تلنگانہ میں بھی اب فوڈ جہاد ! !
میڈارم جاترا میں کھویا بن بیچنے والے کرنول کے شاہ ولی کویوٹیوب چینل کی جانب سے شدید ہراسانی
سوشل میڈیا پراس واقعہ کی شدید مذمت ، رکن اسمبلی پریٹالا سری رام کی بھی مذمت
حیدرآباد: 14۔ فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
گذشتہ دو ،چار دن سے ایک یوٹیوب چینل تیجسوی نیوز کا ویڈیو جہاں وائرل ہے وہیں اس ویڈیو کی مذمت میں بنائے گئے سینکڑوں ویڈیوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ آج بھی کروڑوں غیر مسلم بھائی بہن ایک مخصوص مذہب کے خلاف پھیلائے جارہے جھوٹ اور آپس میں نفرت پیدا کرنے کی اس سازش کو سمجھ چکے ہیں اور اس سے اوب بھی ہیں۔!
تلنگانہ کے ضلع ملگ میں سمکّا سارکّا جاترا (میڈارم جاترا) Sammakka Sarakka Jatara بہت بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔چار روز تک منائےجانے والے اس جاترا کو تلنگانہ کا کمبھ میلہ بھی کہا جاتا ہے۔
اس جاترا میں دوردرا ز مقامات سے چھوٹے دکاندار اور بیوپاری بھی اپنا اپنا سامان، کھلونے اور غذائی اشیاء فروخت کرنے کی غرض سے آتے ہیں.
ریاست آندھراپردیش کے ضلع کرنول سے تعلق رکھنے والے شیخ شاہ ولی بھی چار، پانچ رشتہ داروں کیساتھ کھویا بن(جسے حرف عام میں کھووا بن کہا جاتا ہے)فروخت کرنے کی غرض سے پہنچے تھے اطلاعات کے مطابق 30-40 سال سے یہ ان کا آبائی پیشہ ہے۔
جب جاترا میں شیخ شاہ ولی کھویا بن بیچ رہے تھے تو تیجسوی نیوز جو کہ یوٹیوب چینل ہے اپنے گروپ اور حامیوں کے ساتھ وہاں پہنچ جاتا ہے، شاہ ولی سے اتنے سوال کیے جاتے ہیں کہ وہ پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے۔
اس سے کہا جاتا ہے کہ اتنی کم قیمت میں وہ کھووا بن کیسے بیچ رہا ہے؟ اس بن کے پیکٹ پر تاریخ تیاری اور استعمال کرنے کی آخری تاریخ کیوں درج نہیں ہیں؟ کہیں اس میں دیگر مذہب والوں کو نامرد بنانے والی دوا تو نہیں؟ یقینا” اس کا کھووا بن بچوں اور بڑوں کے لیے جان لینا ثابت ہوسکتا ہے؟ پھر اس گودی گدھ نماء میڈیا کی جانب سے اس کو فوڈ جہاد کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ولی سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ خود کیوں اسے نہیں کھاتا ؟ جس سے مجبور ہو کر نم آنکھوں کیساتھ گھبرائے ہوئے ولی اپنا کھووا بن خود کھاکر بتاتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں!!
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگاکہ تیجسوی نیوز نامی اس یوٹیوب چینل کے 8 ہزار سبسکرائبرز ہیں اور اس ویڈیو کو ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے۔جبکہ فیس بک پر اس چینل کے پیج کو صرف 13ہزار اور انسٹاگرام پر اس کے 8 ہزار فالوورز ہیں۔
اس نفرت انگیز ویڈیو کا تھمب نیل بھی اس چینل کی جانب سے فوڈ جہاد کی سرخی کیساتھ بنایا گیا ہے۔چینل کے دیگر ویڈیوز اور تھمب نیل دیکھے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس چینل کو چلانے والوں کوجلد ترقی کی بھوک ہے اور ان کا اصل نشانہ ایک مخصوص مذہب کے لوگ اور چھوٹے بیوپاری ہیں۔!!
ایک ہفتہ قبل اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ایسے سینکڑوں ویڈیوز سامنے آئے ہیں اور ساتھ ہی ولی کو دیگر صحافیوں، سیاسی قائدین اور سماجی جہد کاروں کی زبردست تائید حاصل ہورہی ہےجو اس یوٹیوب چینل کے خود ساختہ گدھ نما صحافیوں کی جم کر مذمت کر رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافت کے نام پر اس چینل کے لوگوں نے جہاں شاہ ولی کی مذہبی توہین کی ہے وہیں علاقائی تعصب کا بھی اظہار کیا ہے۔
کئی ایک صحافیوں نے کرنول میں موجود شیخ شاہ ولی کے مکان پر پہنچ کر حقائق کو واضح کر دیا کہ ان کے علاقہ میں زیادہ تر افراد کا کاروبار اسی کھویا بن کا ہے۔صحافیوں نے اس علاقہ کے ہندو۔مسلم افراد سے بھی بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ برسوں سے یہ کھووا بن کھا رہے ہیں،ان کے درمیان کبھی بھی ہندو۔مسلم کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوا اور وہ سب مل جل کر رہتے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی تلگو کی اہم شخصیتوں نے بھی اس واقعہ کی مذمت اور شیخ شاہ ولی کی تائید میں ویڈیوز بناتے ہوئے کہا کہ صرف چند لائیکس اور ویوز کے لیے ایسی حرکتیں ایک سچا صحافی ہرگز نہیں کرتا، صحافتی اقدار سے ناواقف، خود کو صحافی بتانے والے جاہل ہی ایسی منافرتی ویڈیوز بناسکتے ہیں۔!
زیادہ تر سیکولر ذہن کےحامل برادران وطن ٹوئٹر پر چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی اور ڈی جی پی تلنگانہ کو ٹیگ کر کے ان سے اپیل کر رہے ہیں کہ اس یوٹیوب چینل اور اس کی ٹیم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے،ورنہ تلنگانہ میں بھی نام نہاد صحافیوں کے ذریعہ صرف پیسہ کمانے کی غرض سے ایسی مذہبی نفرت کو پھیلانے کے لیے حوصلہ حاصل ہوگا۔
اس معاملہ میں آندھرا پردیش کے حلقہ اسمبلی دھرماورم کے رکن اسمبلی پریٹالا سیتا رام جن کا تلگو دیشم پارٹی سے تعلق ہے نے اس واقعہ پر کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ
” بھوک کی کوئی ذات نہیں ہوتی، عزت نفس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس شخص کا احترام کرے جو سخت محنت کرتا ہے اور اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے۔
روٹی بیچنے والے غریب تاجر کی زندگی کو اس طرح سڑک پر گھسیٹنا ظلم ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یوٹیوب پر ویوز اور لائکس کے لیے کچھ لوگ ایسے کام کرتے ہیں، ہوسکے تو غریبوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں،لیکن ان کی آواز کو اس طرح دبانا درست نہیں۔
میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس چھوٹے تاجر کی حمایت میں کھڑے ہیں اور اس واقعہ کی مذمت کررہے ہیں۔سوشل میڈیا پر اس بیوپاری کوملنے والی حمایت کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔انہوں نے اس ٹوئٹ کیساتھ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا ہےجو کہ کرنول کا ہے۔ "
ఆకలికి కులం ఉండదు, ఆత్మగౌరవానికి మతం ఉండదు. కష్టపడి పనిచేసుకొని కుటుంబాన్ని పోషించుకునే ప్రతీ ఒక్కరినీ గౌరవించాల్సిన బాధ్యత అందరిపై ఉంటుంది. ఒక కోవ బన్ విక్రయించుకునే పేద చిరు వ్యాపారి జీవితాన్ని ఇలా రోడ్డుపైకి లాగడం దారుణం. యూట్యూబ్లో వ్యూస్, లైక్స్ కోసం కొంద… pic.twitter.com/2bammWbuTe
— Paritala Sreeram (@IParitalaSriram) February 13, 2026
" انسانیت کا درد رکھنے غیر مسلم برادران وطن ولی شاہ کی مالی کے لیے آگے بھی آ رہے ہیں "
కడుపు కొట్టేవాడు కాదు అసలైన హిందువు 👈
కడుపు నింపే ఇలాంటోడు… అసలైన హిందువు ✊ pic.twitter.com/bTcn3Ynq4P
— చైతన్య కొల్లా (@kolla_ch1) February 14, 2026
Orey Papam raa 🥺💔💔 pic.twitter.com/S3TvrQp9bM
— 𝐑𝐚𝐠𝐮𝐥𝐮𝐭𝐮𝐧𝐧𝐚 𝐘𝐮𝐯𝐚𝐭𝐡𝐚𝐫𝐚𝐦 (@KarnaReddy4512) February 13, 2026
These people are creating ruckus by targeting the person selling kova bun for only ₹ 10. Would these same people go to a five star hotel or a big beakeri and ask the same questions? Why are these people spreading so much hatred in Telangana? #HumanityOverReligion pic.twitter.com/RYuJrkX6Dz
— shamshadkh@n (@shamshadBRS) February 13, 2026
ఇతనిని ఇబ్బంది పెట్టిన వాళ్లపై నవ్వొస్తుంది .
కట్టుకథల మతాలు , దేవుల్లను ఆరాధించేలా చేసిన సమాజం పై , ఉన్న మతి పోయేలా చేసిన చదువు పై , సామాజిక విలులపై కొంచమైనా ఆలోచించలేని మీ మొహాలకు పది రూపాయలకే కోవా బన్ ఎలా వస్తుంది , 350 కే కేజీ నెయ్యి ఎలా వస్తుందనే ఆందోళన అవసరమా.? pic.twitter.com/GFmxglJOo0— Chandra Singam (@Singam1Chandra) February 12, 2026
HUMANITY IS ALIVE ❤️ pic.twitter.com/kxzqYthHEZ
— Telangana365 (@Telangana365) February 12, 2026
Heartening to see the Kova Bun vendor receiving support from across Telangana. Heartening to see people reject hate and stand together. ❤️
Hope @revanth_anumula takes action against those YouTubers attempting to divide the state along Hindu–Muslim linespic.twitter.com/rbiF6RUzrl— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 13, 2026

” یہ بھی پڑھیں ”

