لالو پرساد یادو کو پانچ سال قید اور 60 لاکھ روپئے کا جرمانہ
رانچی کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی: 21۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
74 سالہ سابق چیف منسٹر بہار و راشٹریہ جنتادل سربراہ لالو پرساد یادو کو 1995-96 میں پیش آئے 139 کروڑ روپئے کے چارہ گھوٹالہ معاملہ میں آج رانچی کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پانچ سال قید کی سزا کا حکم صادر کیا ہے اور ساتھ ہی ان پر 60 لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
سابق چیف منسٹر بہار اور راشٹریہ جنتادل سپریمو لالو پرساد یادو جنہیں چارہ گھوٹالہ کے سب سے بڑے معاملہ میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا جس میں غیر قانونی طور پر 139.35 کروڑ روپے نکال لیے گئے تھ جسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔عدالت نے آج پیر کولالو پرساد یادو کو 5 سال قید اور 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
لالو پرساد یادو کو 2013 میں پہلی بار سزاء سنائے جانے کے بعد سے ڈمکا،دیوگھراور چائباسا خزانے سے متعلق چار مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال قید کی سزا سنانے کے بعد ضمانت حاصل ہوئی تھی۔انہیں دوسرے کیس میں جنوری 2017 میں اور مارچ 2018 میں انہیں تیسرے اور چوتھے کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔
لالو پرساد یادو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ آج عدالت میں پیش ہوئے۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے انہیں اس چارہ گھوٹالہ میں 15 فروری کو مجرم قرار دیا تھا اور آج سی بی آئی کے خصوصی جج ایس کے ششی کی عدالت نے لالو پرساد یادو کو اپنا فیصلہ صادر کیا گیا۔
سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو کو آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے پانچ سال قید اور 60 لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار یادو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب جو لوگ ان کے ساتھ ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے تھے۔وہ لوگ میرے پاس بھی آئے تھے لیکن میں نے کہا تھا کہ نہیں اگر آپ مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں تو آپ کرواسکتے ہیں لیکن یہ میرا کام نہیں ہے۔
چارہ گھوٹالہ کیا ہے؟
پانچواں چارہ گھوٹالہ کیس RC/47A/96 رقم کے سب سے بڑا اسکام تھا جس کے ذریعہ 139.5 کروڑ روپئے اڑائے گئے تھے۔1990-91، اور 1995 کے درمیان ڈورانڈا خزانے سے جعلسازی کے ذریعہ نکالے گئے تھے اور یہ ریاست بہار کا سب سے بڑا اور قسطوں میں کیا گیا اسکام مانا گیا تھا جس میں 170 ملزمین کو ماخوذ کیا گیا تھا۔جن میں سے 55 کی موت واقع ہوگئی،سات ملزمین سرکاری گواہ بن گئے تھے جبکہ دو ملزمین نے اپنا گناہ قبول کرلیا تھا۔
لالو پرساد یادو اس چارہ گھوٹالہ معاملہ کے 99 اہم ملزمین میں سے ایک تھے۔محکمہ مویشی پالن (AHD)کے لیے چارہ، ادویات اور آلات خریدنے کے نام پر دھوکہ دہی سے رقم نکال لی گئی تھی۔اس کیس کے سلسلہ میں 17 فروری 1996 کو ڈورانڈا پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (60/96) درج کیا گیا تھا۔
11 مارچ 1996 کو پٹنہ ہائی کورٹ نے اس کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔لیکن اس وقت بہار کی رابڑی دیوی حکومت نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

