ڈائرکٹر آف پبلک ہیلتھ تلنگانہ سرینواس راؤ بھی کوروناوائرس سے متاثر،معمولی علامات کے ساتھ ہسپتال میں شریک

ڈائرکٹر آف پبلک ہیلتھ تلنگانہ سرینواس راؤ بھی کورونا وائرس سے متاثر
معمولی علامات کے ساتھ ہسپتال میں شریک
عوام کو چوکس رہنے اور کوویڈ قواعد پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ

حیدرآباد: 18۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)

کوروناوائرس وبا شدت کے ساتھ دوبارہ پھیل رہی ہے۔ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سمیت ریاست کے اضلاع میں دن بہ دن کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کورونا وائرس کی تیسری لہر ہے۔

کیا عام اور کیا خاص سبھی اس وائرس سے متاثر ہورہے ہیں۔اہم شخصیتوں کے علاوہ فرنٹ لائن وارئیرس کا بھی کورونا وائرس سےمتاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔جن میں ڈاکٹرس،طبی عملہ کے علاوہ ملازمین پولیس کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق گاندھی ہسپتال کے 120،عثمانیہ ہسپتال کے 159 اور ریمس ہسپتال عادل آباد کے 73 ڈاکٹرس اور طبی عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایسے میں آج ڈائرکٹر آف پبلک ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔جن کی قیادت میں ریاست میں گزشتہ دوسال سے کورونا وبا سے بہترین طریقہ سے نپٹا جارہا ہے۔

ڈائرکٹر آف پبلک ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے بتایا کہ معمولی علامات کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے اپنا کوویڈ ٹسٹ کروایا تھا تو اس کی رپورٹ پازیٹیو آئی ہے اور وہ ہسپتال میں شریک ہوگئے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے خوف و اندیشوں کا ہرگز شکار نہ ہوں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہوکر دوبارہ عوام کے درمیان عوام کی خدمت کے لیے واپس آئیں گے۔

ڈائرکٹر آف پبلک ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے عوام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ چوکس رہیں اور کوویڈ قواعد پر سختی کے ساتھ عمل کریں۔یاد رہے کہ 30 ڈسمبر کو پریس کانفرنس میں تلنگانہ کے ریاستی ڈائرکٹر محکمہ پبلک ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ ماہ جنوری میں تلسنکرانتی کے بعد ہی ریاست میں کوروناوائرس کی تیسری لہر کے آنے کے امکانات ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ اومیکرون کورونا وائرس کی دوسری شکل ہے اور کورونا وائرس کی تیسری لہر اومیکرون کی شکل میں ہی ہوگی۔

ساتھ ہی ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے واضح کیا تھا کہ اومیکرون اتنا خطرناک یا جان لیوا نہیں ہے۔اور اس سے عوام کو خوفزدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے اس لہر سے اموات نہیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ محض 6 ماہ میں اس وباء سے آزادی حاصل ہوگی۔اس پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک دن میں 5 لاکھ کیس ریکارڈ ہورہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وبا کس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے؟

ڈائرکٹر محکمہ پبلک ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی حالت ملک اور ریاست تلنگانہ میں بھی ہوسکتی ہے!