تلنگانہ حکومت نے نفرت انگیز، اشتعال انگیز تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹس کی روک تھام کے لیے بِل کو منظوری دے دی، پیرنٹس بِل بھی منظور

تلنگانہ حکومت نے نفرت انگیز،اشتعال انگیز تقاریر  اور سوشل میڈیا پوسٹس
کی روک تھام کے لیے بِل کو منظوری دے دی،پیرنٹس بِل بھی منظور

حیدرآباد :23۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)

حکومت تلنگانہ نے ایک سخت قدم اٹھاتے ہوئے ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل پیدا کرنے،اشتعال، نفرت انگیز تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعہ تشدد کو ہوا دینے والے اقدامات سے نمٹنے کے لیے  "تلنگانہ نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم کی روک تھام بل 2026” کو آج   23   مارچ کو ریاستی اسمبلی کے کابینہ کے اجلاس میں منظوری دے دی ہےجو کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

یاد  رہے کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں برسر اقتدارکانگریس حکومت نے18ڈسمبر2025 کو نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم (روک تھام) بل کو منظوری دی تھی جو کہ ہندوستان میں اس طرح کا یہ پہلا قانون ہے ۔

اس کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے اعلان کیا تھا کہ ریاست تلنگانہ میں بھی اسی طرز کا بل لایا جائے گا ۔ تلنگانہ میں آج منظورہ یہ بل ابھی تک ایک ایکٹ نہیں ہے کیونکہ ریاستی گورنر تھاور چند گہلوت نے اس کے آئینی جواز پر تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے اسے صدر جمہوریہ ہند کے جائزے کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

نفرت انگیز تقریر بل ایک غیر ضمانتی جرم ہے جو زبانی طور پر، سوشل میڈیا پر یا پرنٹ میں کی جانے والی تقاریر کو مجرمانہ عمل قرار دیتا ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانا ہے۔ریاست کرناٹک میں اس بل کی منظوری کے بعد اشتعال انگیزی اور نفرت پیدا کرنے والے بیانات اور احتجاج میں قابل قدر کمی دیکھی گئی ہے۔!

اطلاعات کے مطابق اس بِل کو صدرجمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرموسے منظوری کے بعد تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل پیدا کرنے ،اشتعال انگیز، نفرت انگیز تقاریر کرنے ،  بیانات دینے اورنفرت انگیز سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعہ تشدد کو ہوا دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی چاہے وہ سیاستداں ہوں یا مذہبی قائدین یا پھر سوشل میڈیاصارفین ہوں جن کا کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ ہو !!

ساتھ ہی تلنگانہ کی ریاستی کابینہ نے آج والدین سپورٹ بل(Parents Support Bill) کے مسودے کو بھی منظوری دے دی ہے جس کے تحت والدین کو نظر انداز کر نے   والے سرکاری اور نجی ملازمین کی تنخواہ میں سے 10,000 روپے یا 15 فیصد کٹوتی کی جاسکتی ہےاور یہ رقم ان کے والدین کو دی جائے گی۔

تانڈور میں نماز عیدالفطر