رکن اسمبلی تانڈور نے وہی پُرانے وعدے دُہرائے ہیں!
تمام مسائل حل ہونے تک پُرامن جدوجہد جاری رہے گی
تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں کا پریس کانفرنس میں اعلان
وقارآبا/تانڈور: 06۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ تانڈور میں موجود فضائی آلودگی کے خاتمہ تک اور خراب سڑکوں کی حالت بہتر بنانے تک، تانڈور میں میڈیکل کالج کے قیام اور قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر فلائی اوور بریج کی تعمیر کے حکومت کے اعلان تک پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ صاف و شفاف ہوا، پانی اور بہتر سڑکیں عوام کا جمہوری حق ہے۔لیکن حکومت تانڈور سے مختلف ٹیکسوں کی شکل میں سالانہ کروڑہا روپئے حاصل ہونے کے باوجود تانڈور کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم رکھاگیا ہے۔
کل شام دیر گئے مسجد عالیہ کامپلیکس،شانتی نگر میں تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر،گوپال کرشنا، پریاداراما کرشنا،وینکٹیشم (واسو) اور دیگر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر مولانا سہیل احمد عمری، ساجد پٹیل کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ تانڈور کے عوام کو کئی سال سے درپیش ان بھیانک مسائل کے حل کے لیے 4 ڈسمبر کو رضاکارانہ طور پر تانڈور بند کی اپیل کی گئی تھی اور اسی دن امبیڈکر چوک پر غیر معینہ مدت کی زنجیری بھوک ہڑتال کا آغاز بھی کیا گیاتھا تاہم اس دن ان قائدین کی گرفتاری اور بھوک ہڑتالی کیمپ کو ختم کروانے کے پولیس کے اقدام کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج بھی اس ملک کے عوام کا جمہوری حق ہے۔
تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر، گوپال کرشنا،پریاداراما کرشنا، وینکٹیشم (واسو) اور دیگرنے اس پریس کانفرنس میں 4 ڈسمبر کو احتجاج ختم کروانے کے لیے اندرا چوک پر رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی جانب سے دئیے گئے تیقنات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی نے اس دن اعلان کیا کہ اندرون 6 ماہ ان تمام مسائل کو حل کیا جائے گا لیکن یہی اعلانات وہ ماہ جنوری میں بھی کرچکے ہیں جن پر 11 ماہ بعد بھی عمل نہیں ہوا ہے!
ساتھ ہی تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے ان نمائندوں نے واضح کیا کہ ان کی یہ جدوجہد کسی کی تائید یا مخالفت میں ہرگز نہیں ہے اور اس جدوجہد کا واحد مقصد صرف تانڈور کے عوام کو درپیش مسائل کو حل کروانا اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو ان کی ذمہ داریاں،انتخابات کے وقت کیے گئے وعدوں اور اعلانات کو یاد دلانا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ تانڈور کے تمام مسائل ہونے تک تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کی یہ پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندوں سید کمال اطہر،گوپال کرشنا،پریادا راما کرشنا،وینکٹیشم (واسو) نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال قبل جب تانڈور میں تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے یہاں کی فضائی آلودگی کی پیمائش کی گئی تھی تب سرکاری طور پر ہی انکشاف ہوا تھا کہ تانڈورٹاؤن میں فضائی آلودگی دہلی سے بھی زیادہ ہے۔اس کے باؤجود اس فضائی آلودگی کو ختم کرنے یا اس کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات آج تک نہیں کیے گئے۔

جبکہ اس فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں امراض قلب،سانس اور دمہ کی بیماریاں،گردوں کے امراض،جلدی امراض اور سائی نس جیسی بیماریاں عام ہوگئی ہیں۔
تانڈور ڈیولپمنٹ فورم کے نمائندے سید کمال اطہرنے استفسار کیا کہ رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ چند لوگ تانڈور کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں تو ان کے ناموں کا انکشاف کیا جائے کہ وہ لوگ کون ہیں ان کے خلاف بھی جدوجہد کی جائے گی اور ان کے خلاف تانڈور ڈیولپمنٹ فورم رکن اسمبلی کا ساتھ دے گی۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی جانب سے تانڈور کے لیے کوئی فنڈ جاری نہ کرے صرف تانڈور سےمختلف ذرائع سے حکومت کو حاصل ہونے والی ٹیکسوں کی رقم ہی تانڈور کی ترقی کے لیے صرف کرے۔

