ملک کی جمہوریت میں فیس بک کی مداخلت کو ختم کیا جائے
نفرت کے ذریعہ جذبات بھڑکائے جارہے ہیں
سوشل میڈیا کے اثرات پر سونیا گاندھی برہم
وقفہ صفر کے دؤران لوک سبھا میں حکومت سے مطالبہ
نئی دہلی: 16۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی نے سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر اور اس کے غلط استعمال پر آج شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےمرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے ان کے بڑھتے اثرو رسوخ کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔
شریمتی سونیا گاندھی نے کہا کہ عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہندوستان کی جمہوریت کو ہیک کرنے کے لیے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہاہے انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ انتخابی سیاست میں ان سوشل میڈیا کمپنیوں کے منظم اثر ورسوخ اور مداخلت کو ختم کرے۔
سونیا گاندھی نے آج لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اور ٹویٹر جیسی عالمی کمپنیاں”لیڈروں،سیاسی پارٹیوں اور ان کے پراکسیوں کی طرف سے سیاسی بیانیے کو تشکیل دینے کے لیے تیزی سے استعمال ہو رہی ہیں”۔
کانگریس صدر شریمتی سونیا گاندھی نے سوشل میڈیا کے اس معاملہ کو انتہائی اہم مسئلہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ”ہماری جمہوریت کو ہیک کرنے کے لیے کہا کہ یہ بار بار عوام کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عالمی سوشل میڈیا کمپنیاں تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کا میدان فراہم نہیں کررہی ہیں۔”
شریمتی سونیا گاندھی نے "الجزیرہ” اور دی رپورٹرز کلیکٹو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک نے بی جے پی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں انتخابی اشتہارات کے لیے سستا سودا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹس بڑی کارپوریشن کمپنوں،حکومتوں کے قیام میں فیس بک جیسی عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتی ہیں۔
کانگریس صدر شریمتی سونیا گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ”جذباتی طور پر نوجوان اورضعیف ذہنوں کو غلط اور جھوٹ پر مبنی مواد کے ذریعہ جذباتی نفرت سے بھرا جا رہا ہے۔اور فیس بک جیسی پراکسی اشتہاری کمپنیاں اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔سونیا گاندھی نے کہا کہ جس طرح سے فیس بک کے ذریعہ سماجی ہم آہنگی کو بگاڑا جا رہا ہے وہ حکمران طبقہ کی ملی بھگت سے ہماری جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔
شریمتی سونیا گاندھی نے مزید کہا کہ میں حکومت سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی انتخابی سیاست میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی منظم مداخلت اور اثرورسوخ کو ختم کرے۔یہ جماعتی سیاست سے بالاتر ہے۔ہمیں اپنی جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے اس سے قطع نظر کہ اقتدار میں کون ہے۔

