گیان واپی مسجد کی ویڈیوگرافی ختم
حوض سے شیولنگ برآمد ہونے کا وکیل کا دعویٰ
علاقہ کو مہر بند کرنے عدالت کا حکم،سپریم کورٹ میں سماعت کل
حوض سے شیولنگ برآمد ہونے کا وکیل کا دعویٰ
علاقہ کو مہر بند کرنے عدالت کا حکم،سپریم کورٹ میں سماعت کل
وارانسی: 16۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
اتر پردیش کے وارانسی میں عدالت کی ہدایت پر کی جارہی گیان واپی مسجد کمپلیکس کی تین روزہ ویڈیوگرافی عدالت میں اس کیس کی اگلی سماعت سے ایک دن پہلے آج ختم ہوگئی ہے۔فلم بندی کا آخری دن آج صبح مسجد کمپلیکس کے قریب سخت سیکورٹی اور پابندیوں کے درمیان شروع کیا گیا تھا۔
ایک دعویٰ میں جو یقینی طور پر دہلاکر رکھ دیا ہے کہ غیرمسلم خواتین کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گیان واپی مسجد کمپلیکس کے اندر موجود "حوض” سے شیو لِنگ دستیاب ہوا ہے!۔وکیل سبھاش نندن چترویدی نے کہا کہ”اس حوض کے پانی کو وضو کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا”۔انہوں نے مزید کہا کہ حوض سے پانی نکالا گیا تھا اور مبینہ طور پر ایک شیو لِنگ ملا تھا۔
وکیل کے اس دعویٰ کے بعد وارانسی کی ایک عدالت نے عرضی گزاروں کی عرضی کے بعد اب اس حوض کو فوری طور پر مہر بند کرنے کاحکم دیا ہے۔عدالت نے وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے کہ کسی کو بھی اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ نے پہلے کہا تھا کہ گیان واپی مسجد کے سروے کی تفصیلات کمیشن کے کسی رکن نے ظاہر نہیں کیں۔انہوں نے کہا کہ”عدالت سروے کے بارے میں معلومات کی نگہبان ہے،ایک رکن کو کل تقریباً چند منٹوں کے لیے کمیشن سے روک دیا گیا،بعد میں کمیشن میں داخل کیا گیا،”انہوں نے کہا اور دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے کچھ رائے ظاہر کی ہے جو ان کی ذاتی ہے”۔
سرکاری وکیل مہندر پرساد پانڈے نے این ڈی ٹی وی کو بتایاکہ ویڈیو گرافی کا پوراعمل پرامن تھا۔ سروے کمیشن نے آج اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔اس نے تمام جگہوں کوتفصیل سے فلمایا۔تین گنبد،زیر زمین تہہ خانے،تالاب اور دیگر کی ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی ہے۔ایڈوکیٹ کمشنر کل عدالت میں اپنی رپورٹ داخل کریں گے جو آج کمیشن کے تینوں ممبران تیار کریں گے۔اگر رپورٹ وقت پرختم نہیں ہوتی ہے تو ہم عدالت سے مزید وقت مانگیں گے،”

دوسری جانب گیان واپی مسجد کی انجمن انتظامیہ،انتظامی کمیٹی نے سپریم کورٹ سے سروے کو روکنے کی درخواست کی ہے۔معززجسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی دو رکنی بنچ کل منگل 17 مئی کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی 1991 میں دائر اصل مقدمہ پر روک لگا دی تھی۔لیکن اسے نظرانداز کرتے ہوئے 2021 میں ایک اور درخواست دائر کی گئی۔1991 اور 2021 دونوں درخواستیں عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کے خلاف ہیں جس کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ایودھیا فیصلے کے دوران بھی توثیق کی تھی۔
یاد رہے کہ گیان واپی مسجد مشہور کاشی وشواناتھ مندر کے قریب واقع ہے اور مقامی عدالت خواتین کے ایک گروپ کی جانب سے اس کی بیرونی دیواروں پر موجود بتوں کے سامنے روزانہ پوجا کرنے کی اجازت مانگنے کی درخواست کی سماعت کررہی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر اترپردیش کیشو پرساد موریہ نے اس وکیل کے دعویٰ کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”بدھ پورنیما کے موقع پر گیان واپی میں بابا مہادیو کے ظہور نے ملک کی ابدی ہندو روایت کو ایک افسانوی پیغام دیا ہے۔

وکیل سبھاش نندن چترویدی کے اس دعویٰ کے فوری بعد کہ مسجد کے حوض سے شیولنگ برآمد ہوا ہے سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر BabaMilgaye# کا ہیش ٹیگ شروع کردیا گیا ہے اور ایک اور ” کارسیوا ” جیسے کمنٹس اور ٹوئٹس کیے جارہے ہیں!!۔


