‏بھارتی سائنسدانوں نے کوویڈسے نمٹنے کے لیے خود کار جراثیم کش، بائیو ڈی گریڈیبل فیس ماسک تیار کر لیے

‏بھارتی سائنسدانوں نے کوویڈ سے نمٹنے کے لیے خود کار جراثیم کش
‏سانس لینے میں آسان اور یہ دھوئے جانے کے قابل
بائیو ڈی گریڈیبل فیس ماسک تیار کرلیے

نئی دہلی: 04۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

‏بھارتی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک صنعتی شراکت دار کے تعاون سے کوویڈ-19 وبا سے لڑنے کے لیے خود کار جراثیم کش ‘تانبے پر مبنی ” نینو پارٹیکل کوٹیڈ ” وائرس کش فیس ماسک تیار کیا ہے۔‏‏یہ ‏‏ماسک کوویڈ 19 وائرس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر وائرل اور بیکٹیریا کے انفیکشن کے خلاف اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔یہ بائیو ڈیگریڈیبل ہے،تنفس کے لیے آسان اور دھونے کے قابل ہے۔‏

‏عوامی ماسک پہننا کوویڈ-19کے ‏‏پھیلاؤ کو کم کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ہے‏‏،یہ ایک ملفوف مثبت واحد اسٹرییڈ والا آر این اےوائرس ہے،جس کی منتقلی سانس کے ذرات کے ذریعہ ہوتی ہے جو بنیادی طور پر ہوا میں پائے جاتے ہیں‏‏۔منتقلی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیےماسک کے استعمال کے بارے میں سائنس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

بھارتی مارکیٹ مہنگے ماسک فروخت کر رہی ہے ‏‏جو نہ تو وائرس کش ہیں اور نہ ہی بیکٹیریا کش خصوصیات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔لہذا،روایتی ماسک پہن کر منتقلی پر قابو پانا بہت مشکل ہے خاص طور پر گنجان آبادی والے مقامات جیسے اسپتالوں،ہوائی اڈوں،اسٹیشنوں،شاپنگ مالز وغیرہ میں جہاں وائرس بہت زیادہ ہوتا ہے۔موجودہ منظر نامے میں جہاں کوویڈ-19 وبا پیدا کرنے والے کورونا وائرس میں تبدیلیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں ایک کم لاگت والے وائرس کش ماسک تیار کرنے کی فوری ضرورت ہے۔‏

‏اس مقصد کے لیے ڈیپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) بھارت سرکار کے تحت ایک خود مختار تحقیق و ترقی کے مرکز انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر فار پاؤڈر میٹالرجی اینڈ نیو میٹریل (اے آر سی آئی) کے سائنس دانوں‏‏ نے ٹی ‏‏ایچ ای سینٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی (سی ایس آئی آر-سی ‏‏سی ایم بی‏‏) ‏‏اور بنگلورو کی ایک کمپنی ریسل کیمیکلز کے تعاون سے ڈی ایس ٹی کی سرپرستی میں خود کار جراثیم کش ” ‘تانبے پر مبنی نینو پارٹیکل کوٹیڈ اینٹی وائرل فیس ماسک” تیار کیا ہے۔

‏اے آر سی آئی نے فلیم اسپرے پائرولیسس (ایف ایس پی) پروسیسنگ سہولت کے ذریعہ تقریباً 20 نینو میٹر کے تانبے پر مبنی نینو پارٹیکلز تیار کیے ہیں۔ایف ایس پی کے عمل میں زیادہ درجہ حرارت پائرولائیٹک انحطاط کے ذریعے محلول کے پیش رو کو نینو پاؤڈر میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

ٹھوس لوڈنگ اور پی ایچ کو بہتر بنا کر مستحکم نینو پارٹیکل محلول حاصل کیا گیا۔سوتی کپڑے پر اس نینو کوٹنگ کی ایک یکساں پرت اچھی چپکنے کی صلاحیت والے مادے کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔کوٹیڈ فیبرک نے بیکٹیریا کے خلاف 99.9 فیصد سے زیادہ موثر پایا گیا۔

سی ایس آئی آر-سی سی ایم بی نے کورونا وائرس کے خلاف اس کپڑے کی افادیت کا تجربہ ان کی جراثیم کش خصوصیات کے لیے کیا اور اس کے 9.99 فیصد جراثیم کش ہونے کی اطلاع دی۔جیسا کہ معیاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے۔بیرونی پرت کے طور پر نینو پارٹیکل کوٹیڈ فیبرک کے ساتھ اکہری پرت اور تہری پرتوں جیسے مختلف ڈیزائن رکھنے والے پروٹو ٹائپ ماسک کے نمونے بنائے گئے۔اکہری پرت والا ماسک خاص طور پر عمومی ماسک سے زیادہ مفید ہے۔‏

‏ان‏‏ ‏‏کے صنعتی شراکت دار ریسل کیمیکلز بنگلورو اب بڑے پیمانے پر اس طرح کے دوہری پرت والے ماسک تیار کر رہے ہیں۔موجودہ فیس ماسک محض فلٹر کرتے ہیں اور وائرس کو باقی رکھتے ہیں انہیں ہلاک نہیں کرتے۔اس لیے اگر ماسک مناسب طور پر نہیں پہنے جاتے یا ٹھکانے نہیں لگائے جاتے ہیں تو ان سے منتقلی کا خطرہ رہتا ہے۔سادہ کثیر پرت والے کپڑے کے ماسک کوویڈ-19 کی منتقلی کو کم کرنے اور ان خود کار جراثیم کش کپڑے کے ماسک پہننے میں عوام کے استعمال کے لیے ایک عملی حل پیش کرتے ہیں۔ ‏

‏مزید برآں استعمال شدہ ماسک کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک بہت بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔کوویڈ-19 کے خلاف موثر زیادہ تر روایتی ماسک ایک بار استعمال کے لیے ہوتے ہیں اور بائیو ڈی گریڈایبل نہیں ہوتے جس سے ماحولیاتی خدشات اور کوڑے کے انتظام کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔مذکورہ اینٹی وائرل ماسک جو سوتی کپڑے سے بنایا گیا ہے بائیو ڈی گریڈایبل بھی ہے اور اس مسئلے کو بھی ختم کردے گا۔اس کے علاوہ اس سے سانس لینا آسان ہے اور یہ دھوئے جانے کے قابل بھی ہے۔