بلی بائی ایپ تیاری کرنے والی اصل سرغنہ خاتون جھارکھنڈ سے گرفتار
بنگلور سے گرفتار خاتون کا معاون وشال کمار 10 جنوری تک پولیس تحویل میں
گرفتار شدہ نوجوان کومحمد وشال الدین ظاہر کرنے کی مذموم مہم کا پردہ فاش
ممبئی :04۔جنوری (سحر نیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
انتہائی فحش اور نازیبا لفظ پرمشتمل”بُلی بائی ایپ” Bulli Bai App ” کے ذریعہ ملک کی زائداز 113 با اثر،عزت دار اور اپنے اپنے پیشہ میں ماہرمسلم خواتین بشمول صحافی و جہد کار لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرکے” ڈیل آف دی ڈے”کے آفر کے ساتھ ان کی نیلامی شروع کی گئی تھی۔
جس پر شیوسینا کی رکن راجیہ سبھا پرینکا چترویدی کی شکایت پر یکم جنوری کو ویسٹ زون ریجن سائبر کرائم پولیس اسٹیشن،ممبئی نے اس بلی ایپ اور اس ایپ کو ٹوئٹر پر پروموٹ کرنے والے ہینڈل گٹ ہب اور نامعلوم خاطیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کیا گیا تھاہے۔

ویسٹ زون ریجن سائبر کرائم پولیس اسٹیشن،ممبئی کی ٹیم نے کل 3 جنوری کو اس سلسلہ میں بنگلورو سے ایک 21 سالہ نوجوان کو گرفتار کرکے ممبئی منتقل کیا تھا۔آج اس نوجوان کی شناخت وشال کمار کی حیثیت کی گئی ہے جو کہ انجنئرنگ کا طالب علم بتایا گیا ہے۔
خبررساں ادارہ اے این آئی نے ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلی بائی ایپ کے ملزم وشال کمار کوممبئی پولیس نے آج بعد سہء پہر باندرہ کی عدالت میں پیش کیا۔جہاں سے عدالت نے وشال کمار کو 10 جنوری تک پولیس تحویل میں دے دیا۔وشال کمار کے وکیل ڈی۔پرجاپتی نے الزام عائد کیا کہ ان کا موکل بے گناہ ہے اور اسے پھنسایا گیا ہے۔
دوسری جانب اے این آئی کے مطابق بلی بائی ایپ کی تیاری کی اہم ملزمہ جھارکھنڈ کی ایک خاتون ہے جس کو تحویل میں لے کر ممبئی پولیس تفتیش میں مصروف ہے۔گرفتار شدہ وشال کمار اور یہ خاتون ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور وشال کمار اس خاتون کا معاون ہے۔اس سارے معاملہ کی اہم ملزمہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
اے این آئی نے پولیس کے حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے کہ یہ خاتون بلی بائی ایپ کے ساتھ تین اکاؤنٹس چلارہی تھی۔وشال کمار نے 31 ڈسمبر کو ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ خالصہ سوپرمیسسٹ کے نام سے بنایا بعد ازاں اس نے ان نقلی اکاؤنٹس کو خالصہ (سکھوں) کے نام سے تبدیل کردیا۔
کل ممبئی سائبر کرائم پولیس کی جانب سے بنگلور سے نوجوان کی گرفتاری اور نام ظاہر کرنے کے بعد چند بھگوا ویب سائٹس،سوشل میڈیا گروپس اور واٹس ایپ یونیورسٹی میں یہ خبر وائرل کردی گئی کہ بنگلور سے گرفتار نوجوان کا نام”محمد وشال الدین”ہے۔جبکہ اس کا اصل نام وشال کمار ہے۔
اس یہ ظاہر کرنا مقصد تھا کہ اس معاملہ کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں تاکہ معاملہ کی سنگینی کو کم کیا جاسکے اور دنیا کے سامنے یہ ظاہر ہو کہ یہ سازش خود مسلمانوں نے تیار کی تھی!۔ تاہم اس سلسلہ میں آج ممبئی سائبر کرائم پولیس کی جانب سے گرفتار شدہ نوجوان کی شناخت ظاہر کرنے کے بعد ٹوئٹر پر اس جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تنقید کی جارہی ہے۔
” بُلّی بائی ایپ ” کے متعلق مکمل تفصیلی رپورٹ اور ویڈیوز سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر :-
"بُلّی بائی ایپ” معاملہ :ممبئی پولیس نے 21سالہ نوجوان کو بنگلورو سے گرفتارکرلیا،مزید تحقیقات جاری

