اترپردیش،اتراکھنڈ، گوا اورمنی پور پر بی جے پی کا قبضہ برقرار
پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے چھینا اقتدار
نئی دہلی:10۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک کی پانچ ریاستوں اترپردیش، گوا،منی پور،اتراکھنڈ اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے لیے 8 جنوری کو مرکزی الیکشن کمیشن نے تواریخ کا اعلان کیا تھا۔اترپردیش میں 10 فروری سے 7 مارچ تک 7 مرحلوں میں،پنجاب،اتراکھنڈ اور گوا میں ایک ہی مرحلے میں 14 فروری کو،منی پور میں 27 فروری اور 3 مارچ کو دو مرحلوں میں رائے دہی مکمل کی گئی تھی۔
ان پانچوں ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی آج 10 مارچ کو کی گئی اور حسب توقع اور میڈیا کے ایگزٹ پولز کے آنکڑوں کو عملی شکل دیتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے علاوہ اتراکھنڈ،منی پور اور گوا میں بی جے پی نے اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔وہیں اترپردیش کے ان اسمبلی انتخابات میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین اور گوا میں ممتابنر جی کی ترنمول کانگریس اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی ہے!
ان اسمبلی انتخابات کے نتائج پر نہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت نے اثر کیا اور نہ ہی کمر توڑ مہنگائی نے بی جے پی کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا کی۔سب کچھ چنگاسی کی طرح بی جے پی نے ان چار ریاستوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔
جبکہ پنجاب میں خود کانگریسیوں کی آپسی رسہ کشی نے اپنے اقتدار کو گہن لگاتے ہوئے خود کو پنجاب کے اقتدار سے محروم کرلیا۔اور عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے پنجاب کا اقتدار چھین لیا ہے۔اس طرح اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی اب دہلی کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔
پنجاب میں جو دُرگت کانگریس کی ہوئی ہے اس کے لیے یہی مثال کافی ہے کہ موجودہ چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی چمکور صاحب بہادر اسمبلی حلقہ سے اور صدر پردیش کانگریس پنجاب نوجوت سنگھ سدھو مشرقی امرتسر سے شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔
جبکہ چار ماہ قبل کانگریس چھوڑنے والے سابق چیف منسٹر پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ کو بھی حلقہ اسمبلی پٹیالہ سے شکست ہوئی ہے۔وہیں پنجاب کے چیف منسٹر کے طور پر اعلان کیے گئے عام آدمی پارٹی کے امیدوار بھگونت مان اسمبلی حلقہ دھوری سے کامیاب ہوئے ہیں۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی پر وزیراعظم نریندر مودی نے آج رات ٹوئٹ کرتے ہوئے مبارکباد دی ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ مرکز کی جانب سے پنجاب کی ترقی کے لیے ہر ممکنہ تعاون کیا جائے گا۔
ان پانچوں ریاستوں کے انتخابی نتائج کی اگر بات کی جائے تو آج رات 11 بجے تک مرکزی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق
اترپردیش کی جملہ 403 اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات منعقد کیے گئے تھے جن میں سے بی جے پی 249 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ مزید 6 نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے۔
وہیں سماج وادی پارٹی نے 102 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے اور مزید 9 نشستوں پر آگے ہے۔اپنا دَل نے 12 نشستوں پر، کانگریس نے دو نشستوں پر،جن ستہ لوک تانترک نے دو،نربل انڈین شوشٹ نے 5 پر، راشٹریہ لوک دل نے 8 پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مایاوتی کی پارٹی بہوجن سماج پارٹی ایک نشست پر سبقت حاصل کیے ہوئے۔
اتر پردیش میں کامیاب اور ناکام امیدواروں کی بات کی جائے تو چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور (اربن) سے کامیاب ہوئے ہیں۔سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو اور سماج وادی پارٹی کے ہی محمداعظم خان اور ان کے فرزند عبداللہ اعظم،ناہید حسن،بالترتیب کرہال،رامپور اور کیرانہ سے اپنی جیت درج کروائی ہے۔وہیں بی جے پی کے موجودہ نائب وزیراعلیٰ کیشوپرساد موریہ ہارگئے ہیں۔
پنجاب کی 117 نشستوں پر انتخابات منعقد ہوئے تھے جن میں سے عام آدمی پارٹی نے 92 نشستوں پر کامیابی درج کروائی ہے۔اور کانگریس 18 نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔جبکہ شرومنی اکالی دل نے 3، بی جے پی نے 2، بہوجن سماج پارٹی اور ایک آزار امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
اتراکھنڈ میں 70 نشستوں پر منعقدہ انتخابات میں بی جے پی نے 47 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔یہاں کانگریس کو 18 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے اور ایک نشست پر سبقت جاری ہے۔بہوجن سماج پارٹی کا ایک امیدوار منتخب ہوا ہے اور ایک امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہے۔دیگر دو آزاد امیدوار بھی منتخب ہوئے ہیں۔یہاں موجودہ بی جے پی کے چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وہیں کانگریسی امیدوار و سابق چیف منسٹر اتراکھنڈ ہریش راوت بھی انتخابات ہار گئے ہیں۔
منی پور میں 60 اسمبلی نشستوں پر انتخابات منعقد ہوئے تھے ان میں سے بی جے پی نے 32 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جبکہ کانگریس کو 5 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔یہاں جنتادل یونائیٹیڈ کے 6، نیشنل پیوپلس پارٹی کے 7،ناگا پیوپلس فرنٹ کے 5، کوکی پیوپلس الائنس کے 2 اور 3 آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
گوا اسمبلی کی 40 نشستوں میں سے بی جے پی نے 20 پر کامیابی درج کروائی ہے۔کانگریس کو یہاں 11 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔عام آدمی پارٹی کے 2 امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔گوا میں مہاراشٹراوادی گومنتتک پارٹی نے 2،ریولیشنری گوون پارٹی نے ایک،گوا فارورڈ پارٹی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ یہاں تین آزاد امیدوار بھی منتخب ہوئے ہیں۔
گوا میں سابق چیف منسٹر و سابق وزیر دفاع آنجہانی منوہر پاریکر کے فرزند اتپل پاریکر کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔اور عام آدمی پارٹی کی جانب سے چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش کیے گئے امیت پالیکر بھی شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔

