کرناٹک حجاب معاملہ : ہائی کورٹ کا کل 15 مارچ کو فیصلہ ، عدالت کے فیصلہ پر سب کی نظریں

کرناٹک حجاب معاملہ:
ہائی کورٹ کا کل 15 مارچ کو فیصلہ
عدالت کے فیصلہ پر سب کی نظریں

بنگلورو: 14۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)

              جنوبی کرناٹک کے چند اضلاع میں پیدا شدہ حجاب تنازعہ کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواستوں کی سماعت معزز چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ریتو راج اوستھی،معزز جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین پرمشتمل سہء رکنی بنچ نے 10 فروری سے 25 فروری تک جملہ 11 روزہ سماعت،سرکاری اور درخواست گزار طالبات کے وکلا کی مدلل بحث کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔اس معاملہ میں عدالت نے عبوری حکم دیا تھا کہ کسی بھی مذہب کے طلبہ عدالت کے قطعی فیصلہ تک مذہبی لباس پہننے کے لیے سے ضد نہ کریں۔

اس سلسلہ میں معزز ہائی کورٹ کرناٹک کل 15 مارچ،بروز چہارشنبہ ساڑھے دس بجے دن اپنا فیصلہ صادر کرنے والی ہے۔ریاست کرناٹک سمیت ملک بھر کے عوام کی نظریں اب کرناٹک ہائی کورٹ کے آنے والے فیصلہ کی جانب لگی ہوئی ہیں اور تجسس بھی پایا جاتا ہے! 

قبل ازیں کرناٹک ہائی کورٹ کے معزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد کی ایک رکنی بنچ نے طالبات کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر جانے پر پابندی کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر 8 فروری اور 9 فروری کو سماعت کرنے کے بعد معزز جسٹس ڈکشٹ نے اس معاملہ کو چیف جسٹس کرناٹک کے روبرو پیش کرنے اور اس معاملہ کی وسیع بنچ کے ذریعہ سماعت کی سفارش کی تھی۔

                 یاد رہے کہ 28 ڈسمبر 2021ء کو اُڑپی کے ایک گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج (پی یو کالج) میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کالج آنے پر روک دیا گیا تھا۔تاہم وہ اسے اپنا دستوری حق قرار دیتے ہوئے بدستور کالج پہنچتی رہیں لیکن انہیں کلاس روم میں داخلہ سےروک دیا گیا تھا۔زائداز دیڑھ ماہ یہ طالبات روز کالج پہنچتی رہیں۔

بعدازاں 31 جنوری کو یہ طالبات کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ان مسلم طالبات کی جانب سے رٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ انہیں حجاب پہن کرتعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے جو کہ ان کی مذہبی شناخت ہے۔اس رٹ پٹیشن میں طالبات نے ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ دستور کی دفعات 14 اور 25 نے انہیں اس کی دستوری ضمانت بھی دی ہے 

                اُڑپی کے ایک کالج میں پیدا شدہ حجاب تنازعہ کے بعد جنوبی کرناٹک کے اضلاع اُڑپی،چکمگلور،مانڈیا کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی سرکاری اور خانگی اسکولوں میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر کے خلاف چند زعفرانی تنظیموں کی قیادت میں ان اسکولوں اور کالجوں کے طلبا اور طالبات نے اعتراض کرتے ہوئے خود زعفرانی شالوں اور کھنڈؤوں کے ساتھ آنا شروع کیا تھا۔ان کا مطالبہ تھا کہ اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی جائے۔یہ حجاب مسئلہ بین الاقوامی سطح تک پہنچ گیا تھا۔

اسی دؤران حالات کو دیکھتے ہوئے 5 فروری کو حکومت کرناٹک نے جی او جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی تھی اورحکم دیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے۔طالبات نے ہائی کورٹ میں حکومت کے اس حکمنامہ کو چیلنج کیا تھا۔

16 فروری کو ان درخواستوں کی سماعت کے دؤران مسلم طالبات کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئرایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ریاست مسلم لڑکیوں کے ساتھ امتیاز برت رہی ہے اور یہ صرف مذہب کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ 5 فروری کے حکومتی حکم نامے میں حجاب پہننے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ دیگر مذہبی علامات کومدنظر نہیں رکھا جاتا۔اس سے آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالفانہ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

               سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار نے عدالت سے کہا تھا کہ” میری عرض یہ ہے کہ اگر پگڑی پہننے والے لوگ فوج میں ہوسکتے ہیں،تو حجاب پہننے والی لڑکیوں کو کلاس میں جانے کی اجازت کیوں نہیں”؟

انہوں نے مزید کہا کہ حجاب پر پابندی عائد کرنا ایک سخت فیصلہ ہے جو ان مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قیامت کا دن ہے جن کی کلاسوں میں موجودگی اب بہت کم ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے مستقبل میں مزید کم ہو سکتی ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر روی ورما کمار نے کہا بحث کے دؤران کہا تھا کہ”یہ صرف اس کے مذہب کی وجہ سے ہے کہ درخواست گزار کو کلاس روم سے باہر بھیجا جارہا ہے۔بندی پہننے والی لڑکی کو باہر نہیں بھیجا جاتا، چوڑی پہننے والی لڑکی کو نہیں بھیجا جاتا،صلیب پہنے ہوئے ایک عیسائی کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔صرف یہ لڑکیاں کیوں؟اور یہ آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے”۔

                        جبکہ 18 فروری کو ان درخواستوں کی سماعت کے دؤران حکومت کرناٹک کی جانب سے پیش ہوتے ہوئےایڈیشنل جنرل پربھو لنگ نوادگی نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی عمل نہیں ہے۔جس پر بنچ نے ان سے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے جی او جاری کرنے کی ضرورت کیا تھا اور جاری کردہ جی او میں حجاب کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟

 

                    سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت کو بتایا کہ یہاں اس معاملہ میں،لڑکیوں نے اسکولوں میں داخلہ کے بعد سے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔جس پر معزز چیف جسٹس نے پوچھا” کیا یہ یونیفارم کا حصہ ہے؟ ”

جبکہ ان درخواستوں پرمسلم طالبات کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے اپنی بحث کے دؤران کہا تھا کہ اگر لڑکی نےعینک پہن رکھی ہے تو کیا اس پر اصرار کیا جاسکتا ہے کہ یہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے؟ آپ اسے اتنی سختی سے نہیں لے سکتے؟۔ 

ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے عدالت سے کہا تھا کہ”حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او G.O واضح من مانی کا شکار ہے۔میں سائرہ بانو (تین طلاق کیس) کے تین پیراگراف کا حوالہ دوں گا اور یہ ظاہر کروں گا کہ لڑکیوں کو اسکارف پہننے سے روکنے والا یہ جی او کس طرح صریح طور پر من مانی ہے”۔

           سینئر وکیل دیودت کامت نے درخواست گزاروں کی جانب سے قبل ازیں پیروی کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کے معزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد کی ایک رکنی بنچ پر اس حجاب معاملہ کی سماعت کے دؤران قران مجید کے سورہ نمبر 24 (سورہ النور) کی آیت نمبر 31 کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل پیش کی تھی کہ سر پر اسکارف پہننا اسلامی عقیدہ کا لازمی عمل ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ کرناٹک حکومت کا جاری کردہ جی او قانونی طور پر پائیدار نہیں ہے۔

اس وقت معزز چیف جسٹس نے سوال کیا تھا کہ طالبات کب سے حجاب پہن رہی ہیں؟ تو سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت نے عدالت کو بتایا تھا کہ طالبات نے داخلہ کے بعد سے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔وہ پچھلے دو سالوں سے حجاب پہن رہی ہیں۔

ایڈوکیٹ کامت نے معزز عدالت کو بتایا کہ میں نہ صرف حکومتی حکم کو چیلنج کررہا ہوں بلکہ مجھے یونیفارم جیسے ایک ہی رنگ کا اسکارف پہننے کی اجازت دینے کے لیے ایک مثبت اختیار مانگ رہا ہوں۔