مختار عباس نقوی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا
نئی دہلی: 06۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مختار عباس نقوی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔اس کی اطلاع خبر رساں ایجنسی اے این آئی نےاپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ دی ہے۔
مختار عباس نقوی کے ساتھ آر سی پی سنگھ نے بھی اپنی راجیہ سبھا کی میعاد ختم ہونے سے ایک دن قبل آج مرکزی وزراء کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔اطلاعات کے مطابق مرکزی وزراء نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کر دیا ہے۔
راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمنٹ کی حیثیت سے ان کی میعاد جمعرات کو ختم ہونے والی ہے،دونوں وزراء نے آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اپنے استعفے پیش کر دئیے کیونکہ وہ جمعہ سے ارکان پارلیمنٹ نہیں رہیں گے۔
مختار عباس نقوی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت میں صرف دو ایسے وزیر ہیں جو اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں بھی وزیر تھے۔
بی جے پی کی جانب سے مختار عباس نقوی کو راجیہ سبھا کے لیے دوبارہ نامزد نہ کیے جانے پر قیاس لگایا جارہا تھا کہ انہیں گزشتہ ماہ منعقدہ اتر پردیش کی رام پور کی پارلیمانی نشست کے ضمنی انتخابات میں امیدوار بنایاجاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اب جبکہ مختار عباس نقوی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاہے تو یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ انہیں بی جے پی کی جانب سے نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کا امیدوار بنایا جاسکتا ہے؟حکمراں پارٹی دوسرے اعلیٰ ترین آئینی عہدہ کےلیے اقلیتی طبقہ کے نمائندہ کے متعلق غور کررہی ہے۔موجودہ نائب صدر جمہوریہ ایم۔وینکیا نائیڈو کی میعاد 10 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ کے لیے نامزدگیوں کی آخری تاریخ 19 جولائی ہے۔انتخابات 6 اگست کو ہوں گے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب بی جے پی کومعطل شدہ ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے بعد سے ملک اور مسلم ممالک سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی زیرگشت ہیں کہ کیرالا کے گورنر عارف محمد خان،سابق مرکزی وزیرنجمہ ہپت اللہ اور پنجاب کےسابق وزیراعلیٰ امریندر سنگھ بھی نائب صدر جمہوریہ کی دؤڑ میں شامل ہیں!!۔
بی جے پی نےاڈیشہ کی ایک قبائلی رہنما محترمہ دروپدی مرمو کو اپناصدارتی امیدوارنامزد کیا ہے۔اورپارٹی کے پاس اتنی تعداد موجود ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کو دو عہدوں پر منتخب کرواسکے۔

مختار عباس نقوی مرکزی کابینہ میں تنہا مسلم وزیر تھے۔آج ان کے استعفیٰ کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی وزارت میں مسلم نمائندگی ختم ہوگئی ہے۔مختار عباس نقوی بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے ڈپٹی لیڈر بھی ہیں۔
جبکہ آر سی پی سنگھ جنتادل (یونائیٹیڈ ) کوٹے سے مودی کابینہ میں وزیر ہیں۔پارٹی نے مئی میں آر سی پی سنگھ کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد نہیں کیا تھا،جس سے ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر کے طور پر ان کے جاری رہنے پر سوالات اٹھ رہے تھے۔

