گیان واپی مسجد میں نماز کی بدستور اجازت،20 مصلیوں کا لزوم ختم
شیولنگ کی حفاظت کی جائے،سپریم کورٹ کی ہدایت،19مئی کو دوبارہ سماعت
کمشنر اجئے مشرا کو وارانسی کی عدالت نے سروے ٹیم سے ہٹادیا
وارانسی: 17۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج منگل کو وارانسی کی ایک عدالت کی جانب سے کل ایک وکیل کے اس دعویٰ کے بعد کہ اتر پریش کے واانسی کی گیان واپی کی مسجد کے حوض سے شیولنگ برآمد ہوا ہے مسجد میں صرف 20 مسلمانوں کو نماز کی اجازت دئے جانے کے فیصلہ کوحذف کرتے ہوئے گیان واپی مسجد میں نمازیوں کے داخلے پر عائد پابندی کو ہٹا دیاہے۔
معزز جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور پی ایس نرسمہا کی دو رکنی بنچ نے وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کورٹ کمشنر کے سروے کے دوران مسجد کمپلیکس سے برآمد ہونے والے شیولنگ کی حفاظت کی جائے۔تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مسجد تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
عدالت نے اس معاملے میں نوٹس جاری کرتے ہوئےعبوری حکم جاری کیا کہ” ٹرائل جج کے حکم پرکسی بھی معنی اور تنازعہ کو دور کرنے کے لیے،16 مئی 2022 کےحکم کی کارروائی اور دائرہ کار اس حد تک محدود رہے گا کہ ضلع مجسٹریٹ وارانسی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جس علاقے میں شیولنگ پایا جاتا ہے اس کی حفاظت کی جائے گی۔
مندرجہ بالا ہدایت کسی بھی طرح سے مسلمانوں کی مسجد تک رسائی یا انہیں نماز اور مذہبی عبادات کے لیے استعمال کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی”۔
ساتھ ہی دونوں معزز ججس نے اپنے عبوری حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ”مسلمانوں کو گیان واپی مسجد میں وضو کرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ مذہبی مشاہدات کا حصہ ہے”۔انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے وضو کی اجازت کے لیے مخصوص ہدایت کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے زبانی طور پر ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ کیا وضو مذہبی پابندی نہیں ہے؟ہم اس کی حفاظت کررہے ہیں۔”عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا جوکہ ریاست اتر پردیش کی جانب سے پیش ہوئے کے اعتراضات کے بعد سول کورٹ کے سامنے کارروائی پر روک لگانے سے انکار کردیا۔
سپریم کورٹ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی جانب سے دائر کی گئی ایک اپیل کی سماعت کررہی تھی۔جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں وارانسی کی ایک سول عدالت کے ذریعہ مقرر کردہ کورٹ کمشنر کو گیان واپی مسجد کا معائنہ،سروے اور ویڈیو گرافی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔جبکہ مسلمان اس کی مخالفت کررہے تھے۔

سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے آج سپریم کورٹ کے سامنے نے دلیل دی کہ"اس معاملے کو عدالت کے قبضے میں لینے کے باوجود،کمیشن چلا گیا۔حقیقت کے باوجود کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی،مدعی کی طرف سے درخواست میں کہا گیا کہ حوض کے قریب کہیں ایک شیولنگ موجود ہے،یہ انتہائی نامناسب ہے۔اس طرح کی کارروائی کو خفیہ رکھا جانا چاہیے۔ٹرائل کورٹ درخواست کی اجازت دیتا ہے اور داخلے پر پابندی لگانے والے علاقے کو مہربند کر دیا ہے۔ہم اسے ایک عبوری درخواست کے ذریعے ریکارڈ میں لائے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ وارانسی کی سول عدالت کے ذریعے دیے گئے تمام احکامات ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہیں۔
"یہ مکمل طور پر ایم صدیق اور ایودھیا کے فیصلے کے خلاف ہیں۔جس میں کہا گیاہے کہ آپ 15 اگست 1949 کو موجود عبادت گاہوں کو نہیں چھیڑ سکتے۔
جس پر معزز بنچ نے ریمارکس دئیے کہ”ہم ٹرائل جج کو آرڈر نمبر 7 رول نمبر 11 سی پی سی کے تحت درخواست کونمٹانے کی ہدایت جاری کریں گے”۔جس پر وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ میں بھی ان تمام احکامات کی روک تھام کا خواہاں ہوں۔یہ احکامات دائرہ اختیارکی بنیاد پر اچھے نہیں ہیں۔یہ احکامات جن کےتحت کمیشن وغیرہ کا تقرر کیاگیا ہے ان میں تعطل آنا چاہیے۔مقدمے کی تاریخ کو جوں کی توں برقرار رہنا چاہیے۔تمام احکامات غیر قانونی ہیں۔
سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے ریاست اتر پردیش کی طرف سے پیش ہوئے کسی بھی حکم کو منظور کرنے سے پہلے ہدایات لینے کے لیےوقت طلب کیا۔انہوں نے کہا کہ وضو خانہ وہ ہے جہاں ہاتھ پیر دھوئے جاتے ہیں اور نماز کے لیے الگ جگہ ہے۔مجسٹریٹ سوچتے ہیں کہ اگر مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے کوئی بڑی اہمیت کی بات ہے،تو مشکل ضرور ہونی چاہیے۔‘‘۔
جس پر سپریم کورٹ کی معزز بنچ نے پوچھا کہ شیولنگ کہاں ہے؟مجسٹریٹ نے بھی نہیں دیکھا۔ہم واضح کرسکتے ہیں کہ حکم صرف اس صورت میں ہے جو اس کے بعد ہوتا ہے۔جس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ اگر کوئی شیولنگ کو تباہ کردے تو کیا ہوگا؟ جس پر عدالت نے کہا کہ ہم ضلع مجسٹریٹ کو ہم سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کہیں گے۔
دوسری جانب وارانسی کی عدالت نے گیان واپی مسجد کیس میں سول جج سینئر ڈویژن روی کمار دیواکرنے کورٹ کمشنر اجئے مشرا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔وارانسی کی سول عدالت نے جو اس کیس کی سماعت کررہی ہےنے اپنے مقرر کردہ تین کمشنروں میں سے ایک کو ہٹا دیا۔
اجئے مشراکے اسسٹنٹ نے مبینہ طور پر میڈیا کو سروے کے بارے میں معلومات افشا کی تھیں۔اجئے مشرا پر مسجد کے سروے کے دوران ایک فریق کی حمایت کرنے الزام عائد کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ان پر میڈیا میں سروے سے متعلق اطلاعات لو لیک کرنے کا بھی الزام ہے۔یہ بھی کہاگیا ہے کہ ان کی جانب سے ایک خانگی کیمرہ مین رکھا گیا تھا جو میڈیا کو معلومات فراہم کر رہا تھا۔ان کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کورٹ کمشنر کی ذمہ داری اہم ہے۔عدالت نے اسپیشل ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ کی درخواست پر ہی ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو ہٹادیا ہے۔اب وشال سنگھ کورٹ کمشنر ہوں گے۔دوسری جانب عدالت نےکمیشن کی رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کے لیے 2 دن کا وقت دے دیا ہے۔ اب رپورٹ 19 مئی کو داخل کی جا سکتی ہے۔
گیان واپی مسجد کی دیواریں گراکر ویڈیوگرافی کرنے کا ہندو فریق کی جانب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے لیے منگل کو عدالت میں ایک نئی درخواست داخل کی گئی ہے۔ جس میں گیان واپی کیمپس کی کچھ دیواروں کو گرانے اور سروے کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ درخوست ریکھا پاٹھک،منجو ویاس اور سیتا ساہو نے داخل کی ہے۔
عدالتی حکم کے بعد گیان واپی مسجد میں ویڈیو گرافی کا عمل ایک دن قبل ہی یعنی کل 16 مئی کو مکمل کیا گیا تھا۔سروے کے آخری دن دعویٰ کیا گیا کہ شیولنگ مل گیا ہے۔درخواست گزار ریکھا سمیت 5 خواتین کے وکیل وشنو جین نے دعویٰ کیا کہ وضوخانہ میں شیولنگ ملا ہے۔اس کے بعد اس جگہ کو مہر بند کر دیا گیا۔
ہندو فریق کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے اسے چشمہ قرار دیا ہے۔مسلم فریق نے یہ بھی کہاہے کہ وہ ضلعی عدالت کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔
سوشل میڈیا پر اس سروے کے دؤران وضو کے حوض کو خالی کروائے جانے کے بعد نظر آنے والے فوارہ کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔جسے فی الوقت سیکورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے۔
انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے ایک اور سینئر وکیل رئیس احمد انصاری جو کہ مسجد کے سروے کے دؤران اس ٹیم کے ساتھ شریک تھے نے "این ڈی ٹی وی” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سروے ٹیم کے حکم پر وضو خانہ کا پانی خالی کروایا گیا تھا۔اس حوض کا دائرہ 20 یا 25 فیٹ کا ہے۔اس وضو خانہ کے بیچوں بیچ ایک فوارہ لگا ہوا ہے۔
وہ بہت قدیم ہے اور میں سراخ موجود ہے جس سے پانی نکلتا ہے۔فوارہ کام نہیں کررہا ہے لیکن اس میں سوراخ موجود ہے۔اور مسجد کمیٹی نے کمشنر سے کہا کہ اس سراخ میں سلائی ڈال کر دیکھیں تو اندازاً 30 تا 35 فیٹ کی سلائی اس میں ڈالی گئی جو مکمل اندر تک چلی گئی۔
"انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے ایک اور سینئر وکیل رئیس احمد انصاری کے بیان پرمشتمل این ڈی ٹی وی کا لنک یہاں موجود ہے اور 9 منٹ پرمشتمل یہ گفتگو یہاں دیکھی اور سنی جاسکتی ہے”
نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں "بار اینڈ بنچ Bar And Bench سے بھی بشکریہ مدد لی گئی ہے۔

