سپریم کورٹ نے تشدد سے متاثرہ دہلی کے جہانگیر پوری میں انہدامی کارروائی کو روک دیا
غیرقانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بلڈوزرس کا استعمال
نئی دہلی: 20۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ہنومان جینتی کے دن 16 اپریل کو نکالی گئی شوبھایاترا کے دؤران دہلی کے جہانگیر پوری میں تشدد کے بعد موجود مکانات و دکانات کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے آج دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی جانے انہدامی کارروائی پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔اور ہدایت دی ہے کہ کل ہونے والی سماعت تک ان عمارتوں کا موقف جوں کا توں رکھا جائے۔
شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آج سے ان مکانات پر بلڈوزرس چلانے کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
سینئر وکلاء دشینت دیو،کپل سبل،پی وی سریندر ناتھ اور پرشانت بھوشن نے معزز چیف جسٹس این وی رمنا کے سامنے اس معاملہ کا ذکر کیا۔جیسا کہ دشینت دیو نے بتایا کہ فساد زدہ جہانگیرپوری میں انہدام کی مہم مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔اور کسی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے موجودہ املاک کو برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئےکہا کہ’’اس معاملہ کو دوسرے معاملات کے ساتھ کل اٹھائیں۔‘‘سینئر وکیل دشینت دیو نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ مالکین کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے! اور انہدامی کارروائی کا آج 9 بجے سے آغاز کیا گیا۔
فسادات کے ملزمان کی جائیدادوں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزرس کے استعمال کے خلاف درخواست آج صبح معزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے سامنے فوری فہرست کے لیے درج کی تھی۔جمعیۃ علماء ہند نے ایک تعزیری اقدام کے طور پر مکانات کےانہدام کے خلاف عرضی دائر کی تھی۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کےاس حکم کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد سینئر وکیل دشینت دیو نے دوبارہ اس معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سے شکایت کی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی انہدامی کارروائی نہیں روکی گئی ہے۔جس پر معزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر،کمشنر اور دہلی پولیس کمشنر کو سپریم کورٹ کے ان امتناعی احکام سے واقف کروائیں۔
یاد رہے کہ مدھیہ پردیش کے کھرگون میں 10 اپریل کو رام نومی کی شوبھا یاترا کے دؤران پتھراؤ کے الزامات کے بعد 11 اپریل سے ملزمین کی جائیدادوں کومنہدم کرنے کے لیے بلڈوزر کے استعمال کے خلاف جمعیتہ علماء ہند پہلے ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہوچکی ہے۔
شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن جس پر بی جے پی اقتدار میں ہے نے آج چہارشنبہ اور جمعرات کو جہانگیر پوری کے علاقے میں انہدامی کارروائی کا آغاز کیاتھا۔اور اس نے اس انہدامی کارروائی کے لیے دہلی پولیس سے 400 پولیس ملازمین طلب کیے تھے۔جس کےبعد انہدامی کارروائی مہم کی تیاری میں آج صبح جہانگیر پوری میں بھاری پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نارتھ ویسٹ،اوشا رنگنی نے دیگر پولیس عہدیداروں کے ساتھ صبح اس علاقہ کا معائنہ کیا۔میئر شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن راجہ اقبال سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے گا اور اس کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے گی کیونکہ یہ حکم انہدامی کارروائی کے آغاز کے فوراً بعد آیا ہے۔
دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شروع کی گئی انہدامی کارروائی کو چیلنج کرنے والی عرضی پر آج سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔کارگزار چیف جسٹس وپن سنگھی اورجسٹس نوین چاولہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم اور اجیت پجاری کی درخواست کے بعد فوری فہرست سازی کی اجازت دی۔بنچ نے ہدایت دی کہ عرضی جو ابھی دائر کی گئی ہے آج سماعت کے لیے درج کی جائے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ کسی بھی تشدد کے فوری بعد ایک مخصوص طبقہ کی املاک کو تشدد میں ملوث قرار دیتے ہوئے بناء کسی قانونی اجازت،ثبوت و شواہد وسماعت کے بلڈوزرس کے ذریعہ انہدام کردینے کی اس نئی روایت کا اترپردیش سے آغاز کیا گیاتھا۔اس کے بعد یہی تجربہ 11 اپریل کو مدھیہ پردیش کے کھرگون اور بڑوانی کے بعد اب ملک کے دارالحکومت دہلی میں بھی شروع کیا گیا ہے۔!!

