تلنگانہ میں کورونا کی تیسری لہر کا آغاز،متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا سلسلہ جاری،کل ایک ہزار تو آج متاثرین کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی

تلنگانہ میں کورونا کی تیسری لہر کا آغاز،متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا سلسلہ جاری
کل ایک ہزار تو آج متاثرین کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی
عوام کوویڈ قواعد پرعمل کریں تو ماہ فروری تک وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے
ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ کا بیان

حیدرآباد: 06۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ میں بھی کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حیدرآباد میں کوروناوائرس متاثرین کی تعداد ہزاروں میں بڑھتی جارہی ہے۔

وہیں محکمہ صحت کے عہدیدار باربار بار انتباہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دن ریاست کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوں گے!۔نئے سال کی آمد کے بعد پانچویں دن سے ریاست میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں چار گنا زائد لگاتار اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

ریاست میں کورونا پازیٹیو ریٹ بھی اب تین فیصد سے زائد تک بڑھ گیا ہے۔جبکہ ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے 28 ڈسمبر کو کہا تھا کہ فی الوقت ریاست میں پازیٹیو ریٹ 0.6 فیصد ہی ہے۔اس طرح ریاست میں 8 دنوں میں کورونا وائرس کی رفتار 2.4 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔جس کے بعد ہزاروں میں کیس درج ہورہے ہیں۔

گزشتہ تین دنوں کے دؤران ریاست میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔کل 5 جنوری کو ریاست میں ایک ہزار سے زائد کورونا کیس درج ہوئے تھے وہیں آج متاثرین کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل بلٹین کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دؤران ریاست میں 54،534 افراد کے نمونے ٹسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 1،913 افراد کی رپورٹ پازیٹیو آئی ہے۔ان میں سب سے زیادہ یعنی 1،214 کورونا متاثرین کا تعلق گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) حدود سے ہے۔

جبکہ رنگاریڈی ضلع میں 213،میڑچل ملکاجگیری ضلع میں 161 کورونا کے پازیٹیو کیس درج ہوئے ہیں۔اضلاع کی بات کی جائے تو 24 گھنٹوں کے دؤران محبوب آباد میں 33، نظام آباد میں 28، کھمم میں 25، کریم نگر ،ہنمکنڈہ اور سنگاریڈی میں 24،24، نلگنڈہ میں 16،سدی پیٹ میں 14،پیداپلی میں 13،وقارآباد،محبوب نگر اور منچریال میں بالترتیب 12،سوریہ پیٹ میں 10،میدک میں اور جگتیال میں 9۔9، بھدرادری کوتا گوڑم میں 8 کورونا پازیٹیو کیس درج ہوئے ہیں۔

اس طرح کوویڈ وبا کے آغاز کے بعد سے ریاست میں جملہ 6،87،456 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔24 گھنٹوں کے دؤران ریاست میں دو کورونا متاثرین کی موت واقع ہوئی ہے اس طرح اب ریاست میں کوویڈ وبا سے جملہ 4،036 امواتیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔وہیں کل 232 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔میڈیکل بلٹین کے مطابق ریاست میں 7،847 کورونا کے ایکٹیو کیس آئسولیشن میں ہیں۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کے دؤران ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا ہے کہ ریاست میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا آغاز ہوگیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ درج ہونے والے کیسوں میں زیادہ شدت نہیں ہے اور ہسپتالوں میں کورونا وائرس متاثرین کی زیادہ تعداد داخل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اومیکرون متاثرین پانچ دنوں میں صحتیاب ہورہے ہیں۔

ساتھ ہی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ تلسنکرانتی تہوار کے موقع پر کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ سیاسی جماعتیں اور عوامی تنظیمیں اپنے پروگراموں کو چار ہفتوں کے لیے ملتوی کردیں۔

ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا کہ مختلف پابندیوں کی وجہ سے عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں اور کوویڈ قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہوئے محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کریں تو ماہ فروری میں کورونا وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا کہ عوامی صحت کے پیش نظر تمام طبی عملہ کی رخصتوں کو آج سے منسوخ کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کوویڈ متاثرین کے داخلہ کے لیے پروٹوکال پر عمل کیا جارہا ہے اور خانگی ہسپتالوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ شدید ضرورت مند کوویڈ متاثرہ افراد کو ہی ہسپتالوں میں داخل کرلیا جائے۔

ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا کہ کوویڈ وبا کی تیسری لہر کے دؤران متاثرین کو صرف عام ادویات اور عام طبی امداد ہی کافی ہوتی ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ غیر ضروری ” مولنوفراور” یا کاک ٹیل کی شکل میں علاج نہ کیا جائے۔انہوں نے خانگی ہسپتالوں کے انتظامیہ کو انتباہ دیا کہ ہسپتالوں سے رجوع ہونے والوں سے اومیکرون کے نام پر مالی لوٹ کھسوٹ کی گئی تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔