میانمار میں فوجی بغاوت،امریکہ نے دیا پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ

میانمار میں فوجی بغاوت،امریکہ نے دیا پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ

امریکہ /میانمار ۔2/فروری (ایجنسیاں/سحرنیوز ڈیسک) میانمار میں کل فوج کی بغاوت ،اقتدار پر قبضہ اور وہاں کے اہم قائدین بشمول آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے بعد امریکی نومنتخب صدر مسٹر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میانمار پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔! پیر کو جاری ایک بیان میں امریکی صدر مسٹر بائیڈن نے کہا ہے کہ برما کے لوگ تقریباً ایک دہائی سے ملک میں انتخابات، سویلین حکومت کے قیام اور پرامن اقتدارکی منتقلی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے میانمار پر عائد پابندیاں ہٹا لی تھیں جب ملک جمہوریت کی طرف جا رہا تھا۔

تاہم اقتدار پر فوج کے حالیہ قبضے کے بعد امریکہ پابندی کے قوانین کا جائزہ لے گا اورمناسب قدم اٹھائے گا۔امریکی صدر کے بقول جمہوریت کی طرف سفر میں پیشرفت کا ختم ہونا پابندی اور اختیارات سے متعلق قوانین کے فوری جائزے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے دیگر اقوام پر بھی ایسا ہی کرنے پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ میانمار کی فوج نے پیر کو ملک کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے سیاسی قیادت کو گرفتار کر لیا تھا اور ملک بھر میں کم از کم ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

امریکہ اور اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں نے میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے اور ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔امن کا نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی گرفتاری کو 24 گھنٹے سے بھی زائدہو چکا ہے اور اب تک فوج کی جانب سےیہ نہیں بتایا گیاکہ اْنہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔

امریکہ کی سینیٹ نے بھی کہا ہے کہ میانمار کی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔سینیٹ میں اکثریتی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس صورتِ حال کے حل کے لیے نئی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتونیو گوتریس میانمار میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی فوج کو منتقلی پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ یہ اقدامات ان کے بقول میانمار میں جمہوری اصلاحات کے لیے ایک شدید دھچکا ہیں۔

میانمار میں انسانی حقوق کی صورتِ حال سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اوم اینڈریوز نے بھی دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار پر پابندیوں کے بارے میں غور کریں۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار پر سخت، اہداف والی پابندیاں اور اسلحے پر پابندیوں جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاوقتیکہ ملک میں جمہوریت بحال نہ ہو جائے۔

ا نسانی فلاح کی تنظیم ریفیوجی انٹرنیشنل نے بھی میانمار میں صورتِ حال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے برما کی فوج کے عوام کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری سلوک پر تشویش ہے۔ریفیوجی انٹرنیشنل کے سینئر ایڈوکیٹ ڈینئل پی سلوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی ایک تاریخ ہے یہ فوج روہنگیا ؤں کی نسل کشی کی بھی ذمہ دار ہے یہ فوجی بغاوت اس جگہ تک رسائی کے بارے میں بھی تشویش کا سبب ہے جہاں انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔۔

جنوبی مشرقی ایشائی ملکوں کی تنظیم آسیان نے بھی میانمار میں حالات کی معمول پر واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا،ہندوستان ، جاپان اور سنگاپور نے میانمار میں صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔