تلنگانہ: ان تیسرے درجہ کے لیڈروں کو میرے بچوں پر تبصرہ کرنے سے باز رکھیں،قومی صدر بی جے پی کو کے ٹی آر کا ٹوئٹ

براہ کرم ان تیسرے درجہ کے لیڈروں کو میرے بچوں پر تبصرہ سے باز رکھیں
قومی صدر بی جے پی کو کے ٹی آر کا ٹوئٹ،وائی ایس شرمیلا کی تائید
"تین مار ملنا” کے یوٹیوب سروے پر کے ٹی آر برہم،سوشل میڈیا پر بحث جاری

حیدرآباد: 25۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

سیاسی معیار اور اقدار کو زیادہ تر سیاستدانوں کی جانب سے جوتوں تلے رؤندا جارہا ہے! ان کے ساتھ ساتھ سماج کو راستہ دکھانے اور ان کی آواز مانا جانے والا میڈیا بھی اب اپنے راستے سے بھٹک چکا ہے! انتہائی نچلے درجہ کی صحافت کے ذریعہ صحافت جیسے مقدس پیشہ کی اہمیت کو گھٹا دیا گیا ہے! یہی وجہ ہے کہ اب پیشہ وارانہ صحافت سے عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ عاجز آچکا ہے۔

ریاست تلنگانہ کے وزیر بلدی نظم و نسق و آئی ٹی اور کارگزار صدر ٹی آر ایس پارٹی کے۔تارک راما راؤ (کے ٹی آر) جو کہ اس ریاست کے چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کے فرزند بھی ہیں نے کل 24 ڈسمبر کو ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ سے باقاعدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”سری نڈا جی، کیا آپ تلنگانہ میں بی جے پی لیڈروں کو یہی سکھاتے ہیں؟ کیا میرے جوان بیٹے کو گھسیٹنا اور بی جے پی کے منہ بولے سیاسی تبصروں کے ذریعے اسے شرمندہ کرنا سنسکار ہے؟ آپ کو نہیں لگتا کہ ہم امت شاہ جی یا مودی جی کے خاندان کے خلاف ایک ہی سکے میں بدل سکتے ہیں؟

ساتھ ہی ریاستی وزیر کے ٹی آر نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ” براہ کرم بی جے پی کے ان تیسرے درجے کے لیڈروں اور میڈیا کے ترجمانوں کو خاص طور پر میرے بچوں پر گھٹیا تبصرے کرنے سے باز رکھیں”۔اسی ٹوئٹ میں ریاستی وزیر کے ٹی آر نے لکھا ہے کہ”ہم قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے جتنا میں اس سے نفرت کرتا ہوں،جب ہم برابری کے ساتھ جواب دینے پر مجبور ہوں تو ہم پر الزام نہ لگائیں”۔

دراصل تلگو میڈیا کی ایک جذباتی شخصیت ” تین مار ملنا ” نے اپنے یوٹیوب چینل Q News کے ذریعہ اپنے ناظرین سے سوال کیا تھا کہ ” ترقی کہاں ہوئی؟ بھدراچلم مندر میں یا ہیمانشو کے بدن میں؟ "ہیمانشو راؤ ریاستی وزیر کے ٹی آر کے فرزند ہیں۔

تین مار ملنا کا یہ سوالیہ پوسٹ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر وائرل ہوگیا ہے جس کے بعد جہاں کے ٹی آر برہم ہوئے ہیں وہیں ٹی آر پارٹی قائدین اور کارکنوں میں بھی شدید برہمی پیدا ہوگئی ہے۔سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین بھی اس پر شدید برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔

اس دؤران آنجہانی وزیراعلیٰ متحدہ ریاست آندھراپردیش وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر اور وزیراعلیٰ آندھراپردیش وائی جگن موہن ریڈی کی ہمشیرہ وہ تلنگانہ وائی ایس آر پارٹی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے ریاستی وزیر کے ٹی آر کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

وائی ایس شرمیلا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ایک ماں ہونے کے ناطے اور ایک سیاسی جماعت کی رہنما کے طور پر میں خاندان کے افراد پر ایسے تضحیک آمیز بیانات کی اور بچوں کے خلاف ایسی غنڈہ گردی  کی مذمت کرتی ہوں۔

خواہ یہ خواتین کی تذلیل ہو یا بچوں کو بدنیتی سے دوچار کرنے کا معاملہ ہو۔وائی ایس شرمیلا  نے اپنے اسی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر ایسے بیانات کو ختم کرنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے "۔

یاد رہے کہ تین مار ملنا نے جیل سے اپنی رہائی کے بعد دہلی پہنچ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔اس کے بعد سے ان کے تیور مزید سخت ہوگئے ہیں اور  وہ کھل کر وزیراعلیٰ کے سی آر،ریاستی وزیر کے ٹی آر کے علاوہ وزیر صحت ہریش راؤ کے بشمول دیگر پارٹی قائدین کے خلاف کئی ایک الزامات اور رکیک حملوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔

جس کے خلاف سوشل میڈیا صارفین بھی تین مار ملنا کی ان حرکتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کمنٹس میں لکھ رہے ہیں کہ سیاسی جنگ میں سیاسی قائدین کے خاندان اور ان کے بچوں کو گھسیٹنا اوچھی حرکت ہے۔

فی الحال ٹوئٹر اور فیس بک پر تین مار ملنا کے حامیوں،بی جے پی کارکنوں اور ٹی آر ایس پارٹی کے ہمدردوں اور کارکنوں کے خلاف زبردست لفظی جھڑپ جاری ہے!

اسی دؤران آج ہی چند نقاب پوش افراد نے تین مار ملنا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور ان پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی اس کی بھی مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے!

میڈیا کے ایک گوشے میں ایسی اطلاعات بھی زیر گشت ہیں کہ بی جے پی ہائی کمان تین مار ملنا کی ان حرکتوں پر نکیل کسنے والی ہے؟َ