کرناٹک میں "حجاب مخالف مہم ” کی آگ دیگر کالجوں تک پہنچ گئی، طلبہ کا جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ احتجاج

کرناٹک میں”حجاب مخالف مہم” کی آگ دیگر کالجوں تک پہنچ گئی
طلبہ کا جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ احتجاج
اُڑپی، کنڈاپور اور چکمگلور کے 11 کالجوں میں مخالف حجاب مہم
حجاب کے نام پر ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکہ ڈال رہے: راہول گاندھی

بنگلورو : 05۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جنوبی کرناٹک کے اُڑپی ضلع میں آج ایک اور خانگی کالج میں مسلم لڑکیوں کی جانب سے حجاب(اسکارف) پہن کر کالج آنے کے خلاف زعفرانی تنظیموں کی قیادت میں اس کالج کے اکثریتی فرقہ کے طلبا اور طالبات نے شدید احتجاج کیا۔

Courtesy : Satish Acharya,Cartoonist

آج اُڑپی ضلع ہی کے کنڈا پورکے آر این شیٹی پی یو کالج کے سینکڑوں اکثریتی فرقہ کے طلبا اور طالبات نے کالج کے احاطہ میں اپنے گلوں میں زعفرانی کھنڈوے  اور شال پہن کر جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ شدید احتجاج منظم کیا۔اور لڑکیوں نے اپنے گلوں میں زعفرانی کھنڈوے پہن کر باقاعدہ ایک ریالی بھی منظم کی۔

جنوبی کرناٹک کے اڑپی سمیت کنڈا پور ،ہاسن اور چکمگلور کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی اب باقاعدہ حجاب کے خلاف منظم طور پر مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جملہ 11 کالجوں میں مسلم طالبات کے حجاب پہن کر کالج آنے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔جس کے بعد ان علاقوں کے اقلیتی طبقہ بالخصوص کالج جانے والی طالبات میں خوف کے ساتھ ساتھ تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے!

حجاب کے خلاف اس منظم مہم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کنڈاپور کے آر این شیٹی پوسٹ یونیورسٹی کالج میں اکثریتی فرقہ کے طلبہ اور ان کے ساتھ چند زعفرانی تنظیموں کے نمائندوں نے باقاعدہ کالج میں جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگائے۔

یاد رہے کہ 28 ڈسمبر کو اُڑپی کے ایک سرکاری پی یو کالج سے اس مخالف حجاب مہم کا آغاز ہوا تھا۔جہاں کی 6 طالبات کو حجاب پہن کر آنے پر کلاس روم سے نکال دیا گیا تھا۔ان میں سے ایک طالبہ 31 جنوری کو کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں جس کی سماعت 8  فروری بروز منگل کو ہونے والی ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ میں اس مسلم طالبہ کی یہ عرضی ایڈوکیٹ شتھابیش شیوانا،ارناو اے باگلواڑی اور ابھیشیک جناردھن کے ذریعہ دائر کی گئی ہے۔

بعدازاں 2 فروری کو کرناٹک کے اُڑپی ضلع کے ہی کُنڈاپور کے ایک پی یو کالج کے لڑکے(طلبا) مسلم طالبات کی جانب سے حجاب پہن کر کالج آنے کے خلاف اپنے گلوں میں زعفرانی کھنڈوا پہن کر کالج پہنچے تھے اور احتجاج کیا تھا کہ یہ مسلم لڑکیاں کیوں اسکارف پہن کر کالج آرہی ہیں؟

جس کے فوری بعد 3 فروری کو کنڈا پور کے اس کالج میں حجاب(اسکارف) اور برقعہ پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو روک دیا گیا تھا سوشل میڈیا پر وائرل اس واقعہ کے ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ کالج کے گیٹ پر کھڑے ہو کر خود کالج کے پرنسپل رام کرشنا نے ان طالبات کو روک دیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ اگر وہ کلاس رومز کے اندر ہیڈ اسکارف پہننا چاہتی ہیں تو کلاس میں نہ جائیں۔اس کے بعد سے ان طالبات کے لیے اس کالج کے دروازے بند ہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس کالج کے ویڈیوز پر شدید افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کئی سال سے ہم جماعت رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ رویہ کے ساتھ رہنے والی ان طالبات کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے تقسیم کردیا گیا!۔

کنڈاپور کے ایک اور خانگی بھنڈارکر کالج کی طالبات نے بھی آج مسلم طالبات کی جانب سے حجاب پہن کر کالج آنے کے خلاف بطور احتجاج ایک ریالی منظم کی اس ریالی میں شریک طالبات نے اپنے گلوں میں زعفرانی شال اور کھنڈوے پہنی ہوئیں جئے شری رام کے نعرے لگارہی تھیں۔

جنوبی کرناٹک میں جاری حجاب مخالف مہم کے خلاف سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے آج ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”طالبات کے حجاب کو ان کی تعلیم کے راستے میں حائل کرکے ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ماں سرسوتی سب کو علم دیتی ہے۔وہ فرق نہیں کرتی”۔

سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کے ہاسن ضلع کے گورنمنٹ سائنس کالج کے طلبا نے بھی آج اپنے گلوں میں زعفرانی کھنڈوا پہن کر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا اس کالج میں بھی مسلم لڑکیوں کے حجاب پہن کر کالج آنے پر پابندی عائد کی جائے۔

بیلگاؤں کے ایدواڑ فرسٹ گریڈ ڈگری کالج کے طلبا نے بھی کالج میں زعفرانی کھنڈوا پہن کر احتجاج کیا۔جبکہ کل اڑپی کے بیدنور میں موجود پوسٹ یونیورسٹی کالج کے طلبا زعفرانی کھنڈوا پہن کر کالج پہنچے تاہم کالج کے پرنسپل نے ان طلبا کو روک دیا۔اس موقع پر جم کر بحث و تکرار کی گئی، نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر ان احتجاجی زعفرانی طلبا کا مطالبہ تھا کہ تو پھر مسلم طالبات کو بھی حجاب پہن کر کالج آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

جنوبی کرناٹک میں پھیل رہی حجاب مخالف مہم کی آگ کے دؤران سوشل میڈیا پر چند فوٹوز شیئر کرتے ہوئے بی جے پی سے سوال کیا جارہا ہے کہ اس کے انتخابی جلسوں اور مختلف پروگراموں میں برقعہ پوش اور حجاب پہنی ہوئیں خواتین کا تو خوب خیرمقدم کیا جاتا ہے اور اس کی جم کر تشہیر بھی کی جاتی ہے۔لیکن انہی بی جے پی والوں اور زعفرانیوں کو مسلم طالبات کا حجاب پہننا منظور نہیں ہے!! جبکہ مسلمان یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ قوم اور قیادت نے اپنے تعلیمی اداروں کا پہلے ہی قیام عمل میں لایا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا!

 

Hijab #Karnataka #UdipiColleges #BetiPaDhaao #BetiBachaao #SabKaSaath #SabKaVikas#