تلنگانہ: بی ایس ایف میں برسرخدمت بہن کی حوصلہ افزائی سے
فوج میں بھرتی کا امیدوار نوجوان پولیس فائرنگ میں ہلاک
سکندرآباد واقعہ کی ذمہ دار ریاستی حکومت،مرکزی وزیر کشن ریڈی کابیان
حیدرآباد/ورنگل: 17۔جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ملک کی فوج میں شامل ہوکر ملک اورسرحدوں کی حفاظت کرنے کاعزم رکھنے والا ایک نوجوان مرکزی حکومت کی جانب سے تین دن قبل اعلان کردہ”اگنی پتھ اسکیم”جس کےخلاف ملک کی کئی ریاستوں کےمختلف شہروں میں پرتشدد احتجاج جاری ہےکے خلاف آج تلنگانہ کے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں ہوئے پرتشدد احتجاج میں ہلاک ہوگیا۔اسی کےساتھ اس نوجوان کی خواہشوں،اس کے ماں باپ اور بہن کے خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہوگئے۔
https://twitter.com/Angryoldman_J/status/1537676340807073793
سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں فوج میں ملازمت کے خواہشمند اور امیدواروں کی جانب سے ٹرینوں کی بوگیوں کو نذرآتش کرنے،ریلوے اسٹیشن کو تباہ و تاراج کرنے کے دؤران پولیس نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لاٹھی چارج کے بعد فائرنگ کردی جسمیں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا جبکہ اس پرتشدد احتجاج کے دؤران نصف درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔
اس مہلوک نوجوان کی شناخت”دامودرم راکیش” کےطور پر کی گئی ہے۔اس نوجوان کی ہلاکت کی اطلاع کےبعداس کے افرادخاندان اور موضع میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔مہلوک نوجوان دامودرم راکیش ورنگل ضلع کے دبیر موضع کا ساکن تھا۔وہ آرمی میں ملازمت کا خواہشمند تھا۔
تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے اگنی پتھ اسکیم کے اعلان اور اس اسکیم کے تحت صرف چار سال فوج میں خدمات پھر ریٹائرڈمنٹ کے لزوم کے خلاف آج سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر کیے جانے والےاحتجاج میں راکیش شریک ہوا تھا تاہم بدقسمتی سے یہ احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا اور پولیس کی فائرنگ میں راکیش ہلاک ہوگیا۔سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے بعد پنچنامہ اس نوجوان کی نعش سکندرآباد کے گاندھی ہسپتال منتقل کردی گئی ہے۔بعد پوسٹ مارٹم نعش کو ورثا کے حوالے کردیا جائے گا۔
یہاں اہم بات یہ ہے مہلوک دامودرم راکیش کی بڑی بہن سنگیتا پہلے ہی سے ملک کی آرمی میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔جو کہ فی الوقت بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) میں شامل ہیں اورمغربی بنگال میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
بڑی بہن سنگیتا کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے بعد ہی راکیش دامودرم نے فوج میں شامل ہونے کے لیے سخت مشقت کررہا تھا۔اطلاعات کے مطابق راکیش تین دن قبل ہی حیدرآباد آیا ہوا تھا اور آج وہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں ہوئے احتجاج میں شامل ہوا تھاافسوسناک طور پر اس نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔
سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں بے قابو ہجوم پر کی گئی فائرنگ میں ونئے نامی ایک اور نوجوان زخمی ہوا ہے جسے گاندھی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے بتایا جارہا ہے کہ گولی اس کا سینہ چیرتے ہوئے نکل گئی۔ونئے کا تعلق محبوب آبا دضلع سے بتایا گیا ہے۔اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
آج سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں 9 بجے صبح تک امن قائم تھا،ٹرینوں اور مسافرین کی آمد و رفت حسب معمول جاری تھی اور ہمیشہ کی طرح ریلوے اسٹیشن میں ہجوم موجود تھا۔اس کے بعد اچانک حالات اس وقت بے قابو اور پرتشدد ہوگئے جب نوجوانوں کا ہجوم ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوگیا۔جن کےہاتھوں میں پتھراور لاٹھیاں تھیں۔نوجوانوں کےہجوم نے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی توڑ پھوڑ اور شور شرابہ شروع کردیا۔6 گھنٹے طویل احتجاج کو بالآخر پولیس کے ساتھ بات چیت کے بعدختم کردیا گیا۔اس دؤران زائد از چار ٹرینوں کی بوگیوں میں آگ لگائی گئی،سی سی کیمرے توڑ دئیے گئے، ریلوے اسٹیشن کے فرنیچر کو توڑ کر تہس نہس کردیا گیا۔
فی الوقت انتہائی خوبصورت اور مصروف مانا جانے والاسکندرآباد ریلوے اسٹیشن جو کہ انگریزوں کے دؤر میں نظام حکومت نے 1874 میں تعمیر کروایا گیا تھا جو کہ فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔اپنی بربادی کا منظر پیش کررہا ہے۔
ویکیپیڈیا کے مطابق سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے روزآنہ 1,70,000 مسافرین کی آمدورفت رہتی ہے۔اس ریلوے اسٹیشن سے روزآنہ 229 مختلف ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں یااس جنکشن سے ہوکر گزرتی ہیں۔آج اس تشدد کے بعد سکندرآباد ریلوے اسٹیشن اپنی تباہی کا رونا رو رہا ہے۔اور یہ اس ریلوے اسٹیشن میں اس طرح کا پہلا ناقابل قبول پرتشدد احتجاج ہے۔
دوسری جانب سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں پیش آئے واقعہ پر مرکزی وزیر سیاحت و رکن پارلیمان حلقہ سکندرآباد جی۔کشن ریڈی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں ہوئے پرتشدداحتجاج کے لیے ریاستی حکومت اور انٹلی کی ناکامی قرار دیا ہے۔اور اس واقعہ کی ذمہ دار ریاستی حکومت کو قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے اس موقع پرغیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔جبکہ ریلوے اسٹیشن کے حدود میں اس کے تحفظ کی ذمہ داری ریلوے پروٹیکشن فورس کی ہوتی ہے!!
انہوں نے کہا کہ اس تشدد میں 40 گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی ہے جوکہ مسافرین کی املاک تھیں۔یاد رہے کہ کل ہی بی جے پی اقتدار والی بہار،ہریانہ،مدھیہ پردیش،اتراکھنڈ،ہماچل پردیش میں بھی اسی طرح کا پرتشدد احتجاج ہوچکا ہے اس کے لیے کون ذمہ دار ہیں انہوں نے نہیں بتایا
مرکزی وزیر جی۔کشن ریڈی نے دعویٰ کیا کہ اگنی پتھ اسکیم نوجوانوں کے لیے فائدہ مند ہے اور اسی پر ترکی،میکسیکو،سنگاپور اور تھائی لینڈ میں بھی پہلے ہی سےعمل کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت داخلہ لازمی نہیں ہے۔جنہیں خواہش ہے وہی نوجوان شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس اسکیم کے متعلق غلط پروپگنڈہ کیا جارہا ہے اور منصوبہ بند طریقہ سے ریلوے املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں پیش آئے آج کے اس واقعہ کے ذمہ دار چاہے جو بھی ہوں یہ واقعہ قابل مذمت ہے۔جمہوری ملک میں احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے لیکن اس طرح کا پرتشدد احتجاج ملک اور سماج کے حق میں بہتر نہیں ہے!عوامی املاک کی تباہی افسوسناک ہی کہی جاسکتی ہے۔
وہیں بی جے پی اقتدار والی ریاستوں بالخصوص اترپردیش،بہار،مدھیہ پردیش،اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں کل سے جاری اس پرتشدد احتجاج کے دؤران کروڑہا روپئے مالیتی املاک،ٹرینوں،بی جے پی کے دفاتر اورسینکڑوں گاڑیوں کو آگ کی نذر کردیا گیا وہاں کی حکومتوں بالخصوص اترپردیش کی حکومت اور پولیس سے سوشل میڈیا پرسوال کیےجارہے ہیں کہ اب ان کے "بلڈوزرس” اور نہتے و پرامن احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسانے والے بہادر و حکومت کے وفادار پولیس والے کہاں ہیں؟؟ جو بناء عدالتوں اور قانون کے خود ہی مدعی،خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن جاتے ہیں!!

