الزام ایک یہ بھی اٹھالینا چاہئے
اس شہر بے اماں کو بچالینا چاہئے
پریہ سنگھ نے مغرب کی اذاں سن کر ٹیکسی رکوادی
ڈرائیورسے کہا کہ آپ نماز پڑھ لیں،خود اگلی سیٹ پر جا بیٹھیں
سوشل میڈیا پر تصویر اور تفصیلات کی سونامی
ممبئی: 17۔اپریل
(سحرنیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
گزشتہ چند ماہ سے ملک کی چند ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف زعفرانی بے قابو جھنڈ کی جانب سے کھلے عام فرقہ پرستی کا برہنہ رقص جاری ہے۔کورونا وبا جہاں ختم ہوئی وہیں سے یہ مذہبی منافرت اور کھلے عام غندہ گردی کا وائرس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے!؟
نئے سال کے آغاز پر سلی بائی SulliBai# اور BulliDeals# کے ذریعہ مسلم ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کا انٹرنیٹ پر ہراج کیا جاتا ہے،کبھی دھرم سنسد کے نام پر 20 لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کبھی کرناٹک میں مسلم طالبات اور ٹیچرس کو بے حجاب کرنے والے رام نومی کے دن شوبھایاترا کے دؤران پولیس فورس کی موجودگی میں مساجد کے سامنے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہیں!!
تلواروں کے ساتھ رقص کیا جاتا ہے،ملّوں کو کاٹنے کے نعرے لگائے جاتے ہیں،مسجدوں پر چڑھ کربھگواجھنڈے لہرائے جاتے ہیں تو کوئی بجرنگ منی جیسامہنت مسجدکے سامنے اور پولیس کے تحفظ میں لاؤڈ اسپیکر پر مسلمانوں کی بیٹیوں اور بہوؤں کو اغوا کرکے ان کی عصمت ریزی کی دھمکی دیتا ہے۔یہ سارے ویڈیوز سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر زیرگشت ہیں۔
10 اپریل کو رام نومی کے موقع پر نکالی گئی شوبھا یاتراوں کے دؤران ملک کی نصف درجن ریاستوں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔جلوس پر پتھراؤ کے الزام کے ساتھ کئی مکانات اور دکانات کو نذرآتش کردیا گیا اور رہی سہی کسر حکومت مدھیہ پردیش نے پوری کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کے نام پر اضلاع کھرگون اور بڑوانی میں بلڈوزروں کے ذریعہ کئی مکانات زمین دوز کردئیے جو کہ غریب مزدور پیشہ مسلمانوں کے تھے! کل ہفتہ کو ہی ہنومان جینتی یاترا کے جلوس کے دؤران دہلی کے شاہجہاں پور میں بھی تشدد پھوٹ پڑا۔
" رام نومی کی شوبھا یاترا میں مسلمانوں کے خلاف گالی گلوچ اور اشتعال انگیزی کا مقصد کیا ہے؟ "!
https://twitter.com/shaikhshameela/status/1514111049615609858
یہ سارے ناپسندید اورکربناک واقعات ماہ رمضان کے دؤران پیش آرہے ہیں۔اور یہ زعفرانی جھنڈ دن بہ دن بے قابو ہوتا جارہا ہے!!۔
افسوس تو یہ ہے اس پر عدلیہ خاموش ہے،مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندرمودی چپ ہیں،مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کی خاموشی معنی خیز ہے! وہیں پولیس کا رویہ اور کارکردگی مسلمانوں میں مایوسی کا باعث بن رہی ہے!!
لیکن اس ملک کے مسلمانوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ہرگز مایوس یا خوفزدہ نہ ہوں۔اور ساتھ ہی مشتعل ہونے سے سخت گریز کریں۔صبرمسلمانوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور نااُمیدی کفر ہے۔بقول فیض احمد فیض؎
دل نااُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ایسے حالات کے دؤران دو دن قبل ریاست بہار کے کٹیہار سے ایک خوبصورت تصویرسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کہ کیسے برادران وطن نے رام نومی جلوس کے دؤران انسانی زنجیر بناتے ہوئے کٹیہار کی جامع مسجد کی حفاظت کی۔یہی لوگ اس ملک اور ہماری اصل طاقت ہیں جن کی تعداد کروڑوں میں ہے۔عدالتوں اور سوشل میڈیا پربھی ایسے کھلے ذہن کے لوگ حق کی لڑائی میں مصروف ہیں۔بقول ظفر اقبال؎
الزام ایک یہ بھی اُٹھالینا چاہئے اس شہر بے اماں کو بچالینا چاہئے
اسی دؤران کل شام سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر "اوبیر” Uber# گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھی ہوئی ایک غیرمسلم خاتون اور عقبی سیٹ پر نماز ادا کرتے ہوئے "اوبیر” کے ایک ڈرائیور کی تصویر اور اس کے ساتھ موجود تفصیلات پڑھ کر اس یقین کو مزید تقویت حاصل ہوئی کہ” ہاں!یہی ہے وہ میرا ہندوستان"!!
اس واقعہ کی تصویر اور مکمل تفصیلات کو خود اس خاتون جن کا نام”پریہ سنگھ Priya Singh@"ہے نے اپنے سوشل میڈیا کے”لنکڈ اِن LinkedIn "اکاؤنٹ پر شیئر کی ہیں۔پریہ سنگھ کا یہ پوسٹ فی الوقت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر سونامی کی شکل میں وائرل ہوا ہے۔
"پریہ سنگھ کے” لنکڈ اِن LinkedIn# ” اکاؤنٹ کا اصل پوسٹ اور تصویر”سحرنیوز ڈاٹ کام"کے قارئین کے لیے یہاں پیش ہے 👇👇 جو کہ ان کے لنِکڈ اِن اکاؤنٹ سے حاصل کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی ان کا اصل پوسٹ بھی کاپی پیسٹ کیا گیا ہے”





