پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا ٭٭ششی کپور اپنی یاد گار اداکاری کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے،چوتھی برسی پر خصوصی مضمون

پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا……..
ششی کپور اپنی یادگار اداکاری کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے
چوتھی برسی کے موقع پر خصوصی مضمون

ششی کپور کی شبیہ جب کبھی فلمی شائقین کے ذہنوں میں ابھرتی ہے تو ہندی فلموں سوپر اسٹار امیتابھ بچن کیساتھ فلم دیوار کا وہ منظر اور  ڈائیلاگ بے اختیار یاد آجاتے ہیں جو کہ ایک ایماندار پولیس افسر (ششی کپور) اپنے ایک اسمگلر بھائی (امیتابھ بچن) سے کہتا ہیکہ "بھائی تم ان کاغذات پر سائن کروگے یا نہیں” ؟ یا پھر اسی فلم کا ایک مشہور زمانہ ڈائیلاگ بھی فلمی شائقین کے ذہنوں پر آج بھی نقش ہے کہ جب وجئے (امیتابھ بچن) اپنے پولیس انسپکٹر بھائی روی (ششی کپور) سے پوچھتے ہیں کہ”دیکھو آج میرے پاس پیسہ ہے،بنگلہ ہے، گاڑی ہے، نوکر ہیں، بینک بیلنس ہے، تمہارے پاس کیا ہے ؟ تب ششی کپورمعصوم اور پختہ لہجہ میں یہ ڈائیلاگ بولکر سینماہال کے شائقین کی سیٹیاں اور تالیاں بٹور لیتے ہیں کہ” میرے پاس ماں ہے” ۔

ششی کپور 18 مارچ 1938ء کو کولکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے بطوراداکار اپنی زندگی کی ابتداء چار سال کی عمر میں اپنے والد، پروڈیوسر اور ہدایت کار پرتھوی راجکپورکے ساتھ ڈراموں میں اداکاری کی تھی۔

ششی کپور کو اداکاری یوں تو ورثہ میں ملی تھی اور ان کے خون میں ہی اداکاری رچی بسی تھی۔کیونکہ وہ اپنے زمانے کے مشہور تاریخی اداکار والد پرتھوی راج کپورکے تیسرے فرزند تھے ان سے بڑے بھائی شمی کپور بھی ایک شوخ و چنچل اداکار کی حیثیت سے مشہور رہ چکے ہیں اور انکے بڑے بھائی راجکپور تو فلمی دنیا کے عظیم شومین تھے۔

پھر 1940ء کے عشرہ کے آخری برسوں میں انہوں نے فلموں میں ایک چائلڈ اسٹار کے طور پر بھی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔انہوں نے بطورچائلڈ ایکٹر اپنے ہدایت کار،پروڈیوسر،اداکار بھائی راج کپورکی فلم آگ (1948) آوارہ (1951) اورفلم سنگم (1950) میں اداکاری کی تھی

ششی کپور نے 1960ء کے دہے میں ہدایت کار رویندر دیو کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے فلم پوسٹ باکس (سنیل دت )،گیسٹ ہاوس(1959) فلم دلہا دلہن اورفلم شریمان ستیاوادی کام کیا تھا۔

ششی کپور کی پہلی فلم دھرم پترا تھی انہوں نے زائداز 150 فلموں میں کام کیا تھا جن میں سے 61 فلموں میں وہ واحد تنہا اداکار تھے۔ جبکہ 55 فلمیں دیگر اداکاروں (ملٹی اسٹارر) فلموں میں کام کیا تھا اور 21 فلموں میں ششی کپور نے بطور معاون اداکار کام کیا تھا۔جبکہ 7 فلموں میں ششی کپور نے بطور مہمان خصوصی کام کیا تھا۔

ششی کپور نے اپنی منفرد اداکاری کے ذریعہ 1960ء اور 1970ء کے دہے اپنی اداکاری کا سکہ جماتے ہوئے نوجوانوں کے دلوں پر راج کیا تھا اور یہ سلسلہ 1980ء کے وسط تک بھی قائم رہا۔ششی کپور نے انگلینڈ کی اداکارہ جنیفر کیڈل سے 1958ء میں شادی کی تھی ان دونوں کی پہلی ملاقات 1956ء میں کلکتہ میں ہوئی تھی جو کہ بعد ازاں وہ پرتھوی تھیٹر کا حصہ بن گئیں جن کاکینسر کی بیماری سے 7ستمبر 1984ء کو لندن میں انتقال ہوگیا۔

جنیفر کپور نے 1981ء میں ہندوستانی فلموں 36 چورنگی لین (1981) بامبے ٹاکیز (1970)،جنون 1978ء اور ہیٹ اینڈ ڈسٹ 1983ء میں اداکاری کی تھی۔

ششی کپور اور جنیفرکپور کے دو بیٹے کنال کپور،کرن کپوراور ایک بیٹی سنجنا کپور ہیں۔ششی کپور کے فرزند کنال کپور نے فلم جنون،آہستہ آہستہ، وجیتا، اُتسو اور تری کال جیسی فلموں میں اداکاری بھی کی تھی۔وہیں ششی کپور کے ایک اور فرزند کرن کپورنے بھی فلم جنون، 36 چورنگی لین، سلطنت، لوہا اور افسر جیسی ملٹی اسٹارر فلموں میں کام کیا ہے۔جبکہ ششی کپور کی دختر سنجنا کپور نے بھی اپنےوالد کی فلم 36 چورنگی لین میں اپنی ماں اور بھائی کرن کپور کیساتھ اہم کردار ادا کیا تھا۔

سنجنا کپور نے اپنے والد ششی کپور ہی کی فلم اتسو میں بھی کام کیا تھا لیکن بالی ووڈ میں سنجنا کپور کو فلم ہیرو ہیرالال(1988) سے پہچان ملی تھی جو کہ ایک حیدرآبادی پس منظر والی فلم اور حیدرآبادی آٹو ڈرائیور کی زندگی پر مشتمل تھی۔اس فلم کے ہیرو نصیرالدین شاہ تھے۔

پھر سنجنا کپور نے میرا نائر کی مشہور فلم سلام بامبے (1988) میں بھی کام کیا تھااسکے بعد سنجنا نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ خاندانی پرتھوی تھیٹر سنبھال لیا اور جوہو ممبئی کے اس تھیٹر میں بچوں کو تربیت دینے لگیں۔

ششی کپور نے فلمی اداکاراوں راکھی، شرمیلا ٹیگور اور زینت امان کیساتھ اپنی جوڑی بنائی جو انتہائی مقبول رہی جبکہ ششی کپور نے ہیمامالینی، پروین بابی اور موسمی چٹرجی کیساتھ بھی کئی فلموں میں کام کیا تھا۔1970 کے دہے میں ششی کپور نے جانور اور انسان، بسیرا، دوسرا آدمی، بندھن کچے دھاگوں کا، بندھے ہاتھ،زمین آسمان،آمنے سامنے، آگلے لگ جا، نیو دہلی ٹائمز، چوری میرا کام،دیوانگی، پھانسی، اور ہیرا لال پنا لال جیسی کئی ایک فلموں میں کام کیا جنہیں بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہوپائی تھی۔

جبکہ ششی کپور کی فلمیں وقت،ستیم شیوم سندرم،حسینہ مان جائے گی،پھانسی، فقیرا، پریم کہانی، کنہیا دان،شرمیلی،چور مچائے شور،کبھی کبھی ،روٹی کپڑا اور مکان، جب جب پھول کھلے، کالا پتھر، دیوار،سہاگ،دو اور دو پانچ، شان،سلسلہ، کرانتی، نمک حلال،ترشول نے باکس آفس پر دھوم مچائی۔

ششی کپور نے کئی انگریزی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں آئیوری مرچنٹ کی ‘ ہیٹ اینڈ ڈسٹ’ شامل ہے۔ششی کپور اداکاری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ کئی فلموں کے پروڈیوسر اور ڈائرکٹر بھی رہے۔انہوں نے ہندوستانی سنیما کو کئی ایک بہترین فلمیں دیں جو آج بھی مقبول ہیں۔

اپنی جاندار اداکاری کی بدولت ششی کپورکو 2011ء میں حکومت ہند کیجانب سے پدم بھوشن ایوارڈ عطا کیا گیا تھا جبکہ 2015ءمیں ششی کپور کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیاتھا۔وہیں 1979ء میں ششی کپور کو بہترین پروڈیوسرکا نیشنل فلم ایوارڈ فلم جنون کے لیے دیا گیا، 1986ء میں فلم نیو دہلی ٹائمز کے لئے اور 1983ء میں فیچرفلم محافظ کے لیے بھی نیشنل ایوارڈ دیا گیا تھا۔

ششی کپور کو 1976ء میں مشہور فلم دیوار کے لیے بہترین معاون اداکار کا،1980ء میں فلم جنون کے لیے، 1982ء میں فلم کل یگ کے لیے بہترین فلم کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا تھا۔وہیں 2010ء میں ششی کپور کو فلم فیئرلائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا تھا۔اسی طرح فلم نمک حلال 1980ء اور 1977ء میں فلم کبھی کبھی کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ششی کپور کو بہت سارے مختلف ایوارڈس بھی حاصل ہوئے تھے۔

ششی کپور نے 1991ء میں امیتابھ بچن کو لیکر فلم عجوبہ خود پروڈیوس اور ڈائرکٹ کی تھی جوکہ باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوگئی تھی۔وہیں ششی کپور نے 1984ء میں ریکھا،شیکھر سمن،امجد خان اور خود کی اداکاری والی فلم اتسو بھی پروڈیوس کی تھی جسکے ڈائرکٹر گریش کرناڈ تھے یہ فلم بھی باکس آفس پر کوئی اچھا مظاہر ہ نہیں کرپائی۔

بطور پروڈیوسر اور ڈائرکٹر ششی کپور نے جنون، کل یگ، 36 چورنگی لین، وجیتا، اتسو اور عجوبہ جیسی فلمیں بنائی تھیں۔

ششی کپور نے فلم جب جب پھول کھلے میں ایک کشمیری نوجوان کا یادگار رول انتہائی خوبصورتی کے ساتھ بہترین انداز میں نبھایا تھا۔

ہندوستانی فلموں کے مشہور اداکار، پروڈیوسر اور ہدایت کار ششی کپورکا 79 سال کی عمر میں 4 ڈسمبر2017ء کو طویل علالت کے بعدممبئی کے کوکیلا بین امبانی ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔جن کا اصل نام بلبیر راج کپور تھا۔

1960ء کے دہے سے ہندوستانی فلموں میں زائد از 20 سال تک ششی کپور اپنے معصوم چہرے،اپنے مخصوص ہیر اسٹائل اور اپنی منفرد انداز والی اداکاری سے فلمی شائقین کے دلوں پر راج کرتے رہے۔

فلموں میں ششی کپور پر فلمائے گئے کچھ نغمے یہاں پیش ہیں جو آج بھی مقبول ہیں:-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا، پردیسیوں کو ہے ایک دن جانا ( فلم : جب جب پھول کھلے)

یہاں میں اجنبی ہوں،میں جو ہوں بس وہی ہوں ( فلم : جب جب پھول کھلے)

 

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ( فلم: کبھی کبھی)
بے خودی میں صنم،اٹھ گئے جو قدم، آگئے پاس ہم ( فلم: حسینہ مان جائے گی)
ایک راستہ ہے زندگی ( فلم: کالاپتھر)

 

کھلتے ہیں گل یہاں،کھل کے بکھرنے کو ( فلم: شرمیلی)
دوستوں میں کوئی بات چل جاتی ہے (فلم: پریم کہانی)

گھنگھرو کی طرح بجتا ہی رہا ہوں میں ( فلم : چور مچائے شور)
لے جائیں گے،لے جائیں گے، دل والے دلہنیا لے جائیں گے ( فلم : چور مچائے شور)
ایک ڈال پر طوطا بولے ، ایک ڈال پر مینا ( فلم : چور مچائے شور)
تیرا مجھ سے ہے پہلے کا ناطہ کوئی ، یونہی نہیں دل لبھاتاکوئی ( فلم : آ گلے لگ جا )

محبت بڑے کام کی چیز ہے (فلم : ترشول )
وقت کرتا جو وفا آپ ہمارے ہوتے ( فلم : دل نے پکارا)
کبھی رات دن ہم دور تھے ( فلم : آمنے سامنے )
چلے تھے ساتھ ملکر ، چلیں گے ساتھ ملکر ( فلم: حسینہ مان جائے گی)
سہانی چاندنی راتیں ہمیں سونے نہیں دیتیں ( فلم : مکتی)

مضمون نگار: یحییٰ خان
khanreport@gmail.com