تانڈور کا اردو میڈیم ڈگری کالج،93 طلبہ کے لیے ایک عارضی لیکچرار
قیام کے 11 سال بعد بھی ایک لیکچرار کا تقرر نہیں
سابق طلبا "فی سبیل اللہ” خدمات انجام دینے میں مصروف!!
بیرسٹر اسدالدین اویسی کی کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن سے نمائندگی
وقارآباد/تانڈو: 29۔ڈسمبر
(سحرنیوز ڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)
ریاست تلنگانہ میں 2017ء میں حکومت نے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا تھا۔لیکن افسوس کہ زمینی سطح پر اردو کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔سرکاری اردو میڈیم پرائمری اسکولس،ہائی اسکولس،جونیئر کالجس اور ڈگری کالجس میں سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ اور لیکچرارس کی جائدادیں مخلوعہ ہیں۔
زیادہ تر سرکاری دفاتر کے سائن بورڈس سے اردو غائب ہے،آرٹی سی بس اسٹانڈس کے سائن بورڈز اوربسوں کے بورڈس پر اردو ندارد ہے نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے،سوشل میڈیا پر رومن اردو کی بدعت عام ہوگئی ہے۔
اس سلسلہ میں اردو زبان کے چند ماہرین اور دردمندوں کا الزام ہے کہ اس معاملہ میں اردو کی ترقی اور ترویج کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں اورمسلم تنظیموں کا رول انتہائی مایوس کن ہے!!کیونکہ زیادہ ترتنظیموں کے ذمہ داران اپنے اپنے دیوان خانوں میں یا کسی ہال میں مشاعرے یا کوئی اور مختصر پروگرام کرلیتے ہیں،ایک دوسرے کی شال اور گلپوشی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو محسن اردو، عاشق اردو،حبیب اردو،نقیب اردو،خادم اردو وغیرہ کے القابات سے نواز کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اردو کی بہت بڑی خدمت ہوگئی!!
ایسے اردو کے درمندوں کے لیے کسی نے فیس بک پر لکھا تھا کہ”اردو زبان کو آج عاشقوں اور اس کے خادموں سے بڑی پریشانی درپیش ہے۔آج اردو کو نہ عاشقوں کی ضرورت ہے اور نہ خادموں کی بلکہ اس مادر مہربان کو فرمانبردار بچوں کی ضرورت ہے!! "
وقارآباد ضلع کے تانڈور میں ایک ایسا اردو میڈیم ڈگری کالج موجود ہے جس کے قیام کے 11 سال بعد بھی آج تک ایک بھی مستقل لیکچرار کا تقرر نہیں کیا گیا ہے!!
متحدہ آندھرا پردیش میں ستمبر 2010ء میں موجودہ وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی جو کہ اس وقت وزیر معدنیات تھیں نے اس کالج کا افتتاح انجام دیا تھا۔متحدہ ضلع رنگاریڈی(میڑچل،وقارآباد اور رنگاریڈی) کا یہ پہلا اور آخری اردو میڈیم ڈگری کالج ہے۔

تانڈور کے اس اردو میڈیم ڈگری کالج میں بی۔کام کا نظم ہے۔اس سال اس کالج کے سال اول میں 39،سال دوم میں 28 اور سال آخر میں 26 طلبا و طالبات زیرتعلیم ہیں۔اس طرح تانڈور کے اس اردو میڈیم ڈگری کالج میں جملہ 93 طلبا و طالبات زیرتعلیم ہیں جن میں طالبات کی تعداد زیادہ ہیں۔
اس اردو میڈیم ڈگری کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تانڈور سے 70 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود چیوڑلہ کے علاوہ وقارآباد،کوڑنگل،منے گوڑہ،دھارور، ترمامڑی،کوٹ پلی،تٹے پلی،اندور،گوٹلا پلی،کرنکوٹ،بشیرآباد،یکمئی اور قاسم پور سے طلبا اور طالبات اس ڈگری کالج کو پہنچتے ہیں جہاں صرف ایک خاتون گیسٹ لیکچرار ہی موجود ہیں۔
جبکہ تانڈور کے اس اردو میڈیم ڈگری کالج کے لیے مضمون واری سطح پر اردو کے لیے ایک،کامرس پڑھانے کے لیے ایک،کمپیوٹرس کے لیے ایک اور انگریزی کے لیے ایک مستقل لیکچرارس کی جائدادیں مختص ہیں۔
تانڈور کے اس اردو میڈیم ڈگری کالج کے قیام کے لیے گوٹلا پلی خواجہ میاں کی انتھک جدوجہد کا بڑا رول ہے جنہوں نے صدرمجلس و رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے اس کالج کے قیام میں اہم رول ادا کیا۔اب وہ گزشتہ 11 سال سے اس کالج میں مستقل یا گیسٹ لیکچرارس کے تقرر کے لئے نمائندگیوں میں مصروف ہیں۔
2017 میں صدر مجلس و رکن پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اس کالج میں دو لیکچرارس کے تقرر کے لیے کمشنر کالجیٹ ایجوکیشن نوین متل سے موثر نمائندگی کی تھی لیکن بعد میں ایک عہدہ برخاست کردیا گیا اور اب کئی سال سے صرف ایک عارضی لیکچرارسے ہی کام چلایا جارہا ہے۔
اس ڈگری کالج کے قیام کے بعد اس کالج کی بقا کی غرض سے اس ڈگری کالج کے ہی احاطہ میں موجود گورنمنٹ جونیئر کالج اردو میڈیم کے لیکچرارس محمد موسیٰ،عظمت اللہ اور دیگر نے کئی سال تک اپنی خدمات مفت پیش کیں۔
بعدازاں اسی کالج کے پہلے بیاچ کے تین طلبا محمد زاکر،محمد عبداللہ علی اور محمدحنیف نے 2013ء میں ڈگری کی تکمیل کے بعد 2015ء میں پی جی مکمل کرتے ہوئے اسی کالج میں تین سال تک گیسٹ لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دیں۔جنہیں ماہانہ 7،500 روپئے کا حقیر مشاہرہ ضلع کلکٹر کے فنڈ سے حاصل ہوتا تھا۔اب بھی تانڈور کے اس اردو میڈیم ڈگری کالج کے دو سابق طلبا محمد زاکر اور محمد عبداللہ علی اس کالج میں محض طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانے کی غرض سے کوویڈ وبا کے بعد سے "فی سبیل اللہ”خدمات انجام دے رہے ہیں!!
ڈگری کالج کی اس حالت زار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کالج میں زیرتعلیم 93 طلبہ کن مشکل حالات سے گزرنے کے باوجود اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور آپس میں ہی طلبہ ایک دوسرے کو پڑھانے میں مصروف ہیں!!ضرورت شدید ہے کہ حکومت سے اس سلسلہ میں موثر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان طلبہ کامستقبل برباد نہ ہو!!

اس مسئلہ پر 16 ڈسمبر کو اس ڈگری کالج میں لیکچرارس کے تقرر کا مطالبہ کرتے ہوئے رکن آل انڈیا پروفیشنل کانگریس کمیٹی خالدسیف اللہ کی قیادت میں اس کالج کے طلبا و طالبات کی کثیر تعداد نے تانڈور کے دفتر آر ڈی او پر احتجاجی دھرنا منظم کیا تھا۔بعدازاں انہوں نے آر ڈی او تانڈور اشوک کمار کو ایک تحریری یادداشت بھی حوالے کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈگری کالج میں کم ازکم گیسٹ لیکچرارس کا تقرر عمل میں لایا جائے۔
اسی دؤران صدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن تلنگانہ نوین متل کے نام موسومہ ایک مکتوب ریاض الحسن آفندی مجلسی رکن قانون ساز کونسل،ڈپٹی میئر میونسپل کارپوریشن نظام آباد محمد ادریس خان،صدر مجلس نظام آباد و فلورلیڈر محممد شکیل احمد فاضل،مولوی محمد نصیر الدین موظف لکچرار،معتمد مجلس و معاون کارپوریٹر محمد شہباز،نائب معتمد و کارپوریٹر اعجاز حسین اور دیگر نے نوین متل سے ملاقات کرتے ہوئے حوالے کیا۔

اس مکتوب میں بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ریاست کے تمام اردو میڈیم ڈگری کالجوں میں گیسٹ فیکلٹی کے تقررات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اس موقع پر ان مجلسی قائدین اور نمائندوں نے کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن تلنگانہ نوین متل کو بتایا کہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کو درجہ دئے جانے کے باوجود اردو کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔
نوین متل کو انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال 8 نومبر کو کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن تلنگانہ کی جانب سے 1138 گیسٹ فیکلٹی کے تقررات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت صرف 6 اردو ڈگری میڈیم کالجس پر تقررات کو منظوری دی گئی اور بقیہ 1132 گیسٹ فیکلٹی تلگو اور انگریزی میڈیم کے لیے ہیں۔
جبکہ اردو میڈیم ڈگری کالجس میں لکچرارس نہ ہونے کے باعث طلبہ کی تعلیم پر اثر پڑرہا ہے۔اس موقع پر کمشنر آف کالجیٹ ایجوکیشن تلنگانہ نوین متل نے اس مجلسی وفد کو تیقن دیا کہ ریاست کے اردو میڈیم ڈگری کالجوں میں گیسٹ فیکلٹی کے جلد ہی تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔

