جب جیلوں میں قیدسنگھی انگریزوں سے معافی کی بھیک مانگ رہے تھے،انہی دینی مدارس نے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جہاد کیا تھا: اویسی

جب جیلوں میں قیدسنگھی انگریزوں سے معافی کی بھیک مانگ رہے تھے تو
انہی دینی مدارس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور اپنی جانیں دیں
آسام کے وزیراعلیٰ احساس کمتری کا شکار اور تاریخ کے کمزور طالب علم ہیں
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹراسدالدین اویسی کا جواب

حیدرآباد: 25۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے وزیراعلیٰ آسام ہمانتا بسوا سرما کی جانب سے دینی مدارس کے خلاف کیے گئے ریمارکس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسام میں سیلاب کی وجہ سے 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 7 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔لیکن اس چیف منسٹر کو اپنی ریاست کے عوام کی تکالیف کی فکر نہیں ہے انہیں دینی مدارس کی فکر ہے۔

بیرسٹر اویسی نے کہا کہ آسام کے وزیراعلیٰ کو جاننا چاہئے جو” تاریخ "کے سب سے کمزور طالب علم ہیں کہ جب”سنگھی لوگ انگریزوں سے ملے ہوئے تھے اور جیل میں بیٹھ کر انگریزوں سے معافی کی بھیک مانگ رہے تھے۔یہی مدارس کے ذمہ داران نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا”۔اور انہی مدرسوں میں پڑھنے والوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں دیں۔

بیرسٹر اویسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے اس ردعمل کا اظہار کیا۔اور اس ویڈیو کو ٹوئٹ بھی کیا ہے۔

بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ ان کی احساس کمتری ہے جسے چھپانے کے لیے اس طرح کی بکواس کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا راجہ رام موہن رائے مدرسہ میں پڑھے تھے یا”شاکھا”میں پڑھے تھے؟

انہوں نے کہاکہ شاکھاؤں اور مدرسوں میں فرق یہ ہے کہ مدرسوں میں انسانیت کا سبق سکھایا جاتا ہے،انسانیت سے ہمدردی اور محبت کا پیغام دیا جاتا ہے۔اور ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے ذریعہ ہی بھارت کو اور خوبصورت بنایا گیا۔

صدرمجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مدرسوں میں سائنس،حساب سب پڑھایا جاتاہے۔اوریہ سب آسام کے وزیراعلیٰ کو معلوم نہیں ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ مودی حکومت کی جانب سے مدارس کو ترقی دینے والی اسکیم نہیں ہے؟کیااس کے لیے پارلیمنٹ میں سالانہ بجٹ منظورنہیں ہوتا؟ کیا مختار عباس نقوی اس کے وزیر نہیں ہیں؟

صدرمجلس بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ان کو صرف مسلمانوں اور اسلام سےنفرت ہے اس لیے اناپ شناپ بکتے رہتے ہیں اور یہ اب کھل کر آگیا ان کی زبان پر۔

صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نےمیڈیا سےبات کرتے ہوئے طنز کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے اورنگ زیب اور مختلف اشیا کی قیمتوں اضافہ کے لیے اکبر باشاہ اور مغل ذمہ دار ہیں۔نریندرمودی ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں!۔انہوں نے طنزیہ کہا کہ نوجوانوں کی بیروزگاری کے لیے شاہجہاں ذمہ دار ہے۔انہوں نےپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے بھی طنزیہ طور پر مغلوں کو ذمہ دار قرار دیا۔

یاد رہے کہ دو دن قبل دہلی میں ایک تقریب میں آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا تھاکہ جب تک مدارس موجود ہیں،بچے ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکیں گے۔انہوں نے مزید کہاتھا کہ لفظ "مدرسہ” کو "غائب” ہونا چاہئے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ بچوں کو”انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے” مدرسے میں داخلہ دلوایا جاتا ہے”۔