وجئے شانتی ہوسکتی ہیں ناگرجنا ساگرسے بی جے پی کی امیدوار؟ 

وجئے شانتی ہوسکتی ہیں ناگرجنا ساگرسے بی جے پی کی امیدوار؟ 

حیدرآباد۔24۔ جنوری (سحرنیوزڈاٹ کام)  ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں اس سلسلہ میں ایسی قیاس  آرائیاں زوروں پر ہیں کہ بی جے پی ہائی کمان سابق رکن پارلیمان ، فلم اداکارہ وجئے شانتی کو اپنےامیدوارکے طورپرمیدان میں اتارنے پر غور کررہا ہے!۔ یا د رہیکہ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی نومولا نرسمہیاکا چند ماہ قبل اچانک انتقال ہوگیا تھا اور اب اس اسمبلی حلقہ کیلئے ضمنی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اور امکان ہیکہ الیکشن کمیشن مارچ میں ضمنی انتخاب کے انعقاد کیلئے اعلامیہ جاری کرسکتا  ہے!

اس سلسلہ میں تمام اہم سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہوگئی ہیں ۔سدی پیٹ کے دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی امیدوار رگھونندن راؤ کی کامیابی اور پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں غیر معمولی کامیابی کے بعد ریاست میں بی جے پی ان کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے ہر ممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور اب اسکی نظر ناگرجنا ساگر حلقہ اسمبلی پر ٹکی ہوئی ہے قیاس کیا جارہا ہے کہ بی جے پی فلم اداکارہ ولیڈی امیتابھ بچن کے نام سے شہرت کی حامل سابق رکن پارلیمان وجئے شانتی کو میدان میں اتارسکتی ہے

اور بتایا جاتا ہیکہ اس سلسلہ میں ضلع نلگنڈہ کے بی جے پی قائدین نے بھی پارٹی ہائی کمان سے سفارش کی ہے کہ ناگرجنا ساگر حلقہ اسمبلی سے وجئے شانتی کو امیدوار بنایا جائےتو برسراقتدار ٹی آرایس اور کانگریس کو سخت ٹکر دی جاسکتی ہے ۔یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ وجئے شانتی زیادہ دنوں تک کانگریس میں رہنے کے بعد گزشتہ سال کے اواخر میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے وہ اس سے قبل ٹی آرایس میں بھی رہ چکی ہیں !

جبکہ بتایا جاتا ہیکہ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں کانگریس سابق وزیر کندکوری جناردھن ریڈی کو اپنا امیدوار بنانے والی ہے وہیں ٹی آرایس پارٹی سابق رکن اسمبلی آنجہانی نومولا نرسمہیا کے فرزند کو اپنا امیدوار بنانے والی ہے جنہیں عوامی ہمدردی کی لہر حاصل ہوسکتی ہے !

تاہم بی جے پی کی جانب سے اگر وجئے شانتی کو اپنا امیدوار بنایا جاتا ہے تو امکان ہیکہ کانگریس اور ٹی آرایس بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتے ہیں !!کیونکہ ٹی آرایس اس بات کی پوری کوشش کرے گی کہ ریاست میں بی جے پی کی کامیابیوں کے سلسلہ کو روکا جائے ورنہ 2023ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اسے بی جے پی کیساتھ ساتھ کانگریس سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑسکتے ہیں!َ!