سری لنکا میں شدید معاشی بحران : وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد صدر سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ،ایک ایم پی نے خود کو گولی مارلی،مکانات آگ کی نذر

سری لنکا میں شدید معاشی بحران: وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد
صدر سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ،ایک ایم پی نے خود کو گولی مارلی
سابق وزیراعظم،وزرا اور ارکان پارلیمان کے مکانات آگ کی نذر

کولمبو: 10۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی کا بھی اقتدارمستقل نہیں ہوتا،جوعوام کسی کو اپنا لیڈر مان بناکر اپنے سر پر بٹھاسکتی ہے وہی عوام وقت آنے پر اسے دھول بھی چٹاسکتی ہے۔! اس کی زندہ مثال سری لنکا ہے۔

سری لنکا شدید معاشی بحران کا شکار ہوگیا ہے مہنگائی اور برقی قلت کے خلاف گزشتہ دیڑھ ماہ سے وہاں مسلسل عوام کے شدید احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔عوامی احتجاج کودیکھتے ہوئے صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے نے یکم اپریل سے 7 مئی تک پانچ مرتبہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔

تاہم مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اقتصادی بحران کی ذمہ داری لیتےہوئے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکشے اور ان کے بھائی وزیراعظم مہندا راجا پکشے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔سری لنکا میں صدر گوٹابایا راجاپکشے،وزیراعظم مہندا راجا پکشے اور سرکارکے خلاف ملک گیر ہڑتال اور احتجاج میں دو ہزار سے زیادہ مزدور یونینوں نے بھی حصہ لیا تھا۔سری لنکا نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سب سے زیادہ پرتشدد دن دیکھے۔

کل پیر 9 مئی کو وزیراعظم مہنداراجا پکشے 76سالہ نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔کل موافق حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں زائداز پانچ افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔حکمراں جماعت کے رکن پارلیمان امرکیرتھی اتھکورالا نے ایک 27 سالہ شخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا اور پھر خود کو گولی مارلی۔

سری لنکا میں برہم احتجاجیوں نے راجا پکشے کے افراد خاندان،ارکان پارلیمان اور وزرا کے مکانات کو بھی آگ کی نذر کردیا ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیاہے کہ ملک معاشی بحران کی وجہ سے تناؤ کا شکارہے۔راجا پاکشے دہائیوں سے جنوبی ایشیائی ملک سری لنکا میں سب سے طاقتور سیاسی خاندان رہا ہے۔لیکن موجودہ معاشی چیلنجز کی وجہ سے یہ خاندان سیاسی دلدل میں پھنس گیا۔اب صدر سری لنکا گوتابایا راجا پکشے سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ملک بھر میں چہارشنبہ تک کرفیو کااعلان کردیا گیاہے جبکہ دارالحکومت کولمبو میں فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق حکومت مخالف مظاہرین صرف وزیراعظم کے استعفیٰ سے مطمئن نہیں ہیں اورمظاہرین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم مہندا راجا پکشے کے بھائی اور سری لنکاکے صدر گوتابایاراجاپکشے بھی اپنے عہدہ سےمستعفی ہوجائیں۔احتجاجیوں نے مہنداراجا پکشے کے سرکاری مکان کا محاصرہ کرنے کی بھی کوشش کی۔اس وقت مہندا راجا پکشے اپنے گھر میں ہی موجود تھے۔

سال 2020 کی مردم شماری کے مطابق 2.19 کروڑ سے زائد آبادی والے سری لنکا کو بڑے پیمانے پر برقی کی لوڈشیڈنگ،ایندھن کی قلت، ضروری اشیائے خوردونوش اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث عوام کا حکومت کے خلاف غصہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

سری لنکا حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام موافق حکومت لوگوں کی پٹائی کرنے اور ان کی بسوں کو جے سی بی کی مدد سے تباہ کررہے ہیں۔

بین الاقوامی صحافی Jenny Latheef@ نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کارمیں ایرپورٹ جاتے وقت سری لنکا میں احتجاجی بشمول ان کے دیگر گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں کہ کہیں ان گاڑیوں میں پکشے خاندان کو کوئی فرد تو فرار ہونے کی کوشش نہیں کررہا؟۔

ٹوئٹر پر Bandhini Fernando@نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”رکن پارلیمان نمل راجا پکشے کی اہلیہ لمینی اور ان کے فرزند کیسرا سری لنکا کے فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آج صبح کولمبو سے ٹرنکومالی کے نول بیس منتقل ہوئیں”۔ 

تمل گارجین کے ٹوئٹ کے مطابق ٹرنکومالی کے نیوی بیس پرعوامی احتجاج جاری ہے۔اور اطلاع ہے راجاپکشے کو کولمبو سے بحفاظت نکال کر فوج کے اس محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے۔اور یہ بیس ایک بدنام زمانہ تشدد کی جگہ ہے”۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافیوں کی بھی احتجاجی پٹائی کررہے ہیں!

انقلابی شاعر ساحرلدھیانوی نے "وقت” پر ایک شہرہ آفاق غزل تحریر کی تھی جسکے اشعار شاید آج سری لنکا میں جاری واقعات اور وہاں اقتدار کے نشہ میں چور حکمرانوں اور عوام کے احتجاج پر صادق آتے ہیں!! 

وقت سے دن اور رات وقت سے کل اور آج
وقت کی ہر شے غلام وقت کا ہر شے پہ راج

وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں
وقت ہے پھولوں کی سیج وقت ہے کانٹوں کا تاج

آدمی کو چاہیے وقت سے ڈر کر رہے
کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج