لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان، 7 مرحلوں میں رائے دہی : چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی پریس کانفرنس

لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان، 7 مرحلوں میں ہوگی رائے دہی
تلنگانہ اور آندھراپردیش میں چوتھے مرحلہ میں 13 مئی کو ووٹنگ، 4 جون کو نتائج
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی پریس کانفرنس

نئی دہلی : 16۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک )

چیف الیکشن کمشنر،الیکشن کمیشن آف انڈیا ECI# راجیو کمار نے آج ملک میں لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان کردیا ہے۔ساتھ ہی ملک کی چار ریاستوں آندھراپردیش، ارونا چل پردیش، سکم اور اوذیشہ (اڑیسہ) اسمبلی انتخابات کا بھی اعلان کیا ہے۔

آج سہء پہر چیف الیکشن کمشنر راجیو کمارنے دیگر دو نومنتخب الیکشن کمشنران سکبھیر سنگھ سندھو اور گیانیش کمار کےساتھ دہلی کےوگیان بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے اعلان کیا کہ 2019ء کی طرح ملک کی 18 ویں لوک سبھا کی 544 نشستوں کے لیے سات (7) مرحلوں میں رائے دہی 19 اپریل سے 1 جون تک انتخابات الگ الگ تواریخ کو منعقد ہونگے اوران لوک سبھا انتخابات کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا اور 6 جون تک انتخابی عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔

جبکہ آندھراپردیش اسمبلی کےلیے 13 مئی کو،سکم اسمبلی اور ارونا چل پردیش اسمبلی کے لیے 19 اپریل کو اور اوڈیشہ (اڑیسہ) اسمبلی کےلیے 13 مئی کو رائے دہی ہوگی اوران چاروں اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے مطابق لوک سبھا کے لیے

⬅️ 19 اپریل کو پہلے مرحلہ کے تحت 102 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 26 اپریل کو دوسرے مرحلے کے تحت 89 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 7 مئی کو تیسرے مرحلہ کے تحت 94 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 13 مئی کو چوتھے مرحلہ کے تحت 96 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 20 مئی کو پانچویں مرحلہ کے تحت 49 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 25 مئی کو چھٹویں مرحلہ کے تحت 57 نشستوں پر رائے دہی ہوگی۔
⬅️ 1 جون کو قطعی و ساتویں مرحلہ کےتحت 57 نشستوں پر رائے دہی کاعمل مکمل کرلیاجائے گا اور 4 جون کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج جاری کیے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ ملک کی 22 ریاستوں و مرکزی زیر انتظام علاقوں میں لوک سبھا کےلیے ارونا چل پردیش،انڈو مان نکوبا، چندی گڑھ،آندھراپردیش، دیودمن، دہلی، گوا،گجرات،ہماچل پردیش، کیرالہ، ہریانہ،لکشادیپ،لداخ، میزورم،میگھالیہ،ناگالینڈ، پانڈیچری،سکم، تمل ناڈو، پنجاب، اتر اکھنڈ اور تلنگانہ میں ایک ہی مرحلہ میں رائے دہی ہوگی۔

جبکہ 4 ریاستوں کرناٹک،تریپورہ،راجستھان اور منی پور میں 2 مرحلوں میں رائےدہی ہوگی۔اسی طرح اڑیسہ،جھارکھنڈ اورمدھیہ پردیش میں 4 مرحلوں میں رائے دہی منعقد کی جائے گی۔وہیں 2 ریاستوں جموں و کشمیر اور مہاراشٹرا میں 5 مرحلوں میں رائے دہی ہوگی جبکہ 3 ریاستوں اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار میں 7 مرحلوں میں رائے دہی ہوگی۔

⬅️ ریاست تلنگانہ میں 13 مئی کو لوک سبھا انتخابات کے لیے رائے دہی ہوگی۔
⬅️ ساتھ ہی اسی دن سکندرآباد کنٹونمنٹ اسمبلی حلقہ کے لیے رائے ضمنی انتخابات کے تحت دہی ہوگی
جہاں کی رکن اسمبلی حال ہی میں ایک سڑک حادثہ میں ہلاک ہوئی تھیں۔
⬅️ لوک سبھا انتخابات کے لیے تلنگانہ میں 18 اپریل کو انتخابی اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ 
⬅️ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 25 اپریل ہوگی، پرچہ نامزدگی کی جانچ 26 اپریل کو کی جائے گی۔
⬅️ 29 اپریل کو پرچہ نامزدگی واپس لیا جاسکتا ہے۔
⬅️ 13 مئی کو رائے دہی ہوگی اور 4 جون کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔

اسی طرح آج مرکزی الیکشن کمشنر نے ریاست آندھرا پردیش کی اسمبلی کے انتخابات کا بھی اعلان کیا جس کی معیاد جون میں ختم ہونے والی ہے۔آندھرا پردیش میں 13 مئی کو لوک سبھا اور اسمبلی کے لیے رائے دہی ہوگی۔اور نتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے بتایا کہ ان انتخابات میں 97 کروڑ رجسٹرڈ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں 47 کروڑ 90 لاکھ مرد رائے دہندگان اور 47 کروڑ ایک لاکھ خاتون رائے دہندگان شامل ہیں۔

ان میں ایک کروڑ 80 لاکھ نوجوان پہلی مرتبہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔جبکہ 19 کروڑ 74 ہزار نوجوان رائے دہندہ ایسے ہیں جن کی عمریں 20 اور 29 سال کے درمیان ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ ملک کی 12 ر یاستیں ایسی ہیں جہاں خاتون رائے دہندگان کی تعداد مرد رائے دہندگان کی بہ نسبت زیادہ ہے۔

اسی طرح ان میں 19 لاکھ سے زائد ملازمین سرکاربھی ووٹ دیں گے۔ جملہ رائے دہندگان میں 88 لاکھ 40 ہزار معذور افراد ہیں جبکہ 2 لاکھ 18 ہزار رائے دہندگان اپنی عمر کے 100 مکمل کرچکے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ 1 اپریل 2024 کو اپنی عمر کے 18 سال مکمل کرلینےوالے نوجوانوں کو فہرست رائے دہندگان میں شامل کیا گیا ہے۔

ان لوک سبھا انتخابات کے انعقاد کے لیے ملک بھر میں 10 لاکھ 50 ہزار مراکز رائے دہی قائم کیے جائیں گے اس کے لیے 55 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشین EVM# استعمال کی جائیں گی اور دیڑھ کروڑ انتخابی عملہ ان لوک سبھا انتخابات کےصاف و شفاف طریقہ سے انعقاد کےلیے اپنی خدمات انجام دے گا۔

ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے انتخابی مہم کے دؤران ضابطہ اخلاق کا بھی اعلان کیا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم میں بچوں کواستعمال نہ کیا جائے،مہم کے دؤران نفرت انگیز اور فحش یا گالی گلوچ والے لفظ استعمال نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے گہری نظر رکھی جائے گی۔

یاد رہے کہ موجودہ 17 ویں لوک سبھا کی میعاد 16 جون کو ختم ہورہی ہے اور اس سےقبل نئی لوک سبھا کی تشکیل ہونی ہے۔اس کے علاوہ  آندھرا پردیش، سکم، اروناچل پردیش اور اڑیسہ (اوڈیشہ) کی اسمبلیوں کی مدت ماہ جون میں مختلف تواریخ پر ختم ہو رہی ہیں۔

مرکزی الیکشن کمیشن نے 2019ءکے لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا 10 مارچ 2019ء کواعلان کیا تھا۔11 اپریل سے 7 مرحلوں میں رائے دہی ہوئی تھی۔ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوا تھا۔2019کے لوک سبھاانتخابات میں بی جے پی نے 303 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھیں جبکہ کانگریس پارٹی 52 نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

الیکٹورل بانڈ نمبرز ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو نوٹس، بی جے پی نےسب سے زیادہ 6,566 کروڑ حاصل کیے

 

تلنگانہ : سابق چیف منسٹر کے سی آر کی دختر و ایم ایل سی کے۔کویتا گرفتار، ای ڈی کی جانب سے دہلی منتقلی کی تیاری