راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث پیراریولن 31 سال بعد جیل سے رہا

راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث پیراریولن 31 سال بعد جیل سے رہا

چنئی: 18۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کےقتل کے مجرموں میں سے ایک اے جی پیراریولن Perarivalan# جو 31 سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے کوآج رہا کردیا گیا۔سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو اس کی رہائی کا فیصلہ صادر کیاتھا۔اس فیصلے سے اس کیس کے دیگر 6 مجرموں کی رہائی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے،جن میں نلنی سری ہرن اور اس کے شوہر مروگن شامل ہیں،جو سری لنکا کا شہری ہے۔

سپریم کورٹ نے 18 مئی کو آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پیراریوالن عرف اریو کو رہا کرنے کا حکم دیا۔اپنی گرفتاری کے بعد سے اے جی پیراریولن Perarivalan# نے 15 سال سزائے موت اور مجموعی 16 سال سزائے عمر قید کے طور پر زائد از 31 سال جیل میں قید تنہائی میں گزارے ہیں۔اپنی رہائی کے بعد پیراریولن نے اپنے مکان پہنچ کر ماں ارپوتھمل سے جذباتی ملاقات کی۔

تمل ناڈو کی ریاستی  کابینہ نے متعلقہ تحفظات کی بنیاد پر ایک قرارداد منظور کی تھی کہ آرٹیکل 142 کے تحت مجرم کورہا کرنا مناسب ہے۔معززجسٹس ایل۔ناگیشور راؤ کی قیادت میں ججوں نے سپریم کورٹ کے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا تھا۔اس فیصلے کے فوراً بعد پیراریولن نے کہا تھا کہ سچائی اور انصاف ہمارے ساتھ ہے۔یہ ان لوگوں کی حمایت اورمحبت کے بغیر نہیں ہوتا جن کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ سزائے موت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کاخیرمقدم کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلی ایم کے اسٹالن نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف، قانون، سیاسی، انتظامی تاریخ میں جگہ پاسکتا ہے۔

راجیو گاندھی کے قتل کے وقت پیراریولن کی عمر ٍ19 سال تھی جس پرالزام عائد گیا تھا کہ اس نے 9 وولٹ کی دو بیٹریاں سیواراسن کے لیے خریدی تھیں،لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے آدمی جو اس قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔یہ بیٹریاں 1991 میں راجیو گاندھی کے قتل کے لیے بم میں استعمال کی گئی تھیں۔

پیراریولن کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 1998 میں موت کی سزا سنائی تھی۔اگلے سال سپریم کورٹ نے سزا کو برقرار رکھالیکن 2014 میں اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔جاریہ سال مارچ میں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی۔پیرایولن نے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔جبکہ مرکزی حکومت نے پیراریولن کی رہائی درخواست کی مخالفت کرتےہوئے کہا تھا کہ تمل ناڈو کے گورنر نے اس معاملے کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے پاس بھیج دیا ہے،جنہوں نے ابھی تک اس پر کوئی بات نہیں کی ہے۔وہیں سپریم کورٹ نے معاملے میں تاخیر اور گورنر کی کارروائی پر سوال اٹھایا تھا۔

سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 کو تمل ناڈو کے سری پرمبدور میں ایک انتخابی ریلی میں ایک خاتون خودکش بمبار نے قتل کر دیا تھا،جس کی شناخت دھنو کے نام سے ہوئی تھی۔اس کیس میں سات افراد کو سزا سنائی گئی تھی۔اگرچہ تمام کو موت کی سزا سنائی گئی تھی،2014 میں سپریم کورٹ نے ان کی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ کرنے میں صدر جمہوریہ کی جانب سے غیرمعمولی تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا تھا۔

ان میں سے ایک نلنی سری ہرن کی جیل کی سزا راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی مداخلت کے بعد 2000 میں زندگی میں بدل دی گئی،کیونکہ اس خاتون نے جیل میں ہی ایک بچے کو جنم دیا تھا۔

اگرچہ اس کے وقت وزرائے اعلیٰ جئے للیتا اور ایڈاپڈی کے پالانی سوامی کی قیادت میں تمل ناڈو کی کابینہ نے 2016 اور 2018 میں مجرموں کی رہائی کی سفارش کی تھی،لیکن یکے بعد دیگرے گورنروں نے اس کی پابندی نہیں کی۔کافی تاخیر کے بعد،انہوں نے اسے صدر کے پاس بھیج دیا تھا۔

پیراریوالن اور دیگر نے عدالتوں کا رخ کیا کیونکہ 16 سال سے زیادہ کی سزا کے بعد بھی انہیں دوسرے مجرموں کی طرح معافی سے انکار کر دیا گیا تھا۔جبکہ وہ تین دہائیاں (30 سال) جیل میں گزار چکے ہیں۔