وقارآباد ضلع میں بیٹی نے نشہ آور انجکشن دے کر اپنے ہی والدین کا قتل کردیا، درندوں کو بھی شرمندہ کر دینے والی بیٹی گرفتار

رشتوں کا اعتبار وفاؤں کا انتظار
ہم بھی چراغ لے کے ہواؤں میں آئے ہیں

وقارآباد ضلع میں بیٹی نے نشہ آور انجکشن دے کر اپنے ہی والدین کا قتل کردیا
بین طبقاتی شادی سے انکار پر وحشیانہ عمل، درندوں کوبھی شرمندہ کردینے والی بیٹی گرفتار

حیدرآباد/وقارآباد : 28؍جنوری (سحر نیوز ڈاٹ کام)

بیٹی کومصیبت نہیں بلکہ باعث رحمت مانا جاتا ہے، انگریزی میں ایک محاورہ بھی مشہور ہے کہ بیٹی ٹینشن نہیں یہ ٹین سنس کے مساوی ہوتی ہے!! زیادہ تر واقعات میں کہا اور دیکھا بھی جاتا ہے کہ بیٹوں سے زیادہ بیٹیاں اپنے ضعیف والدین کا سہارا بنتی ہیں! لیکن وقارآباد ضلع میں ایک بیٹی نے اس مقدس اور قیمتی رشتے کی اہمیت کو محض اپنی من پسند شادی کی خواہش پوری نہ کرنے پر اپنے ہی والدین کا وحشیانہ قتل کرتے ہوئے اس رشتے کو اپنی خواہشات کی سولی پر لٹکا دیا۔!!

ڈی ایس پی وقارآباد سرینواس ریڈی نے پریس کانفرنس میں سریکھا نامی اس لڑکی کو پیش کرتے ہوئے اس دلسوز واقعہ کی تفصیلات سے واقف کر وایا۔ ڈی ایس پی کے مطابق وقارآباد ضلع کے بنٹارم منڈل کے موضع یاچارم کی ساکن سریکھا جو کہ سنگاریڈی کے ایک نرسنگ ہوم میں نرس کا کام کرتی ہے۔

انسٹاگرام پر سریکھا کی دوستی ایک نوجوان سے ہوئی جو کہ محبت میں تبدیل ہوگئی اور سریکھا اس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی ماں لکشمی اور باپ دشرتھ اس بین طبقاتی شادی کے خلاف تھے اور اس شادی سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔ساتھ ہی سریکھا کے لیے ایک لڑکا دیکھ کر شادی کی بات چیت کرنے والے تھے۔

سریکھا اس کی پسند کی شادی سے والدین کے انکار اور دوسرے لڑکے سے اس کی شادی کو روکنے کی غرض سے اپنے شیطانی منصوبے کے تحت اپنے نرسنگ ہوم سے بیہوشی کی دوا  انستھسیا لے کر اپنے مکان پہنچی اور اپنے والدین کو یہ باور کر وایا کہ یہ درد کو دور کرنے کی دوا ہے اور اس سے انہیں بدن درد سے آرام حاصل ہوگا۔سریکھا نے بہت زیادہ مقدار میں دو نشہ آور انجکشن اپنی ماں اور باپ کو لگائے جس سے ماں لکشمی (54 سالہ) اور باپ دشرتھ (58 سالہ) کی موت واقع ہوگئی۔

اپنے والدین کی موت کے بعد سریکھا نے اپنے بھائی اشوک کو جو مرپلی میں رہتے ہیں کو فون کرکے گمراہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے تو انہوں نے فوری مکان پہنچ کر اپنے والدین کو ہسپتال منتقل کیا تاہم اس وقت تک ان دونوں کی موت واقع ہوچکی تھی۔

اس کے بعد والدین کی اس طرح موت پر شک کی بنیاد پر جب بنٹارم پولیس نے بیٹی سریکھا کو اپنی تحویل میں لے کرتفتیش کی تو اس نے دوہرے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والدین اس کی پسند کی شادی کرنے سے انکار کرر ہے تھے اور کسی اور جگہ اس کی شادی کا منصوبہ بنا رہے تھے اس لیے اس نے ان دونوں کو زیادہ مقدار میں نشہ آور انجکشن دیتے ہوئے ان کا قتل کر دیا اس طرح سریکھا نے پولیس کے سامنے اپنا جرم قبول کرلیا۔

اس سلسلہ میں پولیس نے سریکھا کو گرفتار کرلیا، بنٹارم پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔

سریکھا کا مغموم بھائی اشوک اور دیگر رشتے دار۔

سریکھا کے بھائی اشوک اور دیگر رشتہ داروں کے علاوہ موضع کے عوام سریکھا کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور سبق آموز سزاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔آج میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس دلخراش واقعہ کی اطلاع عام ہوئی تو غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا کوئی بیٹی اتنی  درندہ صفت اور ظالم بھی ہوسکتی ہے۔؟

یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ کی 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا نقارہ بج گیا، 11 فروری کو ووٹنگ اور 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی