے دؤران ایک لاکھ 92 ہزار سوشل میڈیاصارفین نے دیکھا ہے جبکہ 8,851 صارفین نے لائیک کیا۔اس ویڈیو پر ایک ٹوئٹر صارف سشیل سراپ نے اپنے کمنٹ میں لکھا ہے کہ یہ ویڈیو مہاراشٹرا کے چندرا پور کا ہے۔جبکہ ایک اور نے اپنے کمنٹ میں لکھا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مہاراشٹر میں برہما پوری اور ناگبھیر کے درمیان نیشنل ہائی وے 353D کا نظارہ ہے۔
یاد رہے کہ دو دن قبل ہی سوشل میڈیا پرمنظر عام پر آنے والے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ ایک شیر اترپردیش کے بہرائچ ضلع میں دریائے گیروا کوعبور کرنے کی کوشش کے دوران گیرجاپوری بیریج کے طاقتور سیلابی پانی کی لپیٹ میں آگیا تھا۔مقامی افراد نے اس واقعہ کی اطلاع محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو دی تھی۔

جس کے فوری بعد محکمہ جنگلات اور اسپیشل ٹائیگر پروٹیکشن فورس نے ڈرونس کی مدد سے اس شیر پر نظر رکھی۔اور فوری طور پر گیرجا پور بیریج کے گیٹس کو بند کروادیا تھا تاکہ شیر اس کے ذریعہ خارج کیے جانے والے پانی کے ساتھ بہہ جانے سے بچ جائے۔بعدازاں چارگھنٹوں کی جدوجہد کے بعد یہ شیر خود تیرتا ہوا کٹارنیا گھاٹ فاریسٹ رینج کے دودھوا پہنچنے میں کامیاب ہواتھا اس طرح یہ شیر محفوظ رہا۔

