وقارآباد ضلع کے پوڈور منڈل میں ایک نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی، دو گرفتار

وقارآباد ضلع کے پوڈور منڈل میں نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی
پروین کمار چنٹو اور چاکلی روی گرفتار،لڑکی کو اغوا کرکے زبردستی شراب پلائی گئی

وقارآباد:12۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے پوڈور منڈل کے تحت موجود موضع مرزا پور میں گزشتہ رات ایک نابالغ مسلم لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے۔

اس سلسلہ میں پولیس نے اسی موضع کے ساکن  پروین کمار چنٹو (26 سالہ) اور چاکلی روی 21 سالہ کوگرفتار کرلیا ہے۔اس واقعہ کی اطلاع کے بعد گزشتہ نصف شب تک متاثرہ لڑکی کے رشتہ داروں اور موضع کے لوگوں نے چینگیمول پولیس اسٹیشن پر احتجاج منظم کیا۔

اس سلسلہ میں پولیس نے دونوں ملزمین کے خلاف کیس درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔متاثرہ لڑکی کو طبی معائنہ کی غرض سے آج تانڈورکے گورنمنٹ ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکی کا ان دونوں درندوں نے کل رات ساڑھےسات بجے اس وقت اغوا کیا جب وہ اپنے مکان کے باہر بیٹھی ہوئی تھی۔کروا پروین جو کہ شادی شدہ اور لڑکی کا پڑوسی بتایا گیا ہے نے چاکلی روی کے ساتھ مل کر اغواکرلیا اور لڑکی کو موضع کے سنسان مقام پر لے جاکر زبردستی ان دونوں نے لڑکی شراب پلائی اور اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی۔بعدازاں گاؤں کے چند لوگوں نے ان کی پٹائی کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے مکان پہنچ کر اپنے افراد خاندان کو اس شرمناک واقعہ کی اطلاع دی تو وہ چینگیمول پولیس سے رجوع ہوئے جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے کرشنیا اور چنٹی یادو کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔

اس واقعہ کے خلاف لڑکی کے رشتہ داروں اور موضع کے لوگوں نے پولیس اسٹیشن پر نصف شب تک احتجاج منظم کرتے ہوئے ان دونوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔اطلاع کے فوری بعد ایڈیشنل کمشنر وقارآباد ڈاکٹر ایم اے رشید موضع مرزا پور پہنچ گئے،متاثرہ لڑکی اور اس کے افراد خاندان سے تمام تفصیلات حاصل کیں اور اس کے افراد خاندان کو تیقن دیا کہ خاطیوں کو کسی بھی حال بخشا نہیں جائے گا۔

اس واقعہ کے بعد موضع میں حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس پکٹ بٹھادی گئی ہے۔اس اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ نے ضلع میں سنسنی پیدا کردی ہے۔مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان شرمناک واقعہ میں ملوث کروا پروین اور ساکلی روی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔