حیرت ہے یہ محبت اورہمدردی اُس وقت کہاں تھی! ریاستی وزیر کے ٹی آر کا وزیراعظم نریندرمودی سے سوال

حیرت ہے یہ محبت اور ہمدردی اُس وقت کہاں تھی؟
ریاستی وزیر کے ٹی آر کا ٹوئٹر پر وزیراعظم نریندرمودی سے سوال

حیدرآباد: 19۔ڈسمبر(سحرنیوزڈیسک)

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ گزشتہ ایک ماہ سے پریس کانفرنسوں اور اپنے بیانات و اعلانات کے ذریعہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندرمودی پر شدید تنقید میں مصروف ہیں۔

مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے کسانوں سے دھان خریدنے سے انکار کے بعد سے وزیراعلیٰ کے۔چندرا شیکھرراؤ مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندرمودی کا لگاتار تعاقب کررہے ہیں۔تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج بھی منظم کیے گئے۔

ساتھ ہی ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم ونسق کے۔ تارک راماراؤ(کے ٹی آر) کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر وزیراعظم نریندر مودی کو کھل کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

3 ڈسمبر کو ریاستی وزیر کے ٹی آر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں باقاعدہ وزیراعظم نریندرمودی کو ٹیاگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ریاست تلنگانہ کے کالیشورم پراجکٹ یا پھر پالمور لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کو قومی درجہ دیا جائے۔ساتھ ہی اپنے اس ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ حکومت تلنگانہ کی نمائندگی کے باؤجود مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کے پولاورم پراجکٹ اور کرناٹک کے اپر بھدرا پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دے دیا۔

آج ریاستی وزیر کے ٹی آر نے فیس بک اور ٹوئٹر پر لاک ڈاؤن کے دؤران پیدل سفر کرکے اپنے مقامات تک پہنچنے والے مہاجر مزدوروں کی 6 تصاویر اور گزشتہ دنوں بنارس میں مزدوروں کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے لنچ کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ”حیرت ہے کہ یہ محبت اور ہمدردی اس وقت کہاں تھی جب لاکھوں مہاجر مزدور سینکڑوں کلومیٹر پیدل چل رہے تھے۔!درحقیقت حکومت ہند نے ریاستوں کو شرامک ریلوں کے کرایوں کی ادائیگی کے لیے مجبور کیا تھا۔”

اپنے اسی ٹوئٹ اور فیس بک پوسٹ میں کے ٹی آر نے تلگو میں بھی لکھا ہے کہ”انتخابات رہے تو ایسا،مزدوروں کے ساتھ مل کر لنچ،نہیں تو ویسا،مہاجر مزدوروں کو ہوا میں چھوڑکر جہنم دکھانا!