اب پٹرول بنک والوں کی لوٹ سے ہوشیار!
14 لیٹر پٹرول ٹینک کی گاڑی کے مالک سے 17 لیٹر پٹرول کی قیمت طلب!!
13 دنوں میں 11 ویں مرتبہ قیمتوں میں اضافہ سے عوام کا بُرا حال
ناگرکرنول:03۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)
ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔روس اور یوکرین کی جنگ کے نام پر پٹرولیم کمپنیاں روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتی جارہی ہیں اور 13 دنوں سے ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
آج اتوار 3 اپریل کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔اس طرح گزشتہ 13 دنوں کے دؤران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آج تک گیارہویں مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔
موجودہ بی جے پی حکومت کاملک کی تاریخ کا پہلا کارنامہ ہے کہ اس کے دؤرحکومت میں اس طرح روز پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں بناءکسی روک ٹوک آرام کے ساتھ اضافہ کے سلسلہ جاری ہے۔حکومت روز اس ملک کے عوام کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کی”کڑوی خوراک”پلارہی ہے!
یاد رہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں اترپردیش،منی پور،گوا، پنجاب اور اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر رائے دہندوں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے ساڑھے چار ماہ کے طویل وقفہ کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ 22 مارچ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا آغاز ہوا تھا۔جو کہ ہنوز جاری ہے۔
اب جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں تمام اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ لازمی ہے اور اس اضافہ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔جس سے متوسط اور غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
ایسے میں ریاست کے تقریباً اضلاع کے ٹاؤنس میں چند پٹرول بنکس پر بھی گاہکوں کے ساتھ لوٹ مار کی شکایتیں عام ہورہی ہیں۔کہیں ایسی شکایتیں ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی مقدار میں کمی کی جارہی ہے۔گاڑی مالکین صرف میٹر دیکھتے رہ جاتے ہیں اور پٹرول بنکس کے ملازمین اپنا کام کرجاتے ہیں۔کہیں چلر نہ ہونے کا بہانہ کرکے رقم رکھ لی جاتی ہے۔مختلف مشکلات اور پریشانیوں کے شکار عوام کی سمجھ سے باہر ہوگیا ہے کہ آخر یہ مہنگائی کہاں جاکر رکے گی؟
اسی دؤران چند پٹرول بنکس مالکین اور ملازمین کی لوٹ کھسوٹ کا ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے کہ جس پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ریاست تلنگانہ کے ناگرجنا ساگر کے ایک پٹرول بنک پر ایک گاڑی مالک کواس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی گاڑی کی 14 لیٹر کی حامل پٹرول ٹینک میں پٹرول بھرنے کے بعد پٹرول بنک ملازم نے 17 لیٹر پٹرول کی قیمت طلب کی۔موٹرسیکل مالک نے پوچھا کہ جب گاڑی کی پٹرول ٹینک ہی 14 لیٹر کی حامل ہے تو 17 لیٹر پٹرول کی رقم کیوں کر ادا کرکے؟ جس پر کہا گیاکہ پٹرول بنک کا میٹر دیکھیں آپ کی گاڑی کی ٹینک میں 17 لیٹر پٹرول بھرا گیا ہے۔
بحث و تکرار کے دؤران پٹرول بنک کے مالک اور ملازم کوئی قابل قبول جواب نہیں دے پائے۔وہاں موجود دیگر گاڑی مالکین نے بھی اس معاملہ میں مداخلت کی۔بعدازاں گاڑی کے ٹینک میں بھرا گیاپٹرول 20 لیٹر کے حامل ایک ٹینک(جو کہ منرل واٹرکےلیے استعمال کیا جاتا ہے) میں پائپ کی مدد سے واپس نکالا گیا توپٹرول کی مقدار 14 لیٹر سے بھی کم پائی گئی تھی۔اطلاع پر پولیس پٹرول بنک پہنچ گئی اور پٹرول بنک ملازم کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ناگرجنا ساگر کے پٹرول بنک پر پیش آئے اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔
اب جبکہ پٹرول کی قیمت 117 روپئے فی لیٹر ہوگئی ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی قیمت میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ایسے میں ضرورت ہے کہ گاہک ایسے دھوکہ پٹرول بنکس سے ہوشیار رہیں۔

