حجاب اسلام کا لازمی عمل نہیں،ایڈوکیٹ جنرل کرناٹک کا مؤقف
جی او میں یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی: ہائی کورٹ کا سوال؟
حجاب معاملہ کی آئندہ سماعت 21 فروری کو ہوگی
بنگلورو: 18۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کرناٹک کےتعلیمی اداروں میں حکومت کرناٹک کی جانب سےمسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف داخل کی گئیں درخواستوں کی کرناٹک ہائی کورٹ میں معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت میں معزز جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس محترمہ زینب محی الدین قاضی پر مشتمل سہء رُکنی بنچ نے آج بھی سماعت کی۔
ایک ہفتہ طویل سماعت کے بعد ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت اب 21 فروری،بروز پیر تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔
آج درخواستوں کی سماعت کے دؤران حکومت کرناٹک کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل جنرل پربھو لنگ نوادگی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی عمل نہیں ہے۔جس پر بنچ نے ان سے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے جی او جاری کرنے کی ضرورت کیا تھا اور جاری کردہ جی او میں حجاب کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟
معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے ایڈیشنل جنرل سے کہا کہ”آپ کہتے ہیں کہ جی او کی اجرائی درست ہے۔لیکن آپ کہتے ہیں کہ حجاب پر پابندی سے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی،یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘۔
ایڈیشنل جنرل نے جواب دیا کہ ریاست نے بہت شعوری طور پر اس سے دور رکھا ہے اور کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کو خود مختاری دی ہے ریاست کا شعوری موقف یہ ہے کہ ہم مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ہم کہہ سکتے تھے کہ حجاب سیکولرازم اور نظام کے خلاف ہے اور کہہ سکتے تھے کہ یہ جائز نہیں ہے۔
جس پر سہءرکنی معزز بنچ نے ان سے پوچھا کہ”کیاریاست کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر اس سلسلہ میں مبینہ طور پر بااختیار کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی حجاب پہننے کی اجازت دے؟
جس پر ایڈیشنل جنرل پربھو نوادگی نے کہا کہ اگر کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی حجاب پہننے کی اجازت دیتی ہے تو سیکشن 131 ایجوکیشن ایکٹ کے تحت ہمارے پاس نظر ثانی کے اختیارات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اعتراض ہو تو ریاست فیصلہ کرسکتی ہے۔اب تک ترتیب میں ہم نے کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کو خود مختاری دی ہے۔
معزز بنچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ جی او میں واضح طور پر یہ نہیں کہتا کہ حجاب ممنوع ہے اس حکم کو عام لوگ سمجھ سکتے ہیں۔آپ نے صحیح طور پر یہ نہیں کہا کہ حجاب پہننا ممنوع نہیں ہے۔معزز جسٹس نے پوچھا کہ یہ احکامات عام لوگوں،اساتذہ،طلبہ اور کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے لیے ہیں،وہ اس کی تشریح کیسے کریں گے؟
اس کے بعد معزز بنچ نے جی او میں تین فیصلوں (حجاب پہننے کے حق سے متعلق) کا ذکر کرنے کی ضرورت پر استفسار کیا۔بہتر مشورہ کہ ان سے بچا جا سکتا تھا لیکن وہ مرحلہ گزر چکا ہے۔ایڈیشنل جنرل نے جواب دیا کہ جی او کو سمجھنا ہوگا کہ وہ آخر کار کیا ہدایت دیتا ہے، اور درخواست گزاروں کی جانب سے یہ کہنا غلط ہے کہ یہ فرقہ وارانہ ہے۔
پربھو نوادگی نے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی،جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی پرمشتمل بنچ سے کہا کہ وہ بنیادی طور پر اس پر بحث کریں گے۔انہوں نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ حجاب پہننا اسلام کے ضروری مذہبی طریقوں میں شامل نہیں ہے،آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت حجاب پہننے کے حق کو اظہار رائے کی آزادی سے نہیں جوڑا جا سکتا اور 5 فروری کا جاری کردہ گورنمنٹ آرڈر(جی او) ایجوکیشن ایکٹ کے مطابق ہے۔جس کے تحت کالج ڈیولپمنٹ کمیٹیوں کو یونیفارم تجویز کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔اس مسئلہ کے تحت پھیل رہی بدامنی اور اس مسئلہ کے دیگر اداروں تک پہنچنے کو دیکھتے ہوئے جی او جاری کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حجاب یقینی طور پر مذہب پر عمل کرنے کے حق کی واضح مشق کے تحت آتا ہے۔تاہم بنچ کے ایک مخصوص سوال پر کہ کیا حجاب ” ضروری مذہبی عمل ” کا حصہ ہے؟ ایڈیشنل جنرل نے نفی میں جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حجاب پہننے کے عمل کو ‘آئینی اخلاقیات اور انفرادی وقار کے امتحان سے گزرنا ہوگا جیسا کہ سپریم کورٹ نے انڈین ینگ لائرز ایسوسی ایشن بمقابلہ کیرالہ (سبریمالا فیصلہ) اور شائرہ بانو بنام حکومت ہند(تین طلاق کا فیصلہ)۔ایڈیشنل جنرل نے کالج ڈیولپمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل اور انہیں دئیے گئے اختیارات کی تفصیل عدالت کو بتائی۔
جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کالج ڈیولپمنٹ کمیٹیوں میں ایم ایل اے کی تقرری کی ضرورت ہے؟جس کا مقصد طلباء کی تعلیمی بہبود کی نگرانی کرنا ہے۔کیا وہ اپنے سیاسی نظریات کیمپس میں داخل کرسکتے ہیں؟ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس ایم ایل اے کی کوئی عزت نہیں ہے۔لیکن یہ ایک نکتہ ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :اس رپورٹ کی ترتیب میں”لائیو لاء” کے لائیو ٹوئٹس اور لائیو لاء کی ویب سائٹ سے مدد لی گئی ہے۔

