بدن میں دؤڑتا سارا لہو ایمان والا ہے
مگر دشمن سمجھتا ہے کہ یہ پاکستان والا ہے!!
کرناٹک میں 25 سالہ مسلم طالبہ گرفتار
واٹس ایپ اسٹیٹس نے جیل بھیج دیا!
یومِ جمہوریہ پاکستان پر مبارکباد کے الزام کی شکایت پر پولیس کی کارروائی
بنگلورو: 28۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کی ایک مسلم طالبہ کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر”خدا ہر قوم کو امن،اتحاد اور ہم آہنگی سے نوازے”والا پیغام لگانا انتہائی مہنگا ثابت ہوا ہے اور انہیں ایک دن کے لیے جیل کی ہوا کھانی پڑگئی۔
ایک شخص کی جانب سے اس واٹس ایپ اسٹیٹس کو”پاکستان کے یومِ جمہوریہ”(یوم پاکستان) کے موقع پرلگاتے ہوئے پاکستانیوں کو مبارکباد دینے کے الزام پرمشتمل باقاعدہ پولیس میں شکایت درج کروائے جانے کے بعد اس مسلم طالبہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
تاہم دوسرے دن ضمانت پر اس طالبہ کی رہائی عمل میں آئی۔تاہم یہ معاملہ کل شام دیر گئے اس وقت تاخیر سے منظرعام پر آیا جب یہ اطلاع میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ شمالی کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے مدھول میں پیش آیا ہے۔انڈین ایکسپریس کو محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ”کتھمہ شیخ” (25 سالہ) کی جانب سے 23 مارچ کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر(ایک اور اطلاع میں اسے واٹس ایپ پوسٹ بتایا جارہا ہے) "خدا ہر قوم کو امن،اتحاد اور ہم آہنگی سے نوازے” لکھا تھا۔
جس کے ایک دن بعد یعنی 24 مارچ کو پولیس نے ایک شکایت پر کتھمہ شیخ کو گرفتار کرلیا۔تاہم 25 مارچ کو اس طالبہ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
انڈین ایکسپریس نے ایک پولیس عہدیدار کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ یہ گرفتاری”امن و امان کو برقرار رکھنے” کی غرض سے کی گئی تھی۔
باگل کوٹ ضلع کے مدھول کے رہنے والی کتھمہ شیخ ایک مدرسہ میں سینئر طالبہ ہیں۔اور ان کی گرفتاری ارون کمار بھجنتری نامی ایک شخص کی شکایت کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک کارکن ہیں۔
جنہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ” کتھمہ شیخ پاکستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر نیک خواہشات پوسٹ کرکے دو برادریوں کے درمیان دشمنی پیدا کررہی تھیں”۔یاد رہے کہ 23 مارچ پڑوسی ملک پاکستان میں یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
باگل کوٹ ضلع کے ایس پی مسٹر لوکیش بھرامپا جگلاسر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ارون کماربھجنتری کی شکایت پر اس طالبہ کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔اور اس معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
باگل کوٹ پولیس کی جانب سے اس شکایت کے بعد کتھمہ شیخ کے واٹس ایپ اسٹیٹس کے خلاف یہ کیس تعزیرات ہند کی دفعہ 153A (مذہب،نسل،مقام پیدائش،رہائش،زبان وغیرہ کی بنیاد پرمختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)اور 505 (2) (گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے بیانات دینا) کے تحت درج کیا گیا تھا۔
اس سلسلہ میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بحث چھڑگئی ہے۔مسلم طالبہ کتھمہ شیخ کی گرفتاری پر نامور و بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی رعنا ایوب RanaAyub# نے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اخباری تراشہ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” ہندوستان میں ایک 25 سالہ مسلم خاتون کو امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پرمشتمل واٹس ایپ اسٹیٹس پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔اس خاتون کے واٹس ایپ اسٹیٹس میں یں پڑھا گیا کہ” خدا ہر قوم کو امن،اتحاد اور ہم آہنگی سے نوازے”۔اور اس کے لیے اسے گرفتار کیا گیا۔یہ ہمارا مسلم استحقاق ہے”۔!!
دوسری جانب حکومت کرناٹک کی جانب سے 5 فروری کو کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کیے جانے اور ڈریس کوڈ کے سختی سے نفاذ کی ہدایت پرمشتمل جاری جی او پر کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ اس پابندی پر یہ کہتے ہوئے مہر ثبت کردی کہ حجاب مذہبی جز نہیں ہے اور یہ لازمی نہیں ہے! اب اس معاملہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے جس کی سماعت ہونی ہے۔
پھر اس کے بعد فلم کشمیرفائلز کی سرکاری سطح پر پذایرائی اور اس فلم کی جم کر تشہیر کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان حائل کی گئیں مذہبی منافرت کی کھائی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔جو کہ ملک کے مفاد میں بہتر نہیں مانی جاسکتی۔
ایسے میں گزشتہ جمعہ کو مدھیہ پردیش کے ایک کالج کے خالی کلاس روم میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دؤران ہندو جاگرن منچ کی جانب سے اس منظر کا ویڈیو بناکر اس کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔جس کے بعد کالج انتظامیہ نے اس طالبہ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔(اس واقعہ کا ویڈیو یہاں پیش ہے)
ایسے موجودہ ماحول میں مسلمانوں بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لیے بھی لازمی ہوگیا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں احتیاط اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس سے تنگ نظر طاقتوں کے ہاتھ بٹیر لگ جائے!سوشل میڈیا کا استعمال بھی انتہائی سمجھداری اور دانشمندی کے ساتھ کریں۔ورنہ اسی طرح کی کارروائیوں کا سامنا کرنے تیار بھی رہیں!!
کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے مدھول میں مسلم طالبہ کو واٹس ایپ اسٹیٹس پر گرفتار کیے جانے کے معاملہ میں "فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز” کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر نے ٹوئٹر پر کل رات وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 23 مارچ 2015 اور 23 مارچ 2016 کو پاکستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر دی گئی مبارکباد کے قدیم ٹوئٹس کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"اگر ہندوستان کے وزیراعظم پاکستان کے یوم جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہیں تو انہیں نیوز چینلز کے ذریعہ مسیحا کے طور پر سراہا جائے گا۔لیکن ہندوستانی مسلمان شہری جو پاکستان کے یوم جمہوریہ پر تمام قوموں کے ساتھ امن،اتحاد اور ہم آہنگی کی خواہش رکھتا ہے وہ آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جیل بھیج دے گا۔”
اب رہی بات ہندوستانی مسلمانوں کے ہر معاملہ کو پاکستان سے جوڑ کر اس کا پروپگنڈہ کرنا اور برادران وطن کو ذہنوں میں مسلمانوں کے متعلق منافرت پھیلانا تو یہ بات روز رؤشن کی طرح عیاں ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستان سے کبھی کوئی انسیت یا لگاؤ نہیں تھا، نہ ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔
کیونکہ مسلمانوں کے لیے مذہب اسلام نے سخت تاکید کی ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے اور بستے ہیں اس ملک کے قوانین کو مانیں،اس کا احترام کریں۔اور ساتھ ہی اپنے ملک کے وفادار بن کر رہیں۔اور ہندوستانی مسلمان اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔
شاید اسی تناظر میں کبھی نامور شاعر منور رانا نے اپنے ایک مشہور شعر کے ذریعہ کئی سال قبل اس پیغام کو واضح کردیا تھا کہ؎
بدن میں دؤڑتا سارا لہو ایمان والا ہے
مگر دشمن سمجھتا ہے کہ یہ پاکستان والا ہے

