سڑک ٹھیک نہیں ہے،ایمبولنس نہیں آسکتی!!
تانڈور میں حاملہ خاتون نے ہسپتال کے داخلہ پر ہی بچہ کو جنم دیا
وقارآباد/تانڈور:16۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاستی حکومت ترقیاتی کاموں کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کرنےکے دعوےکرتی ہے۔پھر بھی کئی دیہاتوں اورٹاؤنس کی سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔عوامی نمائندے وعدے و اعلانات تو خوب کرتے ہیں لیکن جب کام شروع ہوتا ہے تو کچھوے کی رفتار سے سڑکوں اور پلوں کو تعمیر ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔نہ عہدیداروں کو جواب دہ بنایا جاتاہے اور نہ ہی کنٹراکٹرس کو تاکید کرتے ہوئے ایک طئے شدہ مدت ہی دی جاتی ہے کہ اس درمیان سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کو مکمل کرنا ہوگا!!
جبکہ حکومت تلنگانہ سرکاری ہسپتالوں میں بالخصوص زچگیوں کی انجام دہی کےلیے خانگی ہسپتالوں جیسی طبی سہولت بہم پہنچارہی ہے لیکن ان خراب سڑکوں کے باعث عوام کو دیہاتوں سے حاملہ خواتین اور ضعیف مریضوں کو ان ہسپتالوں تک لانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کیونکہ ایمبولنس سرویس کا عملہ بھی ان خراب سڑکوں کے باعث ان مواضعات تک پہنچنے سے انکار کررہا ہے
وقارآبادضلع کے تانڈور میں آج ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے کہ جہاں موضع سےسرکاری ہسپتال منتقل کیے جانےکے دؤران ہسپتال کے باب الداخلہ پر ہی ایک حاملہ خاتون نے بچہ کو جنم دیا۔
تانڈور۔حیدرآباد روڈ پر نوتعمیر "مدر اینڈ چائلڈ کیئر سنٹر” میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات اس حاملہ خاتون کے افراد خاندان کے مطابق تانڈور منڈل میں موجود اُدنڈا پور میسماں تانڈہ کے ساکن رمیش کی حاملہ بیوی پوجا کو شدید دردزہ کی شکایت پر تانڈور کے مدراینڈ چائلڈ کیئرسنٹر منتقل کرنا تھا۔

افراد خاندان کے مطابق جب انہوں نے ایمبولنس کو اس کی اطلاع دی تو ایمبولنس کے عملہ نے کہا کہ اس تانڈہ کی سڑک ٹھیک نہیں ہے اور ایمبولنس وہاں تک نہیں آسکتی!! تو حالت مجبوری میں افراد خاندان نے اس حاملہ خاتون کو کسی طرح آٹو کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیا۔جونہی اس خاتون کو لے کر افراد خاندان تانڈور کے اس ہسپتال پہنچے درد کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا تو آٹو کو باب الداخلہ پر ہی روک دیا گیا۔
جب ہسپتال کے ڈاکٹرز کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو وہ فوری جائے مقام پر پہنچ کر ہی اس خاتون کی زچگی انجام دی۔بعدازاں ماں اور نومولود کو ہسپتال کے وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ڈاکٹرز نے بتایا کہ ماں اور بچہ کی حالت مستحکم ہے۔جس کے بعد افراد خاندان نے راحت کی سانس لی۔اس خاتون کے افراد خاندان نے ایمبولنس کے عملہ کے اس طرز عمل کی مذمت کی۔

