وقارآبادضلع کے تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف ایک شخص نے سڑک پرگھٹنوں پر چل کر اور لوٹ کر احتجاج کیا

وقارآبادضلع کے تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف
ایک شخص نے سڑک پرگھٹنوں پر چل کر اور لوٹ کر احتجاج کیا
حکومت اور منتخبہ عوامی نمائندے عوام کو کس جرم کی سزاء دے رہے ہیں؟

وقارآباد/تانڈور: 01۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں موجود تانڈور ٹاؤن میں موجود خطرناک فضائی آلودگی اور یہاں کی خراب سڑکیں عوام کے لیے شدید پریشانیاں پیدا کر رہی ہیں۔

فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں امراض قلب،گردوں کا عارضہ، دمہ اور سانس کی بیماریاں،جلدی بیماریوں سمیت مختلف بیماریاں عام ہیں۔

تانڈور میں موجود چارسمنٹ فیکٹریز، ہزاروں شاہ آباد پتھر(سنگ سیلو) کی معدنیات اورصنعتوں،سدہ کی معدنیات کے علاوہ تور کی دال کی پیداوار اور یہاں موجودسینکڑوں چھوٹے بڑے کارخانوں،ہزاروں ٹرکس اورمختلف چھوٹی بڑی سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعہ حکومت کو سالانہ کروڑہا روپئے برقی بلس،رائلٹی،جی ایس ٹی،وہیکل ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کی شکل میں حاصل ہوتے ہیں۔

لیکن گزشتہ کئی سال سے حکومت،محکمہ پولیوشن کنٹرول بورڈ اور محکمہ آر اینڈ بی کی کارکردگی تانڈور کے عوام میں مایوسی کا باعث بن رہی ہے!

اس فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف دو دن قبل ہی موضع انتارام کے ساکن رضوان نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے گلے میں چپلوں کا ہار ڈال کر بیٹھ گئے تھے اور تانڈور کے رائے دہندوں سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انہوں نے موجودہ رکن اسمبلی تانڈور کے وعدوں اور اعلانات پر بھروسہ کرتے ہوئے غلط شخص کو اپنا ووٹ دیتے ہوئے ان کا انتخاب کیا تھا۔

محمد رضوان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں سے تانڈور کی جو موجودہ حالت ہے اس کے لیے ان کا ووٹ بھی ذمہ دار ہے۔انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ محض پیسوں اور شراب کے لالچ میں انہوں نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا تھا جس سے آج سارے تانڈور کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اس احتجاج کو میڈیا اور سوشل میڈیا میں بہت زیادہ جگہ دی گئی اور ہر طرف اس احتجاج کی ستائش کی گئی تھی۔تاہم اس کے باؤجود بھی آج تک مقامی رکن اسمبلی اور متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی تیقن دیا گیا۔

اسی دؤران آج تانڈور کی فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف تانڈور منڈل کے دستگیر پیٹ کے ساتھ ” بوئنی امبریش ” نے آج موضع انتارام سے ہی ظہیرآباد جانے والی سڑک پر ہاتھ جوڑ کر بطور احتجاج کچھ دور تک اپنے گھٹنوں کے بل چلنے کے بعد اپنے دونوں جوڑے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ ہی کنکروں سے بھری ہوئی سڑک پر لوٹتے ہوئے بڑا فاصلہ طئے کیا۔اس منظر کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔

ان کا کہنا تھا کہ تانڈور کی فضائی آلودگی کے خاتمہ اور سڑکوں کی حالت بہتر کیے جانے تک وہ مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے تاکہ یہاں کے عوام کو ان روز روز کی پریشانیوں سے چھٹکارہ مل جائے۔

جب پولیس کو اطلاع ملی کہ بوئنی امبریش سڑک پر لوٹ کر احتجاج کررہے ہیں تو جائے مقام پر پہنچ کر بوئنی امبریش کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔یاد رہے کہ بوئنی امبریش ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی کے قدیم کارکن ہیں۔

قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ ضلع وقارآباد میں موجود چار اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل کے ارکان اسمبلی کا تعلق بھی ٹی آر ایس پارٹی سے ہے اور ان چاروں اسمبلی حلقہ جات کی بلدیات پر بھی ٹی آر ایس پارٹی کا ہی قبضہ ہے۔

تانڈور سے لے کر براہ وقارآباد اور چیوڑلہ ٹی آر ایس پارٹی ہی اقتدار پر ہے تو پھر عوام کا استفسار ہے کہ تانڈور کے عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ اور حکومت تلنگانہ نے کیوں تانڈور کی اس خطرناک فضائی آلودگی میں سانس لینے کے لیے عوام کو اس طرح چھوڑ دیا ہے؟

” تانڈور میں آج کیے گئے اس احتجاج کا مکمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

اور کیوں ملک بھر میں اس کاروباری و تجارتی پہچان کے حامل تانڈور کی سڑکوں کی حالت درست نہیں کی جاتی؟

عوام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے وقت تانڈور کو سنگاپور کی طرز پر ترقی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور انتخابات ہوکر تین سال ہوگئے لیکن یہاں سانس لینا بھی تکلیف دہ ہے۔اور تانڈور کی اتنی بڑی آبادی کے لیے ایک پارک تک میسر نہیں ہے جہاں عوام تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی صاف آب و ہوا میں سکون کی سانس لے سکیں!!

اندرون تین یوم یہاں رضوان اور اب امبریش کا یہ احتجاج میڈیا اور سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور متعلقہ عہدیدار کیا اقدامات کرتے ہیں؟  

 

” 29 نومبر کو تانڈور کے انتارام میں محمد رضوان کی جانب سے کیے گئے احتجاج کی تفصیلات اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں "

تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے لیے میرا ووٹ ذمہ دار ہے،ایک شخص کا انوکھا احتجاج