گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کی اجازت ناقابل قبول، مسلم فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کی اجازت ناقابل قبول
مسلم فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی: 31۔جنوری
(پریس نوٹ)

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وارانسی ڈسٹرکٹ جج نے اپنی سروس کے آخری دن آج گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں ایک ہندو فریق کو پوجا کی اجازت دے دی۔کورٹ نے دیئے گئے آرڈر میں ضلع مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ وہ مدعی اور کاشی وشواناتھ ٹرسٹ کے نامزد پجاری کےذریعہ پوجا راج بھوگ کا اہتمام کروائے۔ڈسٹرکٹ جج کا یہ فیصلہ مسلمانوں کےلیے ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے اور وہ اسے الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

آج فیس بک کے اپنےمصدقہ و آفیشل اکاؤنٹ پر دو صفحات پرمشتمل جاری کردہ پریس نوٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے وارانسی ڈسڑکٹ جج کے فیصلہ پر سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی غلط اور بے بنیاد دلیل کی بنیاد پر دیا گیا کہ گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں 1993 تک سومناتھ ویاس کا پریوار پوجا کرتا تھا اور اس وقت کی ریاستی سرکار کے حکم پر اسے بند کر دیا گیا تھا۔24 جنوری کو تہہ خانے کوضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔عدالت نے اس وقت اپنے آرڈر میں یہ بھی کہاتھا کہ اس کی جوں کی توں حالت برقرار رکھی جائے۔آج اس میں ترمیم کرکے پوجا کی اجازت دے دی گئی۔ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس کیس میں کیا بچ جاتا ہے۔؟

دوسری افسوس ناک بات یہ ہےکہ مدعی علیہ کو اس میں اپیل کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔مزیدبرآں سپریم کورٹ کے اس حکم کوبھی بالائے طاق رکھ دیا گیاکہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ یہ کیس 1991کے قانون کے تحت چل بھی سکتا ہے یا نہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ میڈیا اس فیصلہ کو غلط انداز میں پیش کرکے عوام کو گمراہ کر رہا ہے کہ ہندو فریق کو مسجد میں پوجا کی اجازت دے دی گئی۔

اس پریس نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ہم یہ بات واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس تہہ خانے میں کبھی بھی پوجا نہیں ہوتی تھی۔ ایک بے بنیاد بات کو بنیاد بناکرضلعی جج نے اپنی سروس کے آخری دن انتہائی قابل اعتراض اور بے بنیاد فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 7 دنوں کے اندر پوجا کاانتظام کروایا جائے۔مسجد انتظامیہ کمیٹی اس فیصلہ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رہی ہے۔

اس پریس نوٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کہاہےکہ انتہائی افسوس کی بات ہےکہ نچلی عدالتیں ٹکڑے ٹکڑوں میں فیصلہ کرکے اصل کیس کو ہندو فریق کے حق میں مضبوط کرتی جا رہی ہیں۔ پہلے 5 ہندو خواتین نے اگست 2021 میں مقامی عدالت میں درخواست دے کر کہاکہ یہ ایک ہندو مندر تھا جہاں پر باضابطہ پوجا ہوتی تھی، جسے اورنگ زیب نے منہدم کرکے مسجد تعمیر کرادی اور ہمیں پوجا کی اجازت دی جائے۔

جب مسجد انتظامیہ نے اسے یہ کہہ کر سپریم کورٹ میں چیلنج کیاکہ عبادت گاہوں سےمتعلق 1991کے قانون کےتحت اس مسجد کو تحفظ حاصل ہے تاہم سپریم کورٹ نے اسے پھر ڈسڑکٹ کورٹ کے حوالہ کر دیا اور ڈسڑکٹ کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس پر نہ تو عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کا قانون اور نہ ہی وقف ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔اس کے بعد عدالت نےمسجد کے اندر سروے کا حکم دے دیا، جس میں سروے ٹیم نے حوض کے فوارہ کو شیو لنگ قرار دے کر حوض کے استعمال پرپابندی لگادی۔ابھی معاملہ یہاں پر تھما نہیں تھا کہ ایک اور آرڈر میں مسجد کے سروے کا محکمہ آثار قدیمہ کو حکم دے دیا گیا،جس نے اپنی رپورٹ میں مسجد کےنیچے ایک بڑے مندرکے آثار برآمد کرلئے اور اب ایک تیسرے فیصلہ میں مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ڈاکٹرسید قاسم رسول الیاس نے اپنے صحافتی بیان میں مزید کہا ہےکہ بابری مسجد کےمقام پر مندر تعمیر کرلینے کے بعد ایسا لگتا ہےکہ اب ملک کے مختلف علاقوں کی متعدد مساجد کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے،چاہے وہ کتنی ہی قدیم مساجد ہی کیوں نہ ہوں۔دہلی میں سنہری مسجد کامعاملہ ابھی تھما ہی نہیں تھا کہ کل دہلی میں ڈی ڈی اے نے علی الصبح مہرولی کے علاقہ میں ایک قدیم مسجد کو بلڈوز کر دیا۔

انہوں نے سپریم کورٹ سےاپیل کی ہےکہ وہ عبادت گاہوں سےمتعلق قانون کوسختی سے نافذ کرنےکی حکومت کو ہدایت دے اورنچلی عدالتوں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اس قانون کی موجودگی میں مسجدوں سےمتعلق کسی بھی نئی درخواست کو قبول نہ کریں۔بصورت دیگر اندیشہ ہے کہ اقلیتی فرقوں کی عبادت گاہیں نہ تو محفوظ رہ پائیں گی اور نہ ہی ملک میں امن و امان باقی رہے گا۔

✍️ جاری کردہ
ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی
آفس سکریٹری