بھوپال میں چار برقعہ پوش خواتین کا اسپورٹس بائیک اور بلیٹ موٹرسیکل چلانے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

بھوپال میں چار برقعہ پوش خواتین کا اسپورٹس بائیک اور
بلیٹ موٹرسیکل چلانے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ریاستی وزیر داخلہ نے کہا حجاب پر پابندی کا منصوبہ زیر غور نہیں

بھوپال: 11۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں برقعہ پوش مسلم خواتین کے ایک گروپ کی جانب سے دو پہیوں والی گاڑیاں چلانےوالا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔بتایا جارہاہے کہ یہ ویڈیو بھوپال کی وی آئی پی روڈ پر ریکارڈ  کیاگیا ہے!!۔

میڈیا اطلاعات اور اس ویڈیو پر موجود واٹرکلرمارک سے اندازہ ہورہا ہے اس ویڈیو کو انسٹاگرام کے خان سسٹرس khan_Sisters_@ اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے! (تاہم ایسا کوئی ویڈیو انسٹاگرام کے اس اکاؤنٹ پر موجود نہیں ہے!!)

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں برقعہ پہنے چار لڑکیوں کو سڑک پر بلیٹ موٹرسیکل اور اسپورٹس بائیک چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔اس ویڈیو میں دیکھا جارہا ہے کہ اسپورٹس بائیک پر پیچھے بیٹھی ہوئی ایک لڑکی نے اس دؤران فلائنگ کس (ہوائی بوسہ) بھی دیا ہے۔جبکہ وائرل شدہ اس ویڈیو میں ایک اور لڑکی فتح کا نشان دکھا رہی ہے۔

اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ کہ اس ویڈیو میں ایک ساتھ دؤڑ رہیں بلیٹ موٹرسیکل اور اسپورٹس بائیک جن پر یہ لڑکیاں سوار ہیں ان میں سے بلیٹ گاڑی کے سامنے والے نمبر پلیٹ پر بی جے پی پارٹی کے پرچم کا رنگ موجود ہے!!۔

سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی مدھیہ پردیش میں بھی حجاب اور برقعہ کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔اس مسئلہ پر اپوزیشن کانگریس نے ریاستی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں بی جے پی قائدین نے اس واقعہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ کرناٹک کے کالجس میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی اور زعفرانی تنظیموں اور طلبہ کے احتجاج کے بعد اب یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ کے زیر سماعت ہے اور اس کی اگلی سماعت 14 فروری کو ہونے والی ہے۔

کرناٹک کی مسلم لڑکیوں اور حجاب کی تائید میں ملک کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کل ہی چند مسلم لڑکیوں کا ایک ایسا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں دیکھا گیا تھا لڑکیاں برقعہ پہن کر فٹ بال اور کرکٹ کھیل رہی ہیں اور اس ویڈیو کو بھی بھوپال کا ہی بتایا گیا تھا!۔

سوشل میڈیا پرموٹرسیکلیں چلارہیں برقعہ پوش لڑکیوں کے اس وائرل شدہ ویڈیو پر صارفین کی جانب سے لکھا جارہا ہے کہ ان لڑکیوں نے ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑیاں چلانے کے دؤران ہیلمٹ نہیں پہنا ہے!!

اسی دؤران اس مسئلہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے کہا کہ ایسے مسئلے آتے رہتے ہیں جو کہ حساس معاملات سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی کئی چیزیں وائرل ہوتی ہیں۔وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ویڈیو کل کا ہے یا پرسوں کا یا کب کا ہے؟

ساتھ ہی وزیرداخلہ نے سب سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر جب کبھی ایسا کچھ نظر آئے تو وہ سب کے جذبات اور اپنے حدود کا خیال رکھیں۔اور ساتھ ہی سماج کے تمام طبقات کے حقوق کا دھیان رکھیں۔

یاد رہے کہ تین دن قبل کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ کے دؤران مدھیہ پردیش کے وزیرتعلیم مسٹر اندرسنگھ پرمار نے کہا تھا کہ حجاب اسکولوں کے ڈریس کوڈ میں شامل نہیں ہے اس لیے ضرورت ہے کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں اس کے پہننے پر پابندی عائد کی جائے۔

تاہم کل میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے واضح طور پر کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کیے جانے کا حکومت مدھیہ پردیش کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔اور نہ ہی حکومت ایسے اقدام پر غور کررہی ہے۔اسی لیے کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری جانب کرناٹک کے مانڈیا کالج میں پیش آئے طالبہ مسکان خان کے واقعہ کے بعد سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دیکھا جارہا ہے کہ قوم انتہائی جوش کا مظاہرہ کررہی ہے اور اس کے لیے مختلف قسم کے ویڈیوز اور فوٹوز کے ذریعہ چیلنجس کیے جارہے ہیں۔یا پھر مخالفین کو اُکسایا جارہا ہے!!

یاد رہے کہ اس سے قوم کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے! ایسے طرزعمل سے کھلے ذہن اور سیکولر نظریات کا حامل بہت بڑا طبقہ جو کہ حجاب کے خلاف جاری مہم کی مذمت کرتے ہوئے مسلم طالبات کے حجاب پہننے کو ان کی مذہبی اور دستوری آزادی قرار دیتے ہوئے ان کی تائید کررہا ہے ان تک غلط پیغام جائے گا!!

ضرورت شدید ہے اس مسئلہ پر شعوری یا لاشعوری طور پر ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے۔سوشل میڈیا پر کسی کی فتح یا ہار پرمشتمل بھڑکاؤ پوسٹ نہ کیے جائیں۔ کیونکہ اب یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر دؤراں ہے۔