تانڈور میں آپسی سیاسی رسہ کشی کے باعث کوئی ترقی نہیں ہوئی
ارکان بلدیہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں
بلدیہ تانڈور کے اجلاس سے رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی کا خطاب
وقارآباد/تانڈور : 31۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
بویانی منوہر ریڈی رکن اسمبلی تانڈور نے دو ٹوک لہجے میں کہا ہے کہ وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور میں گزشتہ چار سال کے دؤران سیاسی آپسی رسہ کشی اور انا کےباعث کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلدیہ تانڈور کےمنتخب ارکان نے اپنی معیاد کےچار سال مکمل کرلیے ہیں لیکن عوامی مسائل جوں کے توں موجود ہیں اور تانڈور کی ترقی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔
رکن اسمبلی نے انتہائی متانت کے ساتھ ارکان بلدیہ کو مشورہ دیاکہ اب ان کی معیاد ایک سال باقی رہ گئی ہے لہذا اب اس ایک سال کے دوران اپنی انا اور سیاسی رسہ کشی کو ختم کرتےہوئے بلدی حلقوں کےمسائل کےحل کو ترجیح دیں توعوام انہیں دوبارہ ووٹ دےکر کامیاب بنائیں گے۔رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی آج صدرنشین بلدیہ تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کی زیر صدارت منعقدہ بلدیہ تانڈور کے اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

قبل ازیں گزشتہ ماہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنےکے بعد آج پہلی مرتبہ رکن اسمبلی اجلاس میں شرکت کی غرض سے دفتر بلدیہ پہنچے تو انہیں صدرنشین بلدیہ، ارکان بلدیہ اور بلدی عہدیداروں نے تہنیت پیش کی۔ان کے ساتھ یوم جمہوریہ کے موقع پر بہترین مینیجئر بلدیہ اور بہترین ڈی ای بلدیہ تانڈور کے طور پر ضلع کلکٹر وقارآباد سے ایوارڈز حاصل کرنے والے نریندر ریڈی اور محمد خواجہ کو بھی تہنیت پیش کی گئی۔

بلدیہ کے اجلاس سے اپناخطاب جاری رکھتےہوئے رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے ارکان بلدیہ کو مشورہ دیا کہ گزشتہ چار سالہ معیاد کے دؤران کی گئی لاپرواہی اور سیاسی رسہ کشی کو بالائے طاق رکھتےہوئے تانڈورکے اپنے اپنے بلدی حلقوں کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیں۔ رکن اسمبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی جماعتوں سے اپنی وابستگی کو صرف انتخابات کی حد تک ہی محدود رکھا جائے اور نتائج کے بعد تانڈور کی ترقی کو ترجیح دی جائے۔
رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی اپنے خطاب میں کہاکہ چونکہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا تعلق ضلع وقارآبادکے کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے ہی ہے تو ضلع اور اسمبلی حلقہ جات کی ترقی کے مواقع زیادہ حاصل ہونگے۔انہوں نے تیقن دیا کہ تانڈور کی ترقی کے لیے وہ وزیراعلیٰ سے لگاتار نمائندگی کرتے رہیں گے اور ان کا مقصد صرف حلقہ اسمبلی تانڈور کی ترقی ہے۔
اجلاس کے اختتام کےبعد منعقدہ پریس کانفرنس میں اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرواتےہوئے صدرنشین بلدیہ سواپنا پریمل نے بتایا کہ آج اجلاس کا پرامن اختتام عمل میں آیا انہوں نے کہاکہ اب تک مداخلت اور سیاسی مخالفت کےساتھ اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔آج 24 نکاتی ایجنڈہ میں سے 22 نکات کو منظوری دی گئی جبکہ دو نکات کو ارکان بلدیہ کی اکثریت نے مسترد کردیا جس میں طئے بازاری، سلاٹر ہاؤز اور سنگ بنیاد کی تیاریوں کے نکات شامل ہیں۔
بلدیہ تانڈورکے اس اجلاس میں کمشنر بلدیہ محمدشفیع اللہ، نائب صدرنشین بلدیہ پٹلولا دیپا نرسملو، بی آر ایس فلورلیڈر شوبھا رانی،مجلسی فلورلیڈر سید ساجد علی، کانگریس، مجلس،بی آر ایس،بی جے پی اور ٹی جے ایس کے ارکان بلدیہ سوما شیکھر،عبدلرزاق،محمد آصف،محمدمختار احمد ناز،محمد اسلم،
سیدہ سلمی فاطمہ، معراج بیگم، وجیہ دیوی، پی اے بومبینا، آفرین جویریہ، نیرجا بال ریڈی، پربھاکر گوڑ، بویا روی، وینکنا گوڑ،ممتا،رتنا مالا، بالپا،ساہو سری لتا،سنگیتا ٹھاکر،سندھوجا گوڑ، پروین گوڑ کے بشمول معاون ارکان بلدیہ عبدالقوی، وینکٹ رام کے علاوہ بلدی عہدیدار شریک تھے۔

