وقارآباد ضلع: پارٹی اختلافات آشکار! وزیرتعلیم سبیتا ریڈی کی موجودگی میں ایم ایل سی اور ایم ایل اے کے درمیان بحث، وزیرتعلیم کی مداخلت

وقارآباد ضلع : ٹی آر ایس پارٹی میں موجود اختلافات آشکار!
تانڈور میں منعقدہ اجلاس میں وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی کی موجودگی میں
ایم ایل سی اور ایم ایل اے کے درمیان پروٹوکال کے مسئلہ پر بحث و تکرار

وقارآباد؍تانڈور: 10۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع میں موجود حلقہ اسمبلی تانڈور کے عوام اور خود سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ بات دبے لفظوں میں کہی جاتی ہے کہ حلقہ اسمبلی تانڈور میں ٹی آر ایس پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہے۔!!

ایک گروپ رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی کا تو دوسرا گروپ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کا!؟

تانڈور کے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسی آپسی داؤ پیچ اور ان گروپس کے درمیان سیاسی طاقت کے مظاہرہ کی وجہ سے تانڈور کی ترقی ٹھپ ہے اور تانڈور کی فضائی آلودگی،خراب سڑکوں،ٹوٹے ہوئے پلوں اور عوام کو درپیش دیگرمسائل کا حل تلاش نہیں کیا جارہا ہے 

تاہم آج تانڈور میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب میں ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی کی موجودگی میں رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور ان کے حامیوں کے درمیان موجود اختلافات آشکار ہوگئے اور یہ دونوں قائدین وزیرتعلیم کی موجودگی میں اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔کہ ” آپ کتنے؟ میں کتنا؟؟ "

تاہم وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ان دونوں گروپس کو سمجھاتے ہوئے معاملہ کو سرد کیا۔

تفصیلات کے مطابق تانڈور کے تلسی گارڈن میں آج گرام پنچایتوں کو فاگنگ مشینوں کی حوالگی کی اس تقریب بطور مہمانان خصوصی وزیر تعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی،رکن قانون ساز کونسل حلقہ گرائجویٹ سرابھی وانی دیوی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی شریک تھے۔

” ایم ایل سی اور ایم ایل اے کے درمیان لفظی جھڑپ، ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

بعدازاں چند منٹوں کی تاخیر سے رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی،صدر نشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل،پارٹی ارکان بلدیہ اور اپنے حامیوں کے ساتھ تقریب میں پہنچے۔ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی اور صدرنشین بلدیہ سواپنا پریمل اسٹیج پر پہنچے۔

اسی دؤران تانڈور منڈل کے گوتاپور ایم پی ٹی سی سائی ریڈی،انتارام کے سرپنچ راملو،صدر ٹی آرایس پدیمول منڈل کوہیر سرینواس اور چند ٹی آر ایس قائدین جنہیں (رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی گروپ کا مانا جانا ہے) نے اعتراض کیا کہ اس تقریب کے اسٹیج پر پروٹوکال پر عمل نہیں کیا جارہا ہے!

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مواضعات اور گرام پنچایتوں سے تعلق رکھنے والے اس پروگرام میں بلدیہ تانڈور سے تعلق رکھنے والوں کو کیوں اسٹیج پر بلایا گیا ہے؟

جس پر ٹی آر ایس پارٹی کے سینیئر قائدین اور ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کے حامی مانے جانے والے پٹلولا نرسملو،وڈے سرینواس،ٹی آرایس فلور لیڈر بلدیہ شوبھا رانی، پٹلولا نیرجا بال ریڈی،سابق نائب صدرنشین بلدیہ رتنا مالا نرسملو اور دیگر نے ان سے استفسار کیا کہ مواضعات سے تعلق رکھنے والے اس پروگرام کو تانڈور کے بلدی حدود میں کیوں منعقد کیا جارہا ہے؟

جس کے بعد اس تقریب میں حالات کشیدہ ہوگئے اور پارٹی کے دونوں گروپس آمنے سامنے آگئے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے ڈی ایس پی تانڈورلکشمی نارائن اور دیگر پولیس عہدیداروں نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں گروپس کو سمجھانے کی کوشش کی۔

اسی دؤران صدر نشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل نے اپنی اہانت محسوس کرتے ہوئے اسٹیج سے اٹھ گئیں اور کہا کہ آئندہ بلدی حدود میں مواضعات کے پروگرام منعقد نہ کیے جائیں۔اور منعقد کیے بھی جائیں تو انہیں مدعو کرتے ہوئے اس طرح ان کی اہانت نہ کی جائے۔

ان واقعات نے تانڈور میں رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و رکن اسمبلی تانڈور کے گروپ کے درمیان موجود سرد جنگ کو سب کے سامنے آشکار کردیا!!

اسی دؤران اسٹیج پر وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی کی دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی۔

" اس واقعہ کا دوسرا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

بعدازاں ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی اسٹیج پر موجود ایڈیشنل کلکٹر وقارآباد چندریا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ اس مقام پر تقریب کا انعقاد کیوں اور کس کے کہنے پر کیا گیا ہے؟۔زائد از نصف گھنٹہ تک اس تقریب میں ڈرامائی واقعات دیکھے گئے۔

اسی دؤران رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کے حامی ارکان بلدیہ اور پارٹی قائدین نے تقریب میں ان کی اہانت کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسٹیج کے سامنے فرش پر بیٹھ کر احتجاج منظم کیا۔

ان تمام واقعات کے دؤران وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی بار بار مداخلت کرتی رہیں اور دونوں گروپس کے درمیان جاری اس معاملہ کو سرد کرنے کی کوشش کی۔بعدازاں حالات معمول پر لوٹ آئے۔جس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

اس موقع پر وزیرتعلیم  پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے آج پیش آئے اس واقعہ پر شدید افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو اور تمام پارٹی قائدین اور کارکن آپسی تال میل کے ذریعہ کام کریں اور فوری طور پر اختلافات کو ختم کریں۔