یوکرین کے ایک سپاہی اور اس کی بیٹی کے درمیان دل دہلا دینے والا اور انتہائی جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

یوکرین کے ایک سپاہی اور اس کی بیٹی کے درمیان
دل دہلا دینے والا اور انتہائی جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

نئی دہلی: 25۔فروری
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک )

تاریخ کے اؤراق گواہ ہیں کہ جنگوں اور تشدد نے اس دنیا کو صرف تباہی اور بربادی ہی دی ہے۔پہلے ہی دنیا بھر میں کروڑہا افراد بھوک اور افلاسی کا شکار ہیں۔2019 میں برلن میں عالمی سطح پر مجبوراً فاقہ کشی،بھوک کے مسئلے اور کم خوراکی سے متعلق اعداد و شمار بھوک کے عالمی انڈکس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر اس وقت کرہ ارض پر 821 ملین انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے یا تو کوئی خوراک دستیاب نہیں ہے یا پھر وہ تشویش ناک حد تک کم خوراکی کا شکار ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق 2000ء سے لے کر 2019 تک گزشتہ 19 برسوں میں بھوک کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں جتنی بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے،اسے ان جنگوں اورمسلح تنازعات سے شدیدخطرات لاحق ہیں۔اب گزشتہ دو سال سے دنیا بھر میں کورونا وبا کے باعث اس بھوک اور افلاسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

نامور و حساس شاعر ساحر لدھیانوی نے ہند۔پاک جنگ کے موقع پر ایک طویل نظم کہی تھی کہ؎
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
"اس لئے اے شریف انسانو"
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

کل 24 فروری کی صبح روس نے یوکرین پرحملہ کردیا جو کہ اب باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگئی کئی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔اس سے ساری دنیا اور انسانیت کا درد رکھنے والے مضطرب ہیں۔

روس کی جانب سے انسانی آبادی پر بھی میزائل داغے جانے اور شل باری سے رہائشی عمارتوں کی تباہی اور 137 افراد کے ہلاک ہونے کی یوکرین حکومت نے تصدیق کی ہے جبکہ 400 سے زائد یوکرینی شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔

وہیں کل سے سوشل میڈیا پر ایسے ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کا جُھنڈ بھی متحرک ہوگیا ہے جو کہ یوکرین پر روس کے حملہ کی تائید کرتے ہوئے برہنہ رقص کرنے میں مصروف ہے!۔ان میں چند ضمیر فروش و ذہنی غلام صحافی بھی شامل ہیں!جنہیں انسان اور انسانیت کا درد چھوکر بھی نہیں گزرتا۔

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کورونا وبا کے دؤران”گنگا کے کنارے سینکڑوں بے گور و کفن لاشیں”بھی دیکھ چکے ہیں۔ان لاشوں سے کفن کھینچنے والوں کو بھی دیکھا ہے،قبرستانوں کے باہر لاشوں کی قطاریں بھی یہ لوگ دیکھ چکے ہیں،اپنوں کی لاشوں کو چھوڑکر بھاگنے والے قریبی رشتہ داروں کو بھی دیکھا ہے،شمشانوں میں جلتی چتائیں بھی دیکھی ہیں،ہسپتالوں کے باہر اور سڑکوں پر آکسیجن کے لیے تڑپتے مجبور و بے بس لوگوں کو بھی دیکھا ہے”۔!تاہم اتنا سب دیکھنے،پڑھنے اور سننے کے باؤجود بھی ان کے اندر کی انسانیت درندوں کو بھی مات دے رہی ہے!!

اسی دؤران سوشل میڈیا پر یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد کئی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر ہر درد مند دل رکھنے والا انسان جذباتی ہوجاتا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑی تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک یوکرین کا فوجی اپنی بیوی اور کمسن بچی کو بس میں سوار کرواکر محفوظ مقام کی جانب روانہ کررہا ہے۔اور اس دؤران اس کی ایک کمسن بیٹی کے ساتھ نظر آنے والا منظر دل دہلا دینے والا اور انتہائی جذباتی لمحات پرمشتمل ہے۔

 

ٹوئٹر پر اس انتہائی جذباتی ویڈیو کو "Mehran Anjum Mir@” مہران انجم میر” نے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”یوکرین کے ایک سپاہی اور اس کی بیٹی کے درمیان دل دہلا دینے والے اور انتہائی جذباتی لمحات۔جب وہ روسی فوج کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں تو اپنے خاندان کو الوداع کہہ رہے ہیں۔43 سیکنڈ کے اس انتہائی جذباتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یوکرینی سپاہی اور اس کی کمسن لڑکی روانہ ہونے سے قبل پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔

یوکرین پر فوجی حملہ کے بعد اب خود روس کی حکومت کو اپنے ہی عوام کی مخالفت کا سامنا شروع ہوگیا ہے۔روس کے کئی شہروں میں امن پسند شہری یوکرین پر زبردستی تھوپی گئی جنگ کے خلاف سڑکوں پر آرہے ہیں۔اور پولیس ان کے احتجاج کوسختی کے ساتھ کچلنے میں مصروف ہے۔اس کے ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیرپوتین کے آبائی مقام سینٹ پیٹرس برگ میں بھی ہزاروں مخالف جنگ احتجاجیوں نے احتجاج منظم کیا۔زیادہ تر روتے ہوئے ان احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ایسے پوسٹرس سے تھے کہ”بحیثیت روسی شہری میں اس جنگ کے خلاف ہوں”   

ساحر لدھیانوی کا مکمل کلام یہاں پیش ہے: 

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
"اس لئے اے شریف انسانو”
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے؟
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
حاصل زندگی خرد بھی ہے
حاصل زندگی جنوں ہی نہیں

آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے بربریت سے
امن تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے
امن انسان کی بقا کے لیے

جنگ افلاس اور غلامی سے
امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے
امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن پر امن زندگی کے لیے

RussiaUkraine#