جامع مسجد ہے کیا یہ؟یہ ہندوؤں کا ایریا ہے،آج ہماری دیوالی ہے
دُکان کس کی اجازت سے کھولی ہے؟ ہوٹل مالک کو گالیاں اور مختلف دھمکیاں
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے ازخود کیس درج کرلیا
نئی دہلی: 06۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ہر طرف فرقہ پرستی،تنگ نظری اور مذہبی منافرت کا ننگا ناچ،نماز پڑھنے پر احتجاج اور اعتراض،کاروبار کرنے پر مارپیٹ،کچھ کھانے پر اعتراض تو کچھ نہ کھانے پر اعتراض! ملک کس طرف جارہا ہے اور آنے والی نسلوں کو ہم کیسا ملک اور کس طرح کا نفرت سے بھرا ہوا سماج سونپنے جارہے ہیں؟اس کی فکر نہ حکمرانوں کو ہے اور نہ ہی عوام کو!!سڑکوں پر جو ہورہا ہے اور جو کیا جارہا ہے بس دیکھتے ہوئے گزر جاؤ اس سے ہمیں کیا؟ یہ خاموشی اور منافرت کا ناگ اس ملک کی مذہبی رواداری اور گنگاجمنی تہذیب کو آہستہ آہستہ نگلتا جارہا ہے!!
ایسی ہی منافرت پرمشتمل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں دیوالی کی رات ایک ہوٹل راں کے ساتھ انتہائی فحش کلامی کے ساتھ اس کے مذہب اور اس کی جمہوری آزادی کو ایک احسان کے طورپر گنا جارہا ہے۔
اس ویڈیو میں باآسانی سنا جاسکتا ہے کہ ہوٹل مالک کو کس طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کیسی کیسی گالیوں سے اسے نوازا جارہا ہے! قابل غور بات یہ ہے کہ کھلے عوامی مقامات پر اس طرح کی زہرافشانی اور دھمکیوں کے ساتھ ویڈیو بھی لیا جاتا ہے اور اس کو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا جاتا ہے! یہ لوگ کیوں اتنے بے خوف ہوگئے ہیں؟ اور کیوں انہیں قانون سے خوف نہیں ہوتا؟

اس دو منٹ اور 50 سیکنڈ کے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عالم مرادآبادی نامی ایک بریانی کی ہوٹل پر ایک شخص پہنچتا ہے اور وہاں بیٹھے عملہ سے پوچھتا ہے کہ”اے بھئی! آج دکان کیسے کھول رکھی ہے؟ تجھے پتہ نہیں ہے آج ہندؤں کا دؤرہ ہے بڑی دیوالی ہے؟ابے بند کر اس کو جامع مسجد ہے کیا ہے؟ کس کے اشارہ پر کھولی ہےَ؟یہ ہندؤوں کا ایریا ہے!! اور یہاں ہندو رہتے ہیں،اگر میں تیری مسجد کے سامنے سوّر کاٹوں تو تجھے اچھا لگے گا؟اپنے قاعدہ میں رہو،آگ لگ جائے گی یہاں پہ!
اس کے ساتھ بہت سی گالیاں ہیں۔بالآخر ان دھمکیوں اور گالی گلوچ کے ساتھ اس بریانی کی دُکان کو بند کروایا جاتا ہے۔اس پورے واقعہ کے دؤران ہوٹل کا عملہ حیران،خوفزدہ اور بدسلوکی کے سلسلہ کا جواب دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔اس واقعہ کے دؤران وہ شخص وہاں جمع ہوئے ہجوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ”…بھائیو! جگ جاؤ ابھی،یہ لوگ یہاں ہماری بہن بیٹیوں کو راہول اور امن بن کر پھنساتے ہیں لڑکیوں کو یہ اور لؤ جہاد کرتے ہیں…انہیں پھنسانے کے لیے۔”
اس اشتعال انگیز اور نفرت آمیز ویڈیو کے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے ازخود اس کا نوٹ لیتے ہوئے تفتیش شروع کردی اور آئی پی سی کی دفعہ 295A (جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں،جس کا مقصد مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کرلیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ ویڈیو دہلی کے سنت نگر کا ہے اور اس سلسلہ میں ڈی سی پی(نارتھ) ساگرسنگھ کالسی نے کہا ہے کہ اس معاملہ کی کسی نے بھی کوئی شکایت درج نہیں کروائی ہے تاہم حقائق کی تصدیق کی جارہی ہے اور قانون کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔
این ڈی ٹی وی ہی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس شخص کا نام نریش کمار سوریا ونشی ہے اور وہ اس ویڈیو میں اپنی شناخت بجرنگ دل کے رکن کے طور پر کرتا ہے۔

